عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے برف پوش اور انتہائی دشوارگزار چھاترو علاقے میں جاری انسدادِ ملی ٹینسی کارروائی منگل کو بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہی، جہاں فوج، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز نے مشترکہ آپریشن کے تحت جنگل کے وسیع و عریض خطے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ تین غیر ملکی ملی ٹینٹوںکی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے آپریشن کو مزید وسعت دی ہے جبکہ ہیلی کاپٹروں اور جدید ڈرون کیمروں کی مدد سے بالائی علاقوں کی مسلسل فضائی نگرانی کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے پیش آئے اس جھڑپ میں ایک فوجی اہلکار جاں بحق جبکہ سات زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد فورسز نے علاقے میں سرچ گرڈ کو مزید سخت کرتے ہوئے جنگل کے ہر راستے کو سیل کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جھڑپ کے دوران ایک ملی ٹینٹ کے زخمی ہونے کے بھی قوی شواہد ملے تھے، جو گہری برف اور گھنے جنگل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ساتھیوں سمیت فرار ہوگیا۔ذرائع نے بتایا کہ چھاترو کے پہاڑی اور برفانی سلسلے میں آپریشن کرنا فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہورہا ہے، کیونکہ خطہ نہ صرف جغرافیائی طور پر پیچیدہ ہے بلکہ موجودہ موسم میں درجہ حرارت منفی میں ہونے کے باعث فورسز کی پیش قدمی میں اضافی مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے باوجود، فوج نے علاقے میں ڈرونز، جدید نائٹ ویژن آلات اور ہائی الٹیٹیوڈ ٹیموں کو متحرک کر رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آپریشن کی نگرانی اعلیٰ فوجی اور پولیس افسران کر رہے ہیں، جبکہ زمینی دستے چھوٹے چھوٹے گروپوں میں مشکوک جگہوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متعدد بار فضائی سروے کیا گیا ہے تاکہ فرار شدہ ملی ٹینٹوں کے ممکنہ ٹھکانوں کی نشاندہی کی جاسکے ۔فوجی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کئی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے، کیونکہ ملی ٹینٹ انتہائی تربیت یافتہ اور علاقے کے جغرافیہ سے واقف ہیں۔ حکام نے بتایا کہ زمینی فورسز کو اس بات کا امکان ہے کہ ملی ٹینٹ موسم اور جغرافیہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کریں گے، لہٰذا ہر قدم انتہائی احتیاط سے اٹھایا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا عزم ہے کہ ملی ٹینٹوں کو جلد از جلد گھیر کر یا تو گرفتار کیا جائے یا پھر انہیں مار گرایا جائے گا ۔