کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل مفتی نذیر احمد قاسمی

سوال :۔آج کل بہت سارے نوجوان ہاتھوں میں کلائی پر دھاگے باندھتے ہیں ۔ان میں سے کچھ نوجوان تو دیکھا دیکھی کے فیشن کی وجہ سے اور کچھ کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اس سے ہماری تمنائیں اور خواب پورے ہوں گے اور ہماری پرابلم حل ہوگی،ہماری منزل آسان ہوگی ۔غرض کہ جیسے بہت سارے غیر مسلم اپنے ہاتھوں یا گلے میں قسم قسم کے لال،پیلےاور کالے دھاگے باندھتے ہیں ،اسی طرح بہت سارے ہمارے جوان جو زیادہ تر کالج،سکول ،کال سینٹر اور کوچنگ سینٹروں میں ہوتے ہیں ،وہ بڑے شوق سے دھاگے باندھتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی شرعی جواز ہےاس کا مفصل جواب فرمائیں۔
خورشید احمد راتھر۔نوشہرہ سرینگر

کلائی پر دھاگے باندھنا اور کڑے پہننا غیر شرعی عمل
جواب:۔بلا شبہ بہت سارے مسلمان نوجوان اپنے ہاتھوں میں دھاگے ،کچھ اپنے ہاتھوں میں لوہے،پیتل اورسونے کے چین اور کچھ لوہے کے کڑےبھی پہنتے ہیں اور کچھ کڑے ایسے بھی پائے گئے جن پر آیت الکرسی ،سورہ فاتحہ یا کوئی دعا بھی لکھی ہوئی ہوتی ہے اور مسلمان نوجوان اُسے اپنی کلائی پر لگائے ہوئے ہوتے ہیں،اس کے لئے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہاتھوں میں کڑے پہننا اور دھاگے وغیرہ باندھنا غیر مسلموں کے یہاں غیر مشرکانہ اور توہماتی خیالات کی بنا پر ہوتے ہیںیافلمی فیشن کی بنا پر ۔اب اگر کوئی مسلمان اس عقیدے سے یہ دھاگایا زنجیر یا کڑا لگائے کہ اس سے اُس کی قسمت چمکے گی ،اُس کے خواب پورے ہوں گے اوررکاوٹیں دور ہونگی تو یہ عقیدہ مشرکانہ عقیدہ ہے اورغیر مسلموں کی نقالی ہے،یہ سراسر حرام ہے۔اس طرح کے ٹوٹکوں سے کچھ نہیں ہوتا نہ ہوسکتا ہے۔جو شخص اس غلطی میں مبتلاء ہے اُس کے لئے اپنا عقیدہ درست کرنا بھی ضروری ہے،اس مشرکانہ فعل سے توبہ کرنا بھی لازم ہےاور وہ دھاگہ جلا دینا اور وہ زنجیر پھینک دینا ضروری ہے ۔البتہ اگر وہ سونا ہو تو وہ سونا اپنے کسی دوسرے کام میں لاسکتے ہیں ۔اسی طرح لوہا یا پیتل ہو تو لوہے یا پیتل کے بھائو فروخت کرکے وہ رقم اپنی ذات پر خرچ کرسکتے ہیںاور اگر کوئی مسلمان فیشن کی وجہ سے یا فلمسٹار وں کی نقالی میں یہ دھاگے یا زنجیریں یا کڑے کلائی پر لگاتا ہے تو بھی یہ حرام ہے،اس لئے یہ فساق و فجار کی نقالی ہے اور حدیث میں ہے کہ جو جِس کی مشابہت اختیار کرے گا ،وہ انہی میں سے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :۔چند سال سے شروع ہوئی ایک نئی TRENDآج کل کشمیر میں جاری ہے کہ نکاح کی مجلس میں دلہن کو بھی لایا جاتا ہے ۔کبھی دلہا کے ساتھ ڈائس پر اور کبھی درمیان میں ایک معمولی سا پردہ لٹکا دیتے ہیں ،پھر نکاح پڑھنے والا نکاح پڑھتا ہے۔کیا یہ اصالتاً نکاح ہے۔اس بارے میں مکمل شرعی رہنمائی فرمائیں۔
غلام محی الدین میر ۔لاوے پورہ
اصا لتاً نکاح خوانی

