’ کشمیر میں ملی ٹینسی کا گراف بہت نیچے، کشتواڑ کو چھوڑ کر وادی چناب پرامن ‘

محمد تسکین
 بانہال //سالانہ شری امرناتھ یاترا کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے بانہال کا دورہ کیا اور آئندہ شروع ہونے والی یاترا میں شامل یاتریوں کوٹھہرانے کیلئے بانہال کے لامبر علاقے میں IRCON muckingگرائونڈ میں امرناتھ جانے والے عقیدتمندوں کیلئے کئے جارہے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بانہال قاضی گنڈ فورلین ٹنل کے آرپار کا بھی دورہ کیا۔ان کے ہمراہ پولیس، فوج اور سی آر پی ایف اور سول انتظامیہ کے اعلی افسران بھی موجود تھے ۔ اس سال کی شری امرناتھ یاترا 30 جون سے شروع ہوگی اور یہ یاترا 43 دن تک جاری رہنے کے بعد11اگست کو اپنے اختتام کو پہنچے گی ۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ سالانہ امرناتھ یاترا کیلئے بانہال کے لامبر علاقے میں شری امرناتھ شرائین بورڈ کی طرف سے یاتریوں کے مختصر وقت تک ٹھہرنے کیلئے انتظامات کرے گا اور اس کیلئے وہ منتخب جگہ دیکھنے کیلئے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شرائین بورڈ کی طرف سے کھڑی کی جارہی جگہ کو نہ صرف یاترا کیلئے بلکہ درماندہ مسافروں کے استعمال کے کام بھی آئیگی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضلع کشتواڑ میں ملی ٹینٹوں کی معمولی سی نقل وحرکت کو چھوڑ کر وادی چناب کے تمام اضلاع پرامن ہیں اور اس کیلئے وہ لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانہال کبھی ملی ٹینسی کا گڑھ تھا اور اب خوشی کی بات یہ کہ یہاں اب ملی ٹنسی کا خاتمہ ہوا ہے اور پورا ضلع رام بن ہر لحاظ سے پرامن ہے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ وادی کشمیر کے جنوبی کشمیر میں ملی ٹینسی کا گراف بہت نیچے آگیا ہے جبکہ شمالی کشمیر میں یہ گراف بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں میں ملی ٹینٹوں کے سرکردہ کمانڈروں کے مارے جانے کے بعد جنوبی اور شمالی کشمیر میں ملی ٹنسی کا گراف کم ہوا ہے اور اس کا صفایا کرنے کی کاروائیاں جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لشکر طیبہ کے کمانڈر یوسف کانٹرو کا ہلاک کرنا سیکورٹی فورسز کیلئے ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ وہ یوسف کانٹرو نہ صرف نئے لڑکوں کو ملی ٹنسی میں بھرتی کر رہا تھا بلکہ پاکستانی ملی ٹینٹوں کو لینے کیلئے وہ باڈر پر بھی جاتا تھا اور انہیں بانڈی پورہ کے بیلٹ سے سرینگر تک لانے میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی کا گراف بہت نیچے پہنچا ہے اور اس کا صفایا کیا جائیگا ۔