! گذرگیا رمضان اور گذرگئی عید بھی

جاوید اختر بھارتی
ابھی ایک ہفتہ قبل کتنا بابرکت مہینہ تھا،، رات کے آخری حصے میں نیند سے بیدار ہونا، سحری کھانا، نماز فجر ادا کرنا، قرآن کی تلاوت کرنا، ذکر و اذکار کرنا اور اس کے بعد کاروبار میں لگنا دوپہر ہوگیا۔ مسجد کے میناروں سے مؤذن نے اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا بلند کی، ہم سب  نے اپنے کاروبار کو بند کردیا اور مسجد کی طرف نماز ظہر ادا کرنے کے لئے چل دیا، بمشکل بیس منٹ لگے،ہم نے ظہر کی نماز اداکرلی، چار رکعت سنت پڑھی فرض کے برابر ثواب ملا، چار رکعت فرض ادا کیا ستر فرض کے برابر ثواب ملا، دورکعت سنت اداکی پھر فرض کے برابر ثواب ملا ،واپس گھر آگئے اور گھریلو کاموں اور دیگر ضروریات کی تکمیل میں مصروف ہوگئے۔ سہ پہر کو پھر مؤذن نے اذان کے کلمات کو بلند کیا اور آواز ہمارے کانوں سے ٹکرائی، ہم پھر مسجد کی طرف دوڑ پڑے۔ ، وضو خانے پر بھیڑ ہے، ہم وضو بنانے والوں کے پیچھے کھڑے ہیں، ایک بندہ وضو سے فارغ ہوا تو ہم نے وضو بنایا اور وضو بناکر ہم بھی فارغ ہوئے تو اقامت ہونے لگی ۔امام صاحب مصلے کی طرف بڑھے تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہم نے بھی نیت باندھ لی، بمشکل آٹھ منٹ میں امام صاحب نے چار رکعت فرض نماز پڑھائی اور ہم نے پڑھی، پھر ستر فرض کے برابر ثواب ملا، اس طرح نماز عصر ادا ہوگئی۔ اب مسجد سے باہر نکلے اور گھر میں داخل ہوتے ہیں تو سب کے چہروں پر نگاہ پڑتی ہے تو دیکھتے ہیں کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے سب کے چہروں پر رونق ہے، دل میں خیال آیا چلو اب افطاری کا انتظام کیا جائے کیونکہ اب جو اذان ہوگی تو پہلے نماز نہیں پڑھنا ہے بلکہ پہلے روزہ افطار کرنا ہے۔

اب اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کتنا رحمان ورحیم ہے اور اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے کہ اس کا فرمان ہے کہ جب وقت پورا ہوجائے تو فوراً افطار کرو تاخیر نہ کرو۔ اب کوئی شخص یہ سوچے کہ میں ابھی اور کچھ وقت تک روزہ رکھوں گا تو جان لو کہ اَب اسے تاخیر کرنے پر ثواب نہیں ملےگا بلکہ وہ تاخیر کرے گا تو مکروہ ہو جائے گا اور جان بوجھ کر مکروہ کام کرنا بھی گناہ ہے۔ اس لئے ہمیں مکروہات سے بچنا ضروری ہے۔

بعد نماز عصر باہر افطاری کے سامانوں کی خریداری کے لئے خوب چہل پہل ہے کھجوریں ہیں، مختلف قسم کے پھل فروٹ ہیں، طرح طرح کے میٹھے ہیں، جوس ہیں، ہر شخص خریداری میں لگاہوا ہے اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق افطاری کا انتظام کرنے کے بعد بندہ گھر آتا ہے تو گھر پر بھی مختلف قسم کے کھانے بن رہے ہیں، سب کچھ تیار و مکمل ہونے کے بعد دسترخوان لگا ،مختلف لوازمات سے دسترخوان کو سجادیا گیا مگر کوئی بھی بندہ کھا نہیں رہا ہے حالانکہ سب کے پاس موبائل ہے، گھڑی ہے اور گھر کے اندر سحری و افطار کے اشتہار بھی دیواروں پر ٹنگے ہوئے ہیں، پھر بھی ذکر و اذکار کررہا ہے اور مؤذن کے ذریعہ اذان کے کلمات کے پکارنے کا انتظار کررہا ہے، وقت مقررہ پر مساجد سے اذان کی صدائیں بھی آنے لگیں تب بندہ منہ میں کھجور ڈالتا ہے اور پانی پیتا ہے اور دل و زبان سے یہ کہہ رہا ہے کہ اے اللہ! ہم نے تیرے لئے روزہ رکھا، اور تجھ پر ایمان لائے اور تیرے اوپر بھروسہ کیا اور تیرے دئیے ہوئے رزق سے افطار کیا۔ اب افطار کرنے کے بعد نماز مغرب ادا کرنے کے لئے مسجد کی طرف چلتا ہے اور نماز مغرب ادا کرتا ہے تین رکعت فرضِ مغرب ادا کی اور دورکعت سنت یعنی پہلے ستر فرض کا مستحق ہوا پھر سنت ادا کرکے بھی فرض کا مستحق ہوا۔ اب کچھ آرام کرنے کے لئے سوچ رہا ہے اور آرام کے بعد ابھی تھوڑا تفریح کرہی رہا تھا کہ پھر مؤذن نے صدا بلند کی کہ اللہ سب سے بڑا ہے ،اللہ بہت بڑا ہے ۔اب بندہ پھر چلا نماز عشاء کی ادائیگی کے لئے مسجد کی طرف اور وضو بناکر نماز عشاء پڑھی فرض نماز عشاء پڑھنے کے بعد بیٹھا ہے کہ سنت اور وتر پڑھ کر نکل چلوں کہ اتنے میں نماز تراویح بھی شروع ہوگئی ،بعض لوگ تراویح میں شامل ہوتے بعض لوگ بغیر تراویح پڑھے مسجد سے نکل جاتے ۔میں نے تو اکثر و بیشتر علاقوں میں ایسا ہی دیکھا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد کیا اب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا ایک سال کا کوٹہ پورا ہوگیا؟ اگر ہاں تو پھر کوئی اسے ثابت کرے اور نہیں تو پھر مسجد سے اذانیں آج بھی ہورہی ہیں، امام مصلے پر کھڑے ہوکر آج بھی نماز پڑھاتے ہیں، گھروں میں اور مساجد میں قرآن آج بھی رکھے ہوئے ہیں ،پھر یہ سارا معاملہ ٹھپ کیوں ہوگیا ؟اس کا مطلب کہ ایک مہینہ روزہ رکھ کر، تراویح میں قرآن سن کر، ایک مہینہ نمازیں پڑھ کر بھی ہمارے اوپر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوسکا۔ یعنی ابھی ہفتہ دس دن پہلے تک ہم ایک فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر لے رہے تھے اور آج ایک دن میں پانچ مرتبہ جہنم کے دروازے پر نام لکھانے لگے، یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے۔ اس سے تو نیت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ ہم نے رمضان میں مسرور ہوکر عبادت کی تھی یا مجبور ہو کر کی تھی۔ ایک رسم سمجھ کر کی تھی یا خلوص کے ساتھ کی تھی۔ یاد رہے کہ اللہ دلوں کا حال جانتا ہے اور وہ ستر گنا اجر و ثواب دے سکتا ہے تو سات سو گنا زیادہ دینے پر بھی قادر ہے۔ اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے۔ رمضان کی عبادات اور اس کے اجر و ثواب تو بندے کے لئے ایک تحفہ ہے بلکہ بھاری بھرکم آفر ہے، اجر و ثواب میں زیادتی کی شکل میں اور لیلتہ القدر جیسی عظیم و مقدس رات عطا کرکے اللہ ربّ العالمین نے اپنے بندوں پر انعام و اکرام کے طور پر عظیم احسان کیا ہے اور اب بندہ اس میں بھی چالبازی و چالاکی کرنے لگے تو یاد رکھنا چاہیے کہ نہ تو وہ اللہ کو دھوکا دے سکتا ہے اور نہ ہی اللہ کے نیک بندوں کو دھوکا دے سکتا ہے، بلکہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہا ہے، اس لئے کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ اس لئے ہمیں ماضی، حال اور مستقبل پر نظر رکھنا چاہیے اور دین میں پورے طور پر داخل ہونا چاہئے، ہمارا ماضی ساڑھے چودہ سو سال پہلے کا زمانہ ہے، ہمارا حال ( حالات حاضرہ ہے) مستقبل ہماری آنے والی نسلیں ہیں یعنی ہمارا ماضی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ حالاتِ حاضرہ ہمارے لئے لمحۂ فکریہ اور درسِ عبرت ہے اور ہمارا مستقبل ہمارے لئے ہماری نسلیں ہیں۔ ہم جیسا کریں گے ویساہی وہ بھی کریں گی ،مطلب جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے۔ ہمارا ماضی بزرگان دین ہیں، قبروں میں سوئے ہوئے ہمارے آباؤ اجداد ہیں۔ ہمارا حال ہم خود ہیں اور ہمارا مستقبل جنت و جہنم کا فیصلہ ہے۔ غلط فہمی میں نہ رہیں جنت میں جانے کا شاٹ کٹ کوئی راستہ نہیں ہے، اللہ کا سامان بہت مہنگا ہے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے۔

[email protected]