سرینگر +شوپیان//بٹہ مالو سرینگر میں ایک پولیس کانسٹیبل کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ادھر کولگام میں سیکورٹی فورسز پر گرینیڈ پھینکا گیا جبکہجنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں21 دن کا عسکریت پسند لندورہ حرمین علاقے میں پر اسرار طور زخمی حالت میں پایا گیا، جسے نازک حالت میں صدر اسپتال سرینگرمیں داخل کیا گیا ۔
بٹہ مالو
بٹہ مالو میں اتوار کی شام دیر گئے مشتبہ ملی ٹینٹوں نے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ ایس ڈی کالونی بٹہ مالو میں رات کے قریب 8بجکر 10منٹ پر پیش آیا۔29سالہ پولیس کانسٹیبل توصیف احمد پر ملی ٹینٹوں نے نزدیک سے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا۔ اسے اگر چہ فوری طور پر صدر اسپتال منتقل کردیا گیا تاہم وہ زخمیوں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ صدر اسپتال نے اسکی ہلاکت کی تصدیق کی۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد تعینات کی گئی اور کئی مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
پولیس بیان
’’شام تقریباً 8بجکر 15منٹ پر ایس ڈی کالونی بٹہ مالو علاقے میں دہشت گردی کے ایک واقعہ کی اطلاع ملی، پولیس کے اعلی افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے،ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دہشت گردوں نے سری نگر کے ایس ڈی کالونی بٹہ مالو میں ایک پولیس اہلکار پر فائرنگ کی۔ اس کی شناخت کانسٹیبل توصیف احمد وانی ولد مرحوم محمد عثمان وانی ساکن ایس ڈی کالونی بٹہ مالو کے طور پر ہوئی۔ اس واقعے میں وہ گولی لگنے سے شدید زخمی ہوئے اور انہیں علاج کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔پولیس نے اس سلسلے میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفتیش جاری ہے اور افسران ان حالات کا تعین کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں جو اس دہشت گردی کے جرم کا باعث بنے۔ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور تلاشی جاری ہے۔
کولگام
کولگام کے ایک گائوں میں مشتبہ ملی ٹینٹوں نے سیکورٹی فورسز پر گرینیڈ پھینکا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔اتوار کی شام 6بجکر 25منٹ پر نہامہ چوک کولگام میں 18بٹالین سی آر پی ایف کی ایک پارٹی پر گرینیڈ پھینکا گیا جو نشانہ چوک کر سڑک پر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔واقعہ کے بعد علاقے کا محاصرہ کر کے حملہ آوروں کی تلاش شروع کی گئی۔ تاہم پولیس نے اس واقعہ سے لا علمی کا اظہار کیا ہے۔
شوپیان
پولیس کے مطابق ساحل بشیر لون ولد بشیر احمد لون ساکن حرمین شوپیان، 12اکتوبر کو گھر سے لاپتہ ہوا تھا اور اس نے عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ عسکریت پسند کی گردن پر گولی لگی تھی اور وہ ایک میوہ باغ میں زخمی حالت میں پڑا تھا۔اسے مقامی لوگوں نے گاڑی میں سوار کر کے ضلع اسپتال شوپیان پہنچایا اور اس ضمن میں پولیس کو بھی مطلع کیا گیا جسے بعد میں انتہائی نازک حالت میںصدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ۔ پولیس نے بتایا کہ سی زمرے میں آنے والا جنگجو ساحل لشکر طیبہ /ٹی آر ایف سے وابستہ ہے اور رواں سال12 اکتوبر کو گھر سے لاپتہ ہوا تھا۔اسکے زخمی ہونے کے وجوہات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا البتہ پولیس تحقیقات کررہی ہے۔
گھناونا جرم،بدترین فعل: بخاری | واقعہ شرمناک، بے عقل: میر
نیوز ڈیسک
سرینگر //اپنی پارٹی صدر سید الطاف بخاری نے توصیف احمد نامی پولیس اہلکار کے قتل کی شدید مذمت کی ہے ،جسے نامعلوم بندوق برداروں نے ایس ڈی کالونی بٹہ مالو میں ان کی رہائش گاہ کے قریب گولی مار کر ہلاک کیا ۔ ایک بیان میں بخاری نے اس واقعہ کو انتہائی قابل مذمت فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں بنیاد پرست قوتوں نے لوگوں کی موجودہ پریشانیوں میں اضافہ ہی کیا ہے۔’’کئی دہائیوں سے بے معنی تشدد نے مقامی لوگوں کی زندگیوں کو مصائب اور مایوسی سے بھر دیا ہے،بے شمار بیوائیں اور یتیم آج بھی اپنے کھوئے ہوئے پیاروں کیلئے ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی اس گھناؤنی حرکت نے اس بے ہودہ خونریزی میں ایک اور قیمتی انسانی جان کا اضافہ کر دیا ہے۔‘‘بخاری نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد صرف وادی میں امن کو درہم برہم کرنا اور خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا ’’میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ تشدد کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل قبول ہے۔ اس غیر انسانی فعل کیلئے مجرموں کو جلد از جلد پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘‘انہوں نے سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی جنت نشینی کیلے دعا کی ۔ادھر جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی صدر غلام احمد میر نے اتوار کو نامعلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں پولیس اہلکار کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔غلام احمد میر نے توصیف احمد کی ہلاکت پر غم کا اظہار کیا ہے۔میر نے بندوق برداروں کی جانب سے حملے کو شرمناک اور بے عقل قرار دیا اور کہا کہ مہذب معاشرے میں ایسے واقعات انتہائی قابل مذمت اور ناقابل قبول ہیں۔توصیف احمد کے قتل کے بارے میں جان کر مجھے بہت دکھ اور صدمہ ہوا، میر نے مزید کہا اور سوگوار خاندان سے گہرے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لیے ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت کے لیے دعا کی۔