مجلس میں دلہن کی موجودگی غیرت ایمانی کے خلاف
جواب :۔نکاح کی مجلس میں سب کے سامنے دلہن کو لانا سراسر غیر شرعی عمل ہے۔اس میں بہت ساری خرابیاں ہیں ۔پہلی یہ ہے کہ بے پردگی اور وہ بھی اس حال میں کہ بیٹی بنائو سنگھارکے ساتھ دُلہن بنی ہوئی ہوتی ہے تو مجلس کے تمام محرم و غیر محرم اُس کو دیکھتے ہیں اور دکھانے کی نیت سے ہی اس دلہن کو مجلسِ نکاح میں بٹھایا جاتا ہے ۔دوسری بات کے مطابق دورِ رسالت سے آج تک نکاح کی مجلس میں کبھی بھی دُلہن کو نہیں لایا جاتا ہے،تو یہ نیا عمل پوری اُمت کے آج تک پائے جانے والے اجماع اور تعامل کے خلاف ہے اور قرآن کریم میں دوسرے تما م مسلمانوں سے الگ راہ اپنانے کو گمراہی قرار دیا گیا ہے،یہ وہی ہے۔تیسرے یہ کہ آج بھی دنیا بھر میں کسی بھی دیندار مسلمان معاشرے میں یہ طرزِ عمل نہیں پایا جاتا کہ نکاح کی مجلس میں دُلہن کو بٹھایا جائے ،یہ اُس کے خلاف ہے۔چوتھے یہ غیر مسلم اقوام کی نقالی اور تشبیہ ہے۔نکاح کی مجلس میں دلہا دلہن کو ایک ساتھ بٹھانا دوسری اقوام کا طرزِ عمل ہے،اب مسلمان بھی اس کو اپنانے لگے ہیں۔جدت پسندی کا مزاج کبھی حدودسے تجاوز کرجاتا ہے اور وہ کام بھی کرنے کو تیار ہوجاتا ہے جو شریعت کے خلاف ہوتا ہےاور دینی غیرت کے بھی خلاف۔پانچویں یہ کہ جس لڑکے کے ساتھ اس دلہن کا نکاح ہونا ہوتا ہے ،وہ ابھی اس کا شوہر بنا ہی نہیں ہے۔ اب اس نا محرم کے ساتھ اُس کو بٹھانا، جب کہ ابھی نکاح بھی نہیں ہوا ہے ،غیر شرعی ہے۔چھٹی بات یہ کہ غیرت ایمانی اور اسلامی حیاء کا تقاضا ہے کہ دُلہن کے والدین ،بھائی ،بہن اور تمام رشتہ دار اس کو غیرت کے خلاف سمجھنے کا مزاج رکھتے ہوں کہ ہم اپنی بیٹی کو دُلہن بناکر سب کو نظارہ کرائیںاور ہونے والا شوہر بھی اس کو اپنی حمیت اور غیرت ِ ایمان کے خلاف قرار دے کر اس کو ہرگز نہ ہونے دے۔اب جبکہ حیاء بھی کم ہوچکی ہو یا مِٹ چکی ہو ،غیرت بھی مُردہ ہو تو پھر یہ کام بُرا نہیں لگے گا ۔یہ چند خرابیاں ہیں۔بہر حال اصالتاً نکاح کے نام پر دُلہن کو نکاح ِ مجلس میں سب کے سامنے بٹھانا سراسر غیر شرعی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :۔جیساکہ معلوم ہے کہ آج کل ہر گھر یا قیام گاہ میں اٹیچ باتھ روم ہیں۔ باتھ روم میں نجی ضرورت پورا کرنے کا انتظام بھی ہوتا ہے اورپھر وضو کا بھی اُسی میں انتظام ہوتا ہے ۔گویا غسل خانہ ،وضو خانہ اور بیت الخلاء ایک ہی چھوٹے حصے میںہیں اور درمیان میں کوئی فاصلہ یا آڑ بھی نہیں،بلکہ حج کے دوران منیٰ ،عرفات ،مزدلفہ بلکہ جدّہ ائر پورٹ پر تو اُسی سیٹ پر بیٹھ کر قضائے حاجت کرنی ہوتی ہے اور اُسی سیٹ پر کھڑے ہوکر وضو یا غسل کرنا ہوتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ایسے بیت الخلاء میں دعا کب اورکہاں پڑھیں۔پھر وضو کی دعائیں کب پڑھیںگے؟ تفصیل سے جواب فرمائیں۔
توصیف آصف ۔اننت ناگ

