سرینگر//کشمیر میں سالانہ 500کینسر مریض غربت کی وجہ سے علاج و معالجہ سے قاصر رہ جاتے ہیں جبکہ مزید 500مالی مشکلات کی وجہ سے اپنا علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں عالمی یوم سرطان موقع پر منعقد کی گئی تقریب کے دوران معالجین نے بتایا کہ سال 2008سے 2020تک کشمیر میں 48ہزار 117 افراد کینسر میں مبتلا ہوئے جن میں 27ہزار 898مرد جبکہ 20219خواتین شامل ہیں۔ شعبہ میڈیکل آنکولوجی کے سربراہ ڈاکٹر گل محمد نے بتایا ’’ ہر سال وادی کے مختلف اسپتالوں میں نئے 7ہزار کینسر مریضوں کا اندراج ہوتا ہے‘‘۔گل محمد نے مزید بتایا ’’ریجنل کینسر انسٹی ٹیوٹ صورہ میں ہر سال تقریباً5 ہزار جبکہ جی ایم سی سرینگر میں ایک ہزار نئے مریضوں کا اندراج ہوتا ہے‘‘۔انکا کہنا ہے کہ ہر سال نئے ایک ہزار کینسر مریض اسپتال میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کیلئے داخل رہتے ہیں۔ آنکولوجی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تقریباً500مریضوں کا اندراج وادی کے نجی اسپتالوں میں ہوتا ہے جو سرکاری اسپتالوں کے بجائے نجی کلنکوں کو ترجیح دیتے ہیں‘‘۔گل محمد نے کہا کہ اس کے علاوہ 500ایسے مریض بھی ہوتے ہیں جو مالی مشکلات کی وجہ سے علاج ادھورا چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 5سال کے دوران 22ہزار نئے کینسر مریض سامنے آئے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ 27.35فیصد ضلع سرینگر، 15.26ضلع اننت ناگ، 14.59فیصد بارہمولہ، 10.72 فیصدبڈگام، 10.37فیصد پلوامہ، کولگام میں 6.92 فیصد، کپوارہ میں 6.97 فیصد، گاندربل میں5.31 فیصد،بانڈی پورہ 4.86 فیصد، شوپیان 4.65 فیصداور دیگر اضلاع میں 9.86فیصد ہے۔ڈاکٹر گل محمد کہتے ہیں کہ ان مریضوں میں علاج و معالجہ کی وجہ سے 70فیصد مریضوں کی زندگی بڑھانے میں کامیاب ہوتی ہے کیونکہ ادویات کی وجہ سے یہ کافی دیر تک کینسر جیسی بیماری سے لڑ پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کی تشخیص میں تاخیر کی وجہ سے بھی کینسر کافی تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن یہ ملکی سطح کے برابر ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہر ایک ہزار میں95افراد کینسر میں مبتلا ہیں جبکہ جموں و کشمیر میں بھی شرح اسی کے آس پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال1987میں دوبستروں سے شروع کئے گئے شعبہ میں ابتک 80مریضوں میں Bone Marrow ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر گل محمد نے بتایا کہ سکمز میں کینسر بیماری کے علاج کو مزید مستحکم بنانے کیلئے علیحدہ ٹرانسپلانٹ یونٹ، ہیڈروجن پلانٹ، کیموتھرپی فولڈ اورکیس ریکارڈوں کی Digitilisationکی اشد ضرورت ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ کینسر مریضوں میں 75فیصد موزون غذا کی کمی ، 54فیصد میں ورزش کی کمی، 26فیصد سگریٹ نوشی اور 68فیصد لوگ موٹاپے کی وجہ سے کینسر کے شکار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی طرز خوراک کو ترک کرنے کے علاوہ جسمانی ورزش سے کینسر کو کافی حدتک قابو کیا جاسکتا ہے۔