کشمیر یونیورسٹی میں میگا روزگار میلہ نوجوانوں کو صنعت کیلئے تیار کرنے کی تربیت دینا ہماری ذمہ داری:پروفیسر نیلوفر

عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر// 1500 سے زیادہ اسامیاں پیش کرنے والی کمپنیوں اور کارپوریٹ سربراہوں کو اکٹھا کرکے ملازمت کے متلاشیوں اور ممکنہ آجروں کے درمیان فرق کو ختم کرنے کیلئے شعبہ مینجمنٹ اسٹڈیز کشمیر یونیورسٹی (KU) نے CT یونیورسٹی (CTU)لدھیانہ کے تعاون سے یہاں روزگار میلے کا اہتمام کیا۔آئی ٹی، فائنانس، مارکیٹنگ اور ہیلتھ کیٔر جیسے متنوع شعبوں سے تعلق رکھنے والی 20 سے زیادہ سرکردہ کمپنیوں نے اس میلے میں حصہ لیا تاکہ مختلف کرداروں کیلئے باصلاحیت افراد کو بھرتی کیا جا سکے، جو خطے کے روزگار کے منظر نامے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔افتتاحی سیشن کے دوران تقریب کو ایک ’اہم اقدام‘قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان نے کہا کہ طلباء کی تقرری بنیادی تشویش ہے کیونکہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں کہ ہمارے باصلاحیت نوجوانوں کو تمام شعبوں اور دنیا بھر میں اچھی جگہ دی جائے‘۔

 

انہوں نے کہا کہ ’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور انہیں کافی مواقع فراہم کر کے اور انہیں صنعت کیلئے تیار کر کے مطلوبہ ہنر کی تربیت دیں‘۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ نوجوانوں کو زرخیز لانچ پیڈ کیلئے مطلوبہ تربیت اور نمائش حاصل کرنے کو یقینی بنانے کیلئے یونیورسٹی وسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔چانسلر CTU سردار چرنجیت سنگھ چنی نے ایک کامیاب کیریٔر اور کامیاب زندگی کے درمیان فرق کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا’آج کے نوجوانوں کو معلومات اور تعلیم کے درمیان اور تعلق اور تعلق کے درمیان فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب زندگی گزارنے کیلئے انہیں ہمیشہ اپنے والدین اور اساتذہ کی بات سننی چاہئے۔پرو چانسلر CTU، ڈاکٹر منبیر سنگھ نے کہا کہ ملازمت کے متلاشیوں اور اعلی بھرتی کرنے والوں کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کرتے ہوئے یہ تقریب شرکاء کی ملازمت کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بڑھانے اور یونیورسٹی اور صنعت کے تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے تیار ہے۔وائس چانسلر CTU ڈاکٹر ابھیشیک ترپاٹھی نے کہا کہ اس کا مقصد ایک ایسا پلیٹ فارم بنانا ہے جہاں نوجوان نیا سفر کرنے اور نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ’’ہمارے نوجوان ہمارے پاس موجود وسائل ہیں اور ہمیں تندہی سے نئے ٹیلنٹ میں سرمایہ کاری کرنے اور علاقائی ترقی کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