اٹیچ باتھ روم میں دعا ء پڑھنے کا مسئلہ
جواب :۔بیت الخلا معہ غسل خانہ اگر ایک ہی جگہ ہو، جیساکہ آج کل عموماً ایسا ہی ہوتا ہے ،تو اندر داخل ہونے سے پہلے بیت الخلاء جانے کی دعا پڑھی جائے۔اگر داخل ہونے کے وقت خیال نہ رہے تو بیت الخلاء کے قدمچوں پر پائوں رکھنے سے پہلے پہلے دعا پڑھ سکتے ہیں،پھر بیت الخلاء کی ضرورت پورا کرکے جب وہاں سے دوسرے حصے میں پہنچ جائیں جہاں وضو یا غسل کرنا ہے تو قدمچوںسے نیچے اُترتے ہی وہ دعا پڑھیںجو بیت الخلاء کی ضرورت کے اختتام پر پڑھتے ہیں۔پھر وضو شروع کریں تو وضو کی تمام دعائیں اُس جگہ پڑھنا درست ہے جہاں بیٹھ کر وضو کرنا ہوتا ہے۔آج کل اکثر بیت الخلاء اور وضو خانہ ،غسل خانہ ایک حصہ میں ہوتا ہے اور عام طور پر صاف ہوتا ہے ،اس لئے یہ دعا ئیں پڑھنے کی اجازت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :۔ چار رکعت والی نماز میں اگر غلطی سے پہلی یا تیسری رکعت میں قعدہ (التحیات) کے لئے بیٹھ گئے تو نماز کا کیا حکم ہے،کیا سجدہ سہَو کرنا ہے۔
منیب احمد۔ پٹن

تیسری رکعت میں تشہد پڑھنے پر سجدۂ سہَو لازم
جواب :۔نجس شخص نے بھول کر پہلی یا تیسری رکعت میں تشہد پڑا ،اُس کو اخیر میں سجدۂ سہَو کرنا ضروری ہے۔اگر کوئی شخص صرف بیٹھ گیا اور اتنی دیر بیٹھا جتنی دیر جلسۂ استراحت ہوتا ہے تو پھر صرف بیٹھنے پر سجدہ سہَونہ ہوگا ۔اس لئے کہ جلسۂ استراحت بھی احادیث سے ثابت ہے۔ہاں جب التحیات مکمل یا کچھ حصہ پڑھے تو سجدہ سہَو لازم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :۔کیا باجماعت نماز نہ پڑھنے سے انسان فاسق و فاجر ہوجاتا ہے؟
فیضان منظور ۔بارہمولہ

بلاعذر باجماعت میں شرکت نہ کرنا سخت گناہ
جواب :۔نماز باجماعت پڑھنے کی قرآن و حدیث میں سخت تاکید ہے ۔قرآن کریم میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے :ترجمہ۔ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔حدیث میں ہے ۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرا دِل چاہتا ہے ،اُن لوگوں کے گھروں کو آگ لگادوں جو بلا عذر اپنے گھروں میںنماز پڑھتے ہیں۔یہ حدیث بخاری ،مسلم ، ترمذی وغیرہ حدیث کی کتابوں میں ہے۔اس کے علاوہ اور بہت ساری احادیث میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنےکی سخت تاکید ہے۔اس لئے بلا عذر و مجبوری کے ترک جماعت کرنا سخت گناہ ہے۔ملاخطہ فرمایئے ،فضائل نماز۔ از شیخ الحدیث حضرت مولانا ذکریا ؒ،یا اس سے بڑی حدیث کی کتابیں ،جن میں نماز با جماعت کے فضائل اور ترکِ جماعت پر سخت وعید یں بیا ن ہوئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال :۔کیا موبائل پر قرآن پڑھ سکتے ہیں ؟ اگر ہاں تو پھر یہ بتایئے کہ اگر وہی موبائل لے کر بندہ باتھ روم میں یا پیشاب کرنے جاتا ہے تو اس پر کیا حکم ہے؟ اور اگر اجازت ہے تو کیا میں ٹیک لگاکر یا ٹانگیں پھیلاکر ورد کرسکتا ہوں؟
محمد حارث۔سرینگر

موبائل پر قرآن پڑھنے،اوردُرود وکلمات پڑھنے کا مسئلہ
جواب :۔ موبائل میں قرآن کریم ڈاون لوڈ کیا گیا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔پھر یہ موبائل سوئچ آن ہو یا سوئچ آف ،اس میں بھی کوئی حرج نہیںکہ یہ موبائل بیت الخلا ساتھ لے جائیں۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص بیت الخلا جائے ،جبکہ اُس کے حافظہ اور دماغ میں قرآن کریم کا بہت سارا یا پورا قرآن کریم محفوظ ہوتا ہے،اور پھر بھی وہ شخص بیت الخلا جاتا ہے۔پھر اس موبائل پر جب تلاوت کی جائے تو باوضو ہونا ضروری ہے ۔اس لئے کہ انگلی سے موبائل اسکرین کو ٹچ کرنا پڑے گا ۔لہٰذا باوضو ہوکر تلاوت کی جائے۔ٹیک لگاکر تلاوت کرنے کی اجازت ہے۔اور اگر ٹانگوں میں تکلیف ہو ،انہیں موڑکر رکھنے میں مشکل ہو تو مجبوری میں پھیلانے کی گنجائش ہے لیکن آخری بات یہ کہ سب سے افضل یہ ہے کہ صحیفۂ مبارک ہاتھ میں لے کر قرآن کریم کی تلاوت کی جائے،اور تلاوت کے تمام آداب کے ساتھ ہو۔