سرینگر//حکومت تنظیم نو ایکٹ ، 2019 کے تحت جموں کشمیراکیڈمی آف آرٹ کلچرل اینڈ لینگویج تشکیل دینے کے لئے تیار ہے۔اندرونی ذرائع نے بتایا کہ 100 سے زائد اسامیاں بشمول متعدد اہم عہدے خالی ہیں جو اکیڈمی کے روز مرہ کے کام میں مشکلات کا باعث بن چکے ہیں۔ نیم خود مختار ادارہ کلچرل اکیڈمی جموں و کشمیر کے آئین کے تحت کام کر رہی تھی جو 5 اگست 2019 کے بعد اب موجود نہیں ہے۔کشمیر عظمیٰ نے جب اکیڈمی کے سنیئر افسر سے اس ادارے میں کافی تعداد میں اسامیوں کے خالی ہونے اور روزانہ کام میں مشکلات پیدا ہونے پر استفسار کیا، تو انہوں نے کہا’’یہ تجویز اکیڈمی کے روزانہ کے امور کو چلانے اور نئے ضوابط وضع کرنے کے لئے حکومت کے پاس ہے،اور فیصلہ کرنا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرز پر اسے محکمہ ، کمپنی ، سوسائٹی بنانا ہے یا اسے تین اکیڈمیوں یعنی آرٹ اکیڈمی ، ثقافتی اکیڈمی اور لسانی اکیڈمی میں تقسیم کرنا ہے اورجب تک حکومت اس میں کوئی قدم نہیں اٹھاتی ، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘مذکورہ افسر نے کہا، ’’تکنیکی طور پر ، اکیڈمی 5 اگست کے بعد موجود نہیں ہے او فی الوقت کوئی کمیٹی نہیں ہے، تاہم یہ تجویز حکومت کے پاس دوبارہ تشکیل نو کے تحت اکیڈمی کو نئی شکل دینے کی ہے۔ حکومت فیصلہ کرنے میں اپنا وقت لے گی۔‘‘ان کہنا تھا’’جس دن ہمارے پاس نیا ڈھانچہ ہوگا ، ایک نیا سیکرٹری اکیڈمی ہوگا ، کمیٹیوں کی تشکیل نو کی جائے گی اور خالی اسامیوں کو پْر کرنے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا اور عہدیداروں کو بھی اکیڈمی کے مختلف شعبوں میں پوسٹنگ مل جائے گی، اس کے مطابق اکیڈمی اپنا ہموار کام دوبارہ شروع کرے گی۔‘‘مستقل سکریٹری کی عدم موجودگی میں، ڈائریکٹر ، آرکائیوز ، آثار قدیمہ اور عجائب گھر، منیر الاسلام سیکرٹری اکیڈمی کا اضافی چارج سنبھال رہے ہیں۔متعدد امور کا اندر سے مقابلہ کرتے ہوئے اکیڈمی کے عہدیداروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ: جموں و کشمیر میں متعدد اہم عہدوں سمیت 100 سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں جو مختلف سطحوں پراس کے مناسب کام میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔ متعدد ملازمین و افسراں نے بھی عدالت سے رجوع کیا اور انہوں نے حکم امتناعی لایا ہے جس وجہ سے اکیڈمی کچھ بھی کرنے میں بے بس ہوگئی۔حکام نے کہا’’افسراں کے مابین ہونے والی آپس چپقلش، شکایات اور جوابی شکایات کا باعث بنی ہے جبکہ مختلف تفتیشی ایجنسیوں کے ذریعہ بھی معاملات کی چھان بین کی جارہی ہے۔‘‘عملے کی مجموعی تعداد 260 پوسٹوں میں سے ، جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ ، ثقافت اور زبانوں کی 100 سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں حالانکہ یہ ادارہ مرکزی زیرانتظام علاقہ کی7 بڑی زبانوں یعنی کشمیری ، ڈوگری ، اردو ، گوجری ، پہاڑی ، پنجابی, ہندی پر کام کرنے کے علاوہ، آرٹ اور ثقافت کو فروغ دینے پر کام کر رہی ہے۔اکیڈمی میں جو اہم عہدے خالی ہیں ان میںسیکرٹری اکیڈمی ، 2 ایڈیشنل سیکرٹریز ، کشمیری سمیت علاقائی زبانوں کے تین سربراہان، ڈوگری اور اردو زبان ( مدیراں اعلیٰ) لداخ کے علیحدہ ہونے کے بعد 2 ڈپٹی سیکرٹری ، 1 انڈر سکریٹری ، ایک انتظامی افسر (موجودہ وقت میں ، ایک افسر اکیڈمی میں تعینات ڈیپوٹیشن پر ہے) ، 6 سیکشن آفیسرز ، ریسرچ اسسٹنٹس ، ہر سیکشن میںایڈیٹر ، ایڈیٹر اسسٹنٹ ، وادی میںثقافتی افسران، (ان پوسٹوںکومنظور کیا گیا ہے) ، اور اسی طرح کٹھوعہ ، راجوری اور ڈوڈاہ اضلاع کو چھوڑ کر جموں خطے میں ثقافتی آفیسر خالی ہیں ، منیجر ٹیگور ہال اور منیجر ابھیناو تھیٹر ، ڈرامہ انسٹرکٹر ، اور دیگر عہدے بھی خالی ہیں۔اس سے قبل ، اکیڈمی میں پورے ہفتہ سرگرمیوں کا کیلنڈر ہوتا تھا۔ لیکن وجوہات کی بنیاد پر اس وقت کام ٹھپ ہوگیا ہے۔