کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

مفتی نذیر احمد قاسمی
نکاح خوانی، مہر اور تھان…شرعی احکام

سوال:۱- نکاح خوانی کا طریقہ کیا ہے ؟

سوال:۲-مہر کتنا مقرر کرنا چاہئے ؟

سوال:۳- مہر کے علاوہ تھان نکاح اور زیورات کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے ۔ نکاح کی مجلس میں ان معاملات کے متعلق کیا کچھ تحریر میں لایا جانا چاہئے؟

سوال:۴-مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کا کیا طریقہ ہوتاہے ؟

سوال:۵- لڑکی سے نکاح کی اجازت لینے کا حق کس کو ہے اور اس کی طرف سے کس بات کو رضامندی سمجھا جائے ۔

سوال:۶- نکاح مجلس کے بعد نکاح خواں کو اُجرت دی جاتی ہے ۔ یہ اُجرت لڑکے والے کو دینی ہوتی یا لڑکی والوں کو۔ عام طور پر لڑکے والے یہ اجرت دیتے ہیں اگر نکاح خواں لڑکی والے بلا کرلے آتے ہیں ۔ توپھر لڑکے والوں سے کیوں اُجرت لی جاتی ہے ۔یہ اجرت لینا جائز ہے یا نہیں ۔تفصیل سے لکھئے ۔

ایک سائل …کپواڑہ کشمیر

جواب:۱-نکاح خوانی کا طریقہ یہ ہے کہ مجلس نکاح میں پہلے نکاح کی فضیلت ، ضرورت اور زوجین کے حقوق مہر کے احکام اور نکاح کو کامیاب بنانے کے اصول بیان کئے جائیں ۔ اس کے لئے ازدواجی زندگی کے رہنما اصول از پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم کا مطالعہ مفید رہے گا۔اس کے بعد دونوں طرف کے حضرات سے مہر مقرر کرنے کا حکم بیان کیا جائے ۔ اُس کے بعد مہر کے علاوہ دئے جانے والے تحائف کی تفصیل معلوم کی جائے پھرلڑکے کی طرف سے مقرر شدہ وکیل سے وکالتِ نکاح کابیان لیا جائے اور اُس کی طرف سے آنے والے گواہان سے شہادت لی جائے ۔ اسی طرح لڑکی کی طرف سے مقررہ وکیل سے پوچھا جائے کہ کیا وہ وکیل ہے ۔کیا لڑکی نے اُسے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے اور مہر کے متعلق لڑکی نے کیا کہاہے۔ یہ سب باتیں وکیل سے معلوم کرکے پھر گواہوں سے شہادت لے کر طے کی جائیں ۔پھر نکاح کی دستاویز لکھی جائے ۔ جب نکاح نامہ میں تمام مندرجات لکھے گئے تو حاضرین مجلس کو سنا دیا جائے۔اُس کے بعد خطبۂ نکاح پڑھا جائے ۔ پھر لڑکی کی طرف سے مقررہ وکیل سے اقرار کرایا جائے کہ اُس نے لڑکی کا نکاح فلاں ولد فلاں کے ساتھ کردیا۔ اس کے بعد لڑکے کے وکیل سے نکاح قبول کرنے کو کہاجائے ۔جب وکیل ناکح زبان سے کہے کہ میں نے اس مقررہ مہر کے عوض یہ نکاح اپنے موکل (لڑکے)کے لئے قبول کرلیا تو نکاح ہوگیا ۔ 

اب نکاح کے بعد جو مسنون دعا پڑھی جائے اور رشتہ کی کامیابی کی بھی دعا کی جائے ۔اس کے بعد نکا ح نامہ پر دستخط کرائے جائیں ۔ دستخط میں نام بھی لکھوایا جائے ۔پھر نکاح نامے کی ایک کاپی لڑکے کے وکیل اور دوسری کاپی لڑکی کے وکیل کے حوالے کی جائے ۔اگر مجلس نکاح میں مہر ادا کیا جائے تو پہلے مہر کی رقم لڑکی کے وکیل کے حوالے کر کے اُس سے مہر وصو ل کرنے کا اقرار لیا جائے اُس کے بعد دستخط کرائے جائیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب:۲-شریعت اسلامیہ نے مہر کی مقدار اپنی طرف سے مقرر نہیں کی ہے بلکہ اس کا فیصلہ دونوں طرف کے اولیاء کے ذمہ رکھاہے ۔ وہ دونوں اپنی مالی حیثیت ، معاشرتی درجہ اور اپنے عرف و اپنے خاندانوں کے رائج مہر کو سامنے رکھ کر دونوں کی رضامندی سے جو مہر مقرر کریں گے اسلام کی نظر میں وہ قبول ہوگا۔ البتہ جومہر بھی مقرر ہوجائے اس کے لئے اولین ترجیح اس کو دی جائے کہ وہ مجلس نکاح میں بھی ادا ہوجائے اور زیورات جن کو کشمیری عرف میں تھانِ نکاح کہتے ہیں اُن کو مہر میں ہی شامل کیا جائے تو وہ بھی درست ہوگا بلکہ زیادہ بہتر ہے تاکہ لڑکی کو یہ چیزیں رسماً لینے کے بجائے شرعاً لینے کا حق ملے ۔ اس لئے تھان کے نام پر دئے جانے والے زیورات کے لئے بہتر ہے کہ اُن کو مہر قرار دیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب:۳-مہر کے علاوہ زیورات تحائف دینے کا رواج ہے ۔ یہ شرعاً لازم بھی نہیں اور شرعاً منع بھی نہیں ہے۔ اگر دئے گئے تو کوئی فضیلت یا گناہ نہیں اور اگر نہ دئے گئے تو بھی گناہ نہیں، یا کوئی حق تلفی نہیں ہے ۔اگر زیورات یا نقد رقم تھان کے نام پر دی جائے تو نکاح مجلس میں اس کی وضاحت کرائی جائے کہ یہ زیورات یا سونا اور دوسرے تحائف جو تھان کے نام پر دئے جارہے ہیں یہ لڑکی کو بطور تحفہ دیئے جارہے ہیں۔ یا بطور عاریت کے یعنی کیا ان کی مالک لڑکی ہوