عاصف بٹ
کشتواڑ//سال 1990 کے بعد ضلع کشتواڑ کے علاقے میں فوج کی جانب سے چلاے گے ملیٹنٹ مخالف آپریشن میں سیکورٹی فورسز کا ’آپریشن ترشیا ‘سب سے طویل سرچ آپریشن ہے ،جو گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے۔ جس دوران سیکورٹی فورسز نے ایک ملیٹنٹ کو مار گرایا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق اب تک ملی ٹینٹ مخالف سب سے طویل سرچ آپریشن ’آپریشن ترشیا‘ بتایا جارہاہے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی کئی بڑے انکائونٹر ہوے ،جن میں کئی بڑے ملی ٹینٹوں کو مار گرایا گیا لیکن یہ سرچ آپریشن سب سے طویل ہے۔ سیکورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن ترشیا ،18 جنوری کو شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد اس علاقے میں چھپے ملی ٹینٹوں کا مکمل صفایا کرنا تھا۔آپریشن کا آغاز 18جنوری کو اس وقت شروع ہوا ، جس کے نتیجے میں منڈرال سنگھپورہ کے قریب سونار کے جنگلات میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ایک پیرا ٹروپر کی موت ہوئی ، جبکہ چھ جوان زخمی ہوئے۔ تاہم گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملی ٹینٹ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بعد اگلے روز سیکورٹی فورسز نے ایک کمین گاہ کو تباہ کیا تھا، جس میں کھانے پینے کی اشیا ء و دیگر سامان برآمد ہواتھا۔ جبکہ ایک ملی ٹنٹ بھی شدید زخمی ہوا تھا۔ فوج کی جانب سے اسکی تصدیق کی گئی تھی۔ علاقے میں موسم بدلنے کے بعد دو فٹ سے زائد برف جمنے کے باوجود فورسز نے ملی ٹینٹوں کی تلاش جاری رکھی۔ 22 جنوری کو مالی دانا چوٹی اور 25 جنوری کو جانسیرکانڈیوار میں فوج اور ملی ٹینٹوں کے درمیان دو مزید جھڑپیں ہوئیں ،مگر ملی ٹینٹ ایک بار پھر گھنے جنگلات میں فرار ہو گئے۔31 جنوری کو ملی ٹینٹوں و فوج کے درمیان دول گام علاقے میں دوبارہ سے آمنا سامنا ہوا اور دن میں تین بار دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جبکہ 4 فروری کو اسی علاقے میں سیکورٹی فورسز کو اس وقت کامیابی ملی ،جب ایک پاکستانی ملی ٹینٹ کو فوج نے اس علاقے میں مارگرایا تھا، جس کی پہچان سرارالدین عرف عادل بھائی کے طور ہوئی جو جیش کا گوریلا کمانڈر بتایاجارہاہے۔جبکہ اسکے دیگر ساتھی جن میں سیف اللہ بلوچ و دیگر شامل ہیں،ہنوز اسی علاقے میں چھپے ہوے ہیں، جن کی تلاش گزشتہ ا یک ماہ سے مسلسل جاری ہے ۔فوج کی پیراکمانڈو ،فوج ، سی آرپی ایف، ایس او جی و پولیس و ی ڈی جی ممبران مسلسل چھاترو سنگھپورہ چنگام و سگدہ کے علاقہ جات میں سرچ آپریشن چلارہے ہیں۔ وہی حکام کی جانب سے گزشتہ 25 روز سے موبایل انٹرنیٹ کو مسلسل بند رکھاگیاہے۔حکام کے مطابق یہ فیصلہ ملک دشمن عناصر کی جانب سے موبائل ڈیٹا سروسز کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے لیا گیا ہے۔ سال 2024 کے آخر میں کشتواڑ ضلع میں اس وقت ان غیر ملکی ملی ٹینٹوں کی پولیس کوموجودگی کی اطلاع ملی ، جب بالائی علاقوں میں دو وئی ڈی جی ممبران کا قتل کردیاگیا تھا ،جس کے بعد سے سیکورٹی فورسز ان کا تعاقب کرنے میں لگی ہوئی ہے۔