آجکل پھٹی جینس کا بڑا شہرہ ہے۔ بالخصوص خواتین پھٹی جینس پہنے ہوئے اپنی تصویریں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہی ہیں۔ کارٹونسٹ کارٹون بنا رہے ہیں اور اسٹینڈ اپ کامیڈین اسے اپنی کامیڈی کا موضوع بنا رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ اچانک پھٹی جینس کو اتنی مقبولیت حاصل ہو گئی؟ اس پر آگے چل کر روشنی ڈالیں گے۔ آئیے پہلے یہ بتا دیں کہ آجکل بعض سیاست دانوں کی جانب سے بڑی گیان وردھک باتیں کی جانے لگی ہیں۔ وہ اپنے علم او راپنی دانشوری سے لوگوں کو چونکا رہے ہیں اور لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ایسے ایسے قابل اور عالم و فاضل ابھی تک کہاں چھپے ہوئے تھے۔آئیے سب سے پہلے تری پورہ کے وزیر اعلیٰ بپلب دیب کے بیانات کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ سچ ہے گزشتہ پانچ چھ برسوں سے سیاست دانوں اور بعض اوقات نام نہاد دانشورں کی جانب سے بڑی عقل و خرد کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ہندوستان میں یہ کسی کو کہاں معلوم تھا کہ گائے کے پیشاب سے کینسر کا علاج ہو جاتا ہے اور گائے کی پشت پر ہاتھ پھیرنے سے بلڈ پریشر معمول پر آجاتا ہے۔ یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ رام چندر جی کا زمانہ بہت ترقی یافتہ تھا۔ اتنا کہ اس وقت بھی جہاز پرواز بھرتے تھے۔ ایک جج صاحب نے فرمایا کہ مور کے بچے مور اور مورنی کے جنسی اختلاط سے نہیں بلکہ مور کی آنکھوں نے گرے ہوئے آنسووں کے قطرے سے پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال اس قسم دانشوری میں تری پورہ کے وزیر اعلی طاق ہیں۔ حالانکہ اب ان کا ایک حریف بھی پیدا ہو گیا ہے۔
تری پورہ کے وزیر اعلیٰ نے 18 اپریل 2018 کو ایک کمپیوٹر ورکشاپ کے پروگرام میں انکشاف کیا کہ مہابھارت کی لڑائی کے وقت بھی انٹرنیٹ موجود تھا۔ انھوں نے اس کی مثال سنجے نامی کردار سے دی جو کہ نابینا دھرت راشٹر کے برابر میں بیٹھ کر جنگ کی تفصیلات بتایا کرتے تھے۔ بپلب دیب کا کہنا ہے کہ سنجے کو کیسے جنگ کے حالات معلوم ہوتے تھے؟ ظاہر ہے اس وقت بھی انٹرنیٹ تھا اور وہ اسی کی مدد سے آنکھوں دیکھا حال بتایا کرتے تھے۔ انھوں نے اپریل 2018 میں ایک بیان میں کہا کہ میکینکل انجینئروں کو سول سروس میں نہیں جانا چاہیے۔ بلکہ سول انجینئروں کو جانا چاہیے۔ کیونکہ سول انجینئروں کو سماج اور انتظامیہ کی تعمیر کا ہنر آتا ہے۔ ظاہر ہے سول انجینئر ہی مکانات بناتے ہیں۔ انھوں نے 2019 میں نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت سے روزگار مانگنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے پان کی دکان کھول لیں یا گائے پال لیں۔ ظاہر ہے اتنا اچھا مشورہ اور کون دے سکتا تھا۔ انھوں نے نوجوانوں کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ ’’وزیر اعظم مودرا اسکیم‘‘ کے تحت بینکوں سے قرض لے کر خود کفیل بن جائیں۔ انھوں نے یہ بیان دے کر بھی لوگوں کو چونکا دیا کہ مغلوں نے تری پورہ کی تہذیب و ثقافت کو بم بازی کے ذریعے تباہ کرنے کا پلان بنایا تھا۔ (شکر ہے ان کا پلان کامیاب نہیں ہوا) وزیر اعلیٰ نے ایک بیان میں پنجابیوں اور ہرایانویوں کے بارے میں کہا کہ ان دونوں کا دماغ یکساں ہوتا ہے یعنی ان کے پاس بہت کم دماغ ہے۔ اس کے علاوہ بھی انھوں نے بارہا اپنی دانشورانہ باتوں سے عوام کو چونکایا ہے۔
لیکن اب انھیں سنبھل جانا چاہیے کیونکہ ان کا ایک مد مقابل یا حریف پیدا ہو گیا ہے۔ اتراکھنڈ کے نئے وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت ان پر بازی لے جانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک پروگرام میں بولتے ہوئے اپنے ایک سفر کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ جہاز سے سفر کر رہے تھے۔ ان کے برابر والی سیٹ پر ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھیں۔ ’’جب ان کی طرف دیکھا تو نیچے گمبوت تھے۔ جب او راوپر دیکھا تو گھٹنے پھٹے تھے۔ ہاتھ دیکھا تو کئی کڑے تھے۔ بچے دو ساتھ میں ان کے تھے۔ میں نے کہا بہن جی کہاں جانا ہے۔ دہلی جانا ہے۔ ہسبینڈ کہاں ہیں۔ جے این یو میں پروفیسر ہیں۔ تم کیا کرتی ہو۔ میں ایک این جی او چلاتی ہوں۔ این جی او چلاتی ہیں۔ گھٹنے پھٹے دکھتے ہیں۔ سماج کے بیچ میں جاتی ہو، بچے ساتھ میں ہیں کیا سنسکار دوگی؟‘‘ انھوں نے اس لباس کو غیر سنسکاری بتایا اور کہا کہ ایسے لباسوں سے سماج کا ماحول خراب ہوتا ہے۔ ان کے اس بیان پر خوب لے دے ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر دھوم مچی ہوئی ہے۔ لڑکیاں اور خواتین اپنی پھٹی جینس پہنے تصویریں اپ لوڈ کرکے وزیر اعلیٰ کو چڑا رہی ہیں۔ اس مقابلے میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی کود پڑیں۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر نتن گٹکری کی آر ایس ایس ڈریس والی تصویر پوسٹ کی جس میں وہ نیکر پہنے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ پرینکا نے ان تصویروں پر تبصرہ کرتے ہوئے استہزائیہ انداز میں کہا کہ ارے ان کے تو گھٹنے دکھائی دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ پہلے آر ایس ایس کی یونیفارم میں ہاف پینٹ شامل تھی مگر اب اسے فل پینٹ سے بدل دیا گیا ہے۔ بی جے پی والے کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔ انھوں نے سونیا گاندھی کی اسٹوڈنٹ لائف اور ا س کے بعد کی تصویریں انٹرنیٹ سے نکال کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں۔ ان تصویروں میں سونیا گاندھی مغربی لباسوں میں ہیں جو ڈھانپتے کم اور دکھاتے زیادہ ہیں۔ ایک کارٹونسٹ نے ایک نیتا جی کا کارٹون بنایا جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ دیکھیے اس سے پہلے کے نیتاؤں کو کسی کی کوئی خبر ہی نہیں تھی۔ ہمارے نیتا پوری نظر رکھتے ہیں یہاں تک کہ وہ گھٹنا بھی دیکھتے ہیں۔ یہ فرق ہے تب اور اب میں۔
بہرحال ابھی پھٹی جینس پر بحث جاری ہی تھی کہ تیرتھ سنگھ راوت نے بعض عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے دو ہی بچے پیدا کیے تو راشن دو ہی کے ملیں گے۔ اگر بیس بچے پیدا کیے ہوتے تو بیس افراد کا ملتا۔ دراصل وہ راشن کم ملنے کی شکایت پر یہ رد عمل دے رہے تھے۔ انھوں نے ایک پروگرام میں بولتے ہوئے کہا کہ جن کے دو بچے ہیں انھیں دس کلو راشن ملا۔ جن کے دس بچے ہیں انھیں پچاس کلو ملا او رجن کے بیس بچے ہیں انھیں ایک کوینٹل ملا۔ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ ایک کوینٹل پانے والوں سے جلن کیوں ہو رہی ہے۔ جب تمھارے پاس وقت تھا تو تم نے دو ہی بچے پیدا کیے کیوں نہیں بیس پیدا کیے۔ اسی تقریر میں انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ امریکہ نے ہندوستان پر دو سو سال تک حکومت کی تھی اور اب دیکھو وہاں کرونا کا کیا حال ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ دو سو ورش تک امریکہ کے غلام تھے۔ پوری دنیا میں اس کا راج تھا۔ کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ لیکن آج کے وقت میں وہ ڈول گیا، بول گیا۔ کرونا سے مرنے والوں کی تعداد پونے تین لاکھ ہو گئی۔ دراصل ان کو برطانیہ کہنا چاہیے تھا مگر وہ امریکہ کہتے رہے۔ اگر ان کی زبان پھسل گئی ہوتی تو امریکہ کے بارے میں اتنی تفصیل سے بیان نہیں کرتے۔ بلکہ تقریر کے دوران ہی خود کی اصلاح کر لیتے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ مودی جی نے ہندوستان کو بچا لیا۔ 2014 سے پہلے ہندوستان کی کیا حالت تھی۔ اگر مودی جی نہ آئے ہوتے تو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہوتا۔ ان کے بقول وہ وقت دور نہیں جب مودی جی کو بھگوان کی مانند پوجا جائے گا۔ وہ یہیں نہیں رکے بلکہ انھوں نے وزیر اعظم کا موازنہ رام اور کرشن سے کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح دواپر اور تریتا یُگ میں لوگ رام اور کرشن کو ان کے کاموں کی وجہ سے بھگوان ماننے لگے تھے اسی طرح وزیر اعظم مودی کو بھی ان کے کاموں کی وجہ سے آنے والے دنوں میں رام اور کرشن کی طرح لوگ مانیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے ہندوستان کے سربراہوں کو دنیا میں کوئی توجہ نہیں ملتی تھی مگر آج سربراہان مملکت مودی جی کے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔
بہر حال ابھی تو تیرتھ سنگھ راوت کو اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے دو ہفتے ہی ہوئے ہیں اور اتنی قلیل مدت ہی میں انھوں نے عوام کو اتنا سارا گیان دے دیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ عوام کو اپنی دانشورانہ باتوں سے مزید مستفید کریں گے اور ایک وقت آئے گا جب لوگ ان کی علمیت و قابلیت کا لوہا مانیں گے اور ان کا گن گان کریں گے۔
موبائل: 9818195929