گلشن کی خرابی کا ٹھیکہ مالی کو د لانا بہتر ہے

ہم تو مخالف سیاست دان نہیں کہ آتے جاتے بیچ سڑک پر یہ نعرہ لگاتے پھریں :چوکیدار چور ہے ۔آج کل چوکیداری اور چوکیداروں کا موسم چل رہا ہے اور بڑے زوروں سے چل رہا ہے ۔ ہر چوراہے ہر سڑک پر چوکیدار کسی مہلک بیماری کی طرح پھیلے ہیں۔ سی ای او سے لے کر کلینر تک چوکیداری کا دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں ،یعنی ہزار تا لاکھ تنخواہ پر چوکیدار کام کر رہے ہیں اور کچھ تو بس نام کمانے کے لئے اور کئی ایک بس چوکیداروں کی فہرست میں آنے کے لئے چوکیدار بنے پھر رہے ہیں تاکہ وہ بھی گنتی میں آ سکیں ۔ادھر اپنے ملک کشمیر میں ساتویں کے طالب علم نے ووٹنگ مشینیں ہٹانے کی جو کوشش کی تو سی آر پی والے چوکنے تھے چوکیدار تھے ،بھلا کسی پرندے کو پر مارنے کی اجازت دیتے ، فوراً حرکت میں آگئے ۔ تیرہ سالہ’’ شدت پسنداور مشین چور ‘‘کبھی ایک زاؤیے سے کبھی دوسری گلی سے جھپٹ پڑتا،چھلانگ مارتا ، کود جاتا ،مانو انگریزی فلموں کا سپائڈر مین (spiderman)تھا ۔سین تو دیکھنے لائق تھا کہ روکاوٹیں پھلانگتا وہ بچہ کس طرح ننھے ہاتھوں میں ووٹنگ مشینیں لپک لیتا تھا ۔ جب کچھ نہ چلا تو وردی پوش چوکیداروں نے پیلٹ گولی مار کرننھی کلی کو ڈھیر کر دیا ۔ یہ ہوئی ہوشیاری یہ ہوئی چوکیداری !اب چوکیدار بھی پریشان ہیں کہ یہ کشمیری بچے کونسی چکی کا پسا آٹا کھاتے ہیں کہ رضوان پنڈت کی طرح پولیس حراست میں مر جانے کے بعد بھی بھاگ جانے کی کوشش کرتے ہیں اور کپوارہ کااویس تیرہ سالہ بچہ جس کے ابھی کینچے کھیلنے کے دن تھے، فورسز اہلکاروں سے خالی ہاتھ بھِڑ جاتا ہے ،حملہ کرتا ہے اور ووٹنگ مشینیں کندھے پر لاد کر بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔مانا کہ بہادر نڈر اور ہوشیار فورسز اہل کار بھلے ہی لیتہ پورہ میں شکار ہو گئے لیکن روز روز حملہ آور کامیاب نہ ہو سکتے ۔پلوامہ حملے سے جو سبق سیکھا تیرہ سالہ بچے پر آزمایا ۔بسیار کوشش کے باوجود اسے مشینوں کے قریب پھٹکنے نہ دیا گیا اور اپنے پولیس اہل کار کبھی جھوٹ بولتے نہیں، اس لئے ان کے پریس نوٹ پر بھروسہ کرناہی پڑے گا۔بقول پولیس سی آر پی اہل کاروں نے’’ آتم سرکھشا‘‘( سیلف ڈیفنس) میں  پیلٹ گولی چلا دی ۔ تیرہ سالہ حملہ آور جاں بحق ہوا ۔فورسز کے لوگ بھی اس کے عتاب سے بچے ، مشینیں بھی چوری ہونے سے بچ گئیں اور امیدوار بھی دوبارہ پولنگ کے جھنجٹ سے نجات پا گئے ۔اسے کہتے ہیں تھری اِن وَن کامیابی!
ادھر تو بھارت ورش میں مودی اینڈ کمپنی چوکیداری کا کام کرتے نہیں تھکتے ادھر ان کی سابق جوڑی دار بھی ملک کشمیر میں چوکیداری پر مامور ہی نہیں مشغول بھی ہے اور الیکشن کے موسم میںچوکیداری کا دم بھی بھرتی ہے۔بانوئے کشمیر نے اعلان فرمایا کہ تم لوگ میری الیکشن سبھا میں آئو نہ آ ئو پر یاد کرو میں نے ہی تمہاری چوکیداری اتنے برس کی۔وہ جو تم دودھ ٹافی لینے فورسز کیمپوں میں چلے جاتے تو میں خیال رکھتی کہ بھلے خون زمین پر گرے لیکن دودھ فرش ِزمین پر چھلک نہ جائے۔ اسی لئے تو مخالفین ایک سو بیس لاشوں کا حساب رکھتے ہیں لیکن میں دودھ کے ایک ایک قطرے پر نظر رکھتی تھی۔بھلے پیلٹ کا شکار ننھی معصوم آنکھیں ہو جائیں پر کہیں ٹافی ضائع نہ ہونے پائیں، جبھی تو میں نے شکار بچوں کو لیپ ٹاپ دلوائے تاکہ ان پر گیم کھیلتے رہیں۔ چوکیداری کا یہ وقت دیکھو جب قطبین ملانے کا خواب مرد مومن دیکھ کر ملک عدم سدھار گئے تھے اور اس بیچ پرو ہتانِ ناگپور مفتیانِ بیج بہاڑہ پر سبقت لے کر اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہاتھا۔ کھوکھلا بھلے ہی ہو رہے تھے پر بیدار اور ہوشیار برابر تھے ۔بچے بچے پر نظر تھی کہ دودھ ٹافی تک کا حسا ب بھی برابر رکھے ہوئے تھے۔البتہ چوکیداری میں اس وقت چوک ہو گئی جب دُزدانِ ناگپور مفتیان کی نیچے سے کرسی کھسکا کر لے گئے۔  
دودھ ٹافی کی چوکیداری کے کاغذات دکھاتے ہوئے اور اس بات  کے اعلان کے بیچ پیر صاحب آف اَجس بھی نیند سے جاگے ۔قطبین کے ملاپ کے دوران گنڈے تعویذ لکھتے رہے کہ یہ ملاپ کہیں فلاپ نہ ہو جائے کیونکہ اتنے برس بعد اچھی سے یومیہ اجرت والی نوکری ملی ہے ۔کہیں ملاپ ٹوٹا تو اتنے سال ڈیلی ویجر رہنے کے بعد بھی مستقل نوکری ممکن نہیں اور کوئی نو مہینے جو گزرے تو نیند سے جاگنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ ناگپوری ایجنڈا اصل میں نفرت اور سماج کو توڑنے کا کام کرتا ہے ۔ہو نہ ہو یہ بات قلم دانی مرشد نے خواب میں آکر سنا دی ہو۔فوراً پیر مریدی میں یہ جھاڑ پھونک جاری کردی کہ کنول برداروں کا  توڑ مروڑ والا ایجنڈا کشمیر میں شکست کھائے گا    ؎
ہم سے عابد اپنے رہبر کو یہ شکایت رہ گئی
آنکھ موندھے ان کے پیچھے چلنے والے ہم نہیں
کشمیری نوجوانوں کی چوکیداری والی یومیہ ملازمت میں اپنے ہل والے ٹویٹر ٹائیگر بھی پیچھے نہ رہے ۔ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو اس نے بھی وامق فاروق اور طفیل متو کی چوکیداری کی تاکہ ان کا پاک خون رائیگان نہ ہو۔مانا کہ اس کے دور میں ۲۰۱۰ء میں بھی فقط ایک سو دس سے زیادہ میتیوں کی چوکیداری کی گئی، پر دودھ ٹافی آنٹی پر وار ٹویٹر کے ذریعے کر ہی دیا ۔ فوراً کہیں ٹویٹر کی چڑیا کے پنکھ کھول دئے، کہیں اونچا رہے گا ہل والا جھنڈا والے مارچ پاسٹ میں بڑے راز کی بات افشاء کردی کہ بھاجپا ،پی ڈی، پی سی نے کشمیر کو تباہ کیا ۔ یہ ہوئی نا بات ہم تو اس بات سے نا بلد ہی تھے کہ اتنے بڑے راز سے پردہ اٹھایا ۔بھلا اب کون کہہ سکتا ہے کہ ہل والے اہل کشمیر کے خیر خواہ نہیںیا کشمیری نوجوانوں کے چوکیدار نہیں۔اس بیچ ہندوارہ بریگیڈ نے بھی چوکیداری کا کام کرتے ایک اور راز سے پردہ ہٹایا۔ وہ یوں کہ بقول اس کے ہل بردار کشمیر میں موت او رتباہی کے رقص کی ذمہ دار ہیں۔مطلب یہ کہ جب بھی نوائے صبح سے گپکارتک نیشنل فوج کا مارچ پاسٹ ہوا سونہ مرگ سے سورسیار اور کھنہ بل سے کھادن یار تک آ ہ فغان جاری رہا۔
چوکیداری جاری ہے تو لگے ہاتھوں شاہراہ ۴۴ پر بھی بن بلائی چوکیداری شروع ہوئی۔فوجی تو کہتے ہیں ہم نے مانگی نہیں ۔نیم فوجی کہتے ہیں ہم سے پوچھا نہیں لیکن اپنے وائسرائے کشمیر نے سوچا چلو بونس میں کچھ دے دیتے ہیں ۔دلی دربار نے افسپا دیا ، خود نیشنل سرکار نے پی ایس اے دیا ہم بھی راج بھون کی طرف سے کوئی بڑا تحفہ دے دیتے ہیں ۔دائیں بائیں نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ یہ اہل کشمیر کمزور ہی سہی ۳۷۰؍ اور ۳۵؍الف کے سبب زمین خریدنے نہیں دیں گے ،اس لئے سوچا چلو شاہراہ ہی ان کے نام منتقل کرتے ہیں۔یا یوں کہ وردی پوش کو بھلے ہی نہ چاہیے مگرپنے اہل کشمیر سے کچھ چھین ہی لیتے ہیں ۔وہ جو اعتراض کرنے کا حق ، احتجاج کرنے کا حق ، زندہ رہنے کا حق پہلے ہی افسپا اور پی ایس اے کی کرم نوازی سے من تُو شدم کے مہاساگر میں کھو چکے ہیں ،اب ان کا عبور و مرور کا حق بھی چھین لیتے ہیں ۔ ہل بردار اور اہل قلم دان بیچ سڑک بیٹھ کر واویلا مچاتے ہیں چلو دیکھتے ہیں ان میں کتنا ہے دم ؟ اس کے بعد کیا اُکھاڑ لیتے ہیں۔بے چارے قسمت کے مارے ،الیکشن جیت کے تارے، کرسی کے نیارے، اقتدار کے پیارے، راج تاج کے دلارے ، سیاست کے مارے کسے آنکھیں دکھا سکیں گے؟جبھی تو ملک کشمیر کی شاہراہ پر کہیں ٹھپہ تو کہیں تھپڑ چلا ۔وہ جو غریب کشمیری کے ہاتھ اجازت نامے کا ٹھپہ لگاتے تھے آج اس کے منہ پر تھپڑ پڑا، پیٹ پر لات ، سینے پر مکا ، جسم پر دھکا، اور ان سب چیزوں پر تو احتجاج بھی نہیں کہ یہ وردی والوں کا کیا کرایا ہے۔کسے نہیں معلوم ودری پوشوں کا چوکیدار تو راج بھون میں تشریف رکھا ہوا ہے اور خود وردی پوشوں کے گرد افسپا کا آہنی خول چڑھا ہے ۔بھلا اسے کون چیر پھاڑ سکتا ہے؟    ؎ 
اُف یہ افسپا بھی کیا ساز ہے
بج رہا ہے اور بے آواز ہے
اور وہ جو بے چارہ عام لوگوں کی مجسٹیریل انکوئیری کراتا تھا آج اس پر کوئی انکوئیری کرتے دِکھتا نہیں ۔اسے کہتے ہیں تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب انکوئیری سے لگتا ہے ،کیونکہ اپنے ملک کشمیر میں یہ انکوئیری نام کی ابلا ناری روز روز سرکاری گماشتوں کے زبانی تماشوں کا شکار بنتی ہے ۔پھر یہ بے کار ، بے روزگار دفتر دفتر گھومتی ہے اور بعد میں سرکاری الماری کی گرد آلود تہہ خانے میں ایسے دَب جاتی ہے کہ سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے ۔اگر پھر بھی سستاتے ، لنگڑاتے  پیدل سفر کرتے کہیں دلی دربار میں پہنچ جاتی ہے ،تو اسے خان سوٹ میں لپیٹ کر انہی لوگوں کے درمیان پھینکا جاتا ہے جنہوں نے ا س کا بلاتکار کردیا ہو۔  
خان سوٹ سے نکل کر کہانی لباس کی طرف ہی پہنچی۔وہ جو ناگپوری چڈی بھکت جنوں کو جدا دکھاتی تھی کہ دور سے ترشول برداروں کے قائد سمجھیں لیکن اعظم خان تو اس ڈریس کا تذکرہ کرنے پر پھنس گیا ۔نیچے تو چڈی خاکی ہی ہے جملے پر الیکشن کمیشن نے پابندی لگا دی ۔ اب تو کہتا ہے کہ مودی مہاراج تو روز جملوں کی بارش کرتا ہے، بھلا اسے کوئی کیوں نہیں پوچھتا ؟خیر کپڑوں کی بات چل ہی نکلی ہے تو وہ بھاجپا لیڈر بھی کیا کھا کر پیدا ہوا ہے کہ اس کا دماغ کہاں کہاں کی سیر کرتا ہے؟جبھی تو  اس نے مسلمانوں کو پہچاننے کی بات کی ۔ مسلمان کپڑے اتارتے ہی پہچانے جا سکتے ہیں، بھاجپا لیڈر نے اپنی ذہانت کا ثبوت دے دیا لیکن بھائی ہم بھی کچھ کم نہیں کیونکہ بھاجپائی منہ کھولتے ہی پہچانے جا سکتے ہیں کہ یہ لوگ مغلظات پر اتر آتے ہیں ، یہ ہمارا دعویٰ ہے۔ 
ہے خبر گرم کہ الیکشن ٹائم میں اُمیدوار حلفیہ بیان دائر کرتا ہے۔۲۰۱۴ میں سنا ہے سمرتی ایرانی نے بیان دیا تھا کہ وہ گریجویٹ ہے پر اب کی بار ستم گران ِ سیاست کہتے ہیں کہ اس نے بارہویں پاس ہونے کا حلفیہ بیان داخل کیاہے۔واہ مودی جی واہ! آ پ کے وزراء تعلیم میں پیچھے کی طرف دوڑ لگاتے ہیں، جب کہ باقی لوگ آگے چلتے ہیں ۔ دروغ بر گردن راوی جس نے یہ کہانی سنائی کہ سمرتی ایرانی نے یوگی آدتیہ ناتھ سے رابط کیا کہ کوئی حل نکالے۔یوگی جی تو پچھلے اڑھائی سال میں نام بدلنے کے سوا کچھ بھی نہ کر پایا ۔ چونکہ یوگی نام کرن میں مشہور ہے، اس نے فوراً بارہویں کا نام بدل کر گریجویشن کردیا۔یہ ہوئی نا بات !اسی لئے کہتے ہیں مودی ہے تو ممکن ہے اور اب کی بار مودی سرکار نے نیا ممکن کر دکھایا ۔ مالیگائوں بلاسٹ جس میں سو کے قریب مسلمان مارے گئے تھے، اس کیس میں ماخوذ ملزم سادھوی پرگیہ سنگھ کو مودی سینا میں شامل کر لیا گیا اور ساتھ میں انعام کے طور لوک سبھا الیکشن کا ٹکٹ بھی انعام کے طور دے دیا گیا ۔انعام کی حق دار تو وہ ہے ہی گرچہ ابھی عدالت میںاس کے خلاف آنتک واد کیس چل ہی رہا ہے ۔مالیگائوں ملزمین کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئو ، این آئی اے افسر نے وکیل صفائی سے کہا تھا۔عدالتوں سے چھٹکاراپانا کوئی مودی شاہ پرائیویٹ لمیٹڈ سے سیکھے۔مگر جوتے کو کیا کہیے ،اس سے رہا نہ گیا ،اُڑ کر ان کے سر لگا جو بھاجپائی سادھوی کی حمایت پریس کانفرنس میں کر رہے تھے۔ دروغ بر گردن راوی جس نے یہ اطلاع دی کہ امت شاہ آج کل جیلوں کی یاترا پر ہیں تاکہ پارٹی کے لئے مزید اچھے امیدوار تلاش کرے۔اب کی بار مودی سرکار نے بھارت وَرش کے غریبوں پر جو سرجیکل اسٹرائک مار دی تھی ،اسے زبان ِ ولایت میں Demonitization  کہتے ہیں ۔ بے چارے غریب لوگ انگریزی کیا سمجھیں، انہیں تو تب پتہ چلا جب نوٹ بندی کے بعد دو سال میں پچاس لاکھ لوگ کام کاج سے محروم ہو گئے۔عظیم پریم جی یونیورسٹی سینٹر برائے پائیدار روزگار Center for sustainable employment   نے اس کا خلاصہ کیا ہے اور مودی بھکت جلد ہی عظیم پریم جی دانش گاہ کو ملک دشمن قرار دیں گے، اُسے مملکت خداداد کا ٹکٹ دلوائیں گے ،کیونکہ مودی ہے تو ممکن ہے!!   
رابط ([email protected]/9419009169)