واشنگٹن//کھٹوعہ میں 8سالہ بچی کے اجتماعی عصمت دری اور قتل کے خلاف واشنگٹن ڈی سی میں کشمیری لوگوں نے احتجاج کیا اور عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرائے۔احتجاجی مظاہرے میں شامل افراد نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں کھٹوعہ کی معصوم بچی کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے عالمی اداروں ، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے گھروں کو نذر آتش کرنا اورنوجوانوں کو جان بحق کرنا جیسی کاروائی کا سنجیدہ نوٹس لیں۔ احتجاجی مظاہرے سے ورلڈ کشمیر ایورنیس فورم کے سیکریٹری جنرل غلام نبی فائی نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کھٹوعہ میں 8سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل نے نہ صرف جنوبی ایشاءکے لیڈران کو ہلاکر رکھ دیا ہے بلکہ پوری دنیا میں اس واقعے کی مزمت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچی کو پہلے اغوا کیا گیا اور بعد میں نشیلی ادویات دیکر اجتماعی عصمت دری کا شکار بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بچی کے قاتلوں نے عصمت دری کو صرف ڈرنے کیلئے انجام نہیں دیا بلکہ اس کے گجر سماج قبیلے کو علاقے سے باہر نکالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کٹھوعہ میں پیش آئے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے قصورواروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کشمیر امریکی کونسل کے صدر پروفیسر امتیاز خان نے کہا کہ 8سالہ بچی کا معاملہ صرف ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ کشمیر میں10ہزار کشمیر خواتین کی عصمت پر حملہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام کیس دوبارہ کھول کر ایک غیر جانبدارنہ ایجنسی کے ذرےعے تحقیقات کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنن پوش پورہ میں 7سالہ بچی سے لیکر 70سالہ عورت کی عصمت لوٹی گئی اور اقوام متحدہ اور دیگر رضاکار تنظیموں کی جانب سے مسئلہ اٹھائے جانے کے باﺅجود بھی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔ تقریب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے مشیر سردار سرور خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8سالہ بچی کے ساتھ پیش آئے واقعے سے ان ممالک کی آنکھیں کھل جانی چاہئے جو بھارتی فوج کو کھلی چھوٹ دیتے ہیں۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو بات چیت کے میز پر لانے کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے۔ احتجاجی مظاہرے سے ڈاکٹر ظفر نوری، ڈائریکٹر کامن گراﺅنڈ امریکہ ڈاکٹر ذلفقار کاظمی ، ڈاکٹر ایم ائے دھردیگر افراد نے خطاب کیا ۔