سرینگر //شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے شعبہ اینڈوکرائنولوجی(Endocrinology) کی جانب سے سال میں2019بچوں پر کی گئی تازہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ5سال سے 18سال تک کے بچے 13فیصد موٹاپے کے شکار ہیں۔سکمزمیں شعبہ اینڈو کرائنولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر شارق مسعودینے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’سال 2019میں کئی گئی تحقیق کی رپورٹ عالمی وباء کی وجہ سے مشتہر نہیں ہوئی لیکن اس تحقیق میں حصہ لینے والے 1054بچوں میں سے 135کا وزن زیادہ تھا‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ عالمی دارہ صحت کے مطابق پوری دنیا میں صرف3.4فیصد بچے ہی موٹاپے کے شکار ہیں لیکن کشمیر میں یہ شرح 13فیصد ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ پوری دنیا میں 5سے 18سال کی لڑکیاںصرف 3.لاگا دہ8فیصد ہی موٹاپے کی شکار ہیں لیکن کشمیر میں موٹاپے کی شکار لڑکیوں کی شرح 14.7فیصد ہے‘‘۔ڈاکٹر شارق نے کہا’’ پوری دنیا میںاس عمر کی لڑکیوں میں صرف 2.4فیصد موٹاپے کی شکار ہیں لیکن کشمیر میں یہ تعداد 9فیصد ہے۔ ڈاکٹرشارق نے کہا ’’ شہری علاقوں کے بچے کافی تیزی سے موٹاپے کا شکار ہورہے ہیں اورتازہ تحقیق میں اسکی وجہ موبائیل فون، لیپ ٹاپ، ورزش کی کمی اورجنک فوڈ(Jnuk Food)کا استعمال بتائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ تحقیق کے نتائج میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جنک فوڈ کے استعمال سے موٹاپے کے بعد 5فیصد بچے شوگر اور بلڈ پریشر میں مبتلاہوجاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ جب بچے کم عمری میں موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں تو ان میں طرح طرح کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ڈاکٹر شارق نے کہا ’’ کشمیر میں بچوں کا وزن بڑھنے سے روکنے میں والدین کلیدی رول ادا کرسکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ جنک فوڈ اور دیگر چیزیں گھر لانے کے بجائے تازہ سبزیاں اور پھل استعمال کرنا چاہئے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ بچوں کو مٹھائی، پیزا اور دیگر چیزیں کھلانے کے بجائے پھل کھلانے سے نہ صرف انکا وزن اعتدال میں رہے گابلکہ وہ کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رہیں گے۔