اشرف المخلوقات کہلانےو الے انسان کو عقل و فہم، خواہشات اور زبان جیسی صلاحیتیں کارخانہ ٔ قدرت سے ودیعت کی گئی ہیں۔ان اَوصاف میں زبان ایک ایسا تحفہ ٔ الہٰیہ ہے جو اسے باقی مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے ۔اس مناسبت سے انسان کو حیوانِ ناطق بھی کہا جاتا ہے ۔ہر انسان کو جو زبان ورثے میں ملتی ہے وہ مادری زبان کہلاتی ہے ۔جُوں جُوں انسان کی نشوونما ہوتی ہے، مادری زبان اس کی روح اور خیال میں پیوست ہوتی جاتی ہے ، کیونکہ زبان ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے خیالات کا اظہار کیا جاسکتا ہے ۔ہماری ریاست جموں تین خطوں پر مشتمل ہےجو روایات اور تمدن کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف و منفرد ہیں اورتینوںمیں الگ الگ زبانیں رائج ہیں ۔وادئ کشمیر میں ا کثریت کی زبان کشمیری ہے ، جموں میں ڈوگری اور لداخ میں لداخی بولی جاتی ہے ۔ ان تین مختلف لسانی خطوں میں اگر کوئی رابطے کی زبان ہے تو وہ اردو زبان ہے اور اس کے بولنے اور سمجھنے والے تینوں خطوں میں آباد ہیں ۔اس طرح اردو پوری ریاست جموں و کشمیر کو لسانی اعتبار سے ایک ساتھ جوڑتی ہے ۔ بلاشبہ اسی بنا پر اُردو کو جموں و کشمیر کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ۔
اردو ہماری ریاست کی سرکاری زبان ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ سوتیلی ماں کا ایسا سلوک روا رکھا گیاہےجس کی مثال شاید کہیں اور نہ ملے ۔ عملی طور صورت حال کچھ ایسی بنی ہے کہ اردو کسی صورت سرکاری زبان دکھائی نہیں دیتی ۔ افسوس کہ ہر سطح پر اس زبان کے ساتھ متواتر زیادتیاں کی جارہی ہیں ۔ایک آدھ محکمے کو چھوڑ کر کسی بھی سرکاری محکمے میں اردو کے سرکاری درجے کے آثار تک نظر نہیں آتے ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ اپنے ہی محافظ اداروں میں بیگانگی کی شکار بنی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بسااوقات ریاست کی یونیورسٹیوں کے اردو شعبوں تک میں بھی اردو بطور سرکاری زبان ہونے پر شک وشبہ گزرتا ہے کیونکہ ان میں زیادہ تر دفتری کام کاج انگریزی زبان میں ہی انجام پاتا ہے ۔ ان اداروں میں اُردو کے طلبا ئے علم اور ریسرچ اسکالر بھی بے تکلفی سے یہی کام انجام دیتے ہیں۔ بے فکری کاعالم یہ ہے کہ اس جانب اُرود طلبہ دھیان دیتے ہیں نہ اردو معلمین ومدرسین ۔ یہ ایک توجہ طلب معاملہ ہے ۔وادئ کشمیر کے اسکولوں میں اردو ایک لازمی مضمون کے طور رائج ہے، لیکن وہاں بھی اس کے ساتھ ناانصافیاں کی جاتی ہے، نتیجہ یہ کہ ہمارے بچوں کی اُردو دن بہ دن کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔ اگر یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب خدانخواستہ ہماری نئی پود اُردو سے ناواقفِ محض ہو گی۔ اردو زبان کے ساتھ یہ ناانصافیاں اور حق تلفیاںریاست میں ہی نہیں بلکہ ملکی سطح پر ہر جگہ ہورہی ہیں ۔ کہیں اس کو کم ترسمجھ کر ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،کہیں تعصب کا شکار بنا کر اس کو مظلومیت کی کھائی میں دھکیلا جارہاہے ۔کسی شاعر نے اس حقیقت حال کی ترجمانی کچھ یوں کی ہے ؎
کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
میں نے تو کبھی خود کو مسلمان نہیں مانا
دیکھا تھا میں نے بھی کبھی خوشیوں کا زمانہ
میں اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی
اردو ہے میرا نام میں خسروؔ کی پہیلی
اردو زبان سچ میں آج کل تنہائی و بے اعتنائی کی شکار ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عظیم ورثے اور انمول سرمایہ کی اہمیت کو نہ صرف سمجھا جائے بلکہ اس کےا ندر مختلف قومیتوں اور معاشروں کو جوڑنےوالا کردار تسلیم کیا جائے ،اس کے فروغ وترویج کے لئے ہر سطح پر کوشاں رہا جائے ۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں اس کی ترقی کے لئے نتیجہ خیز پیکیج دیا جانا چاہیے ۔ خاص کراردو زبان کو ریاست جموں و کشمیر میں وہی رتبہ ملنا چاہیے جو کسی سرکاری زبان کا آئینی حق ہوتا ہے ۔بے شک کسی حد تک پولیس ،عدلیہ اور محکمہ مال میں آج بھی اس کی سرکاری حیثیت جوں توںقائم ودائم ہے جو ایک خوش آئند بات ہے مگر اردو دنیا اسی حدتک محدود نہیں رکھی جانی چاہیے ۔غیر سرکاری سطح پر کچھ ادارے ہیںجو کم وبیش اردو کی ترقی واشاعت میں لگے ہوئے ہیں ،لیکن اس کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اردو زبان کے خیرخواہوں کو چاہیے کہ وہ اس تاریخ ساز زبان کی ترقی و فروغ میں پہل کریں اور ساتھ ہی ساتھ حکومت کو ایسے اقدامات کر نے چاہیے جن سے اردو زبان کو ثبات و استحکام مل سکے۔ آخر پر میں اپنی بات کا اختتام داغؔ دہلوی کے اس شعر سے کرنا چاہوں گا ؎
اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کا ہے
رابطہ ایم ۔اے (اردو) گولڈ مڈلسٹ۔ کشمیر یونیورسٹی
[email protected] ای میل
موبائل نمبر :9797013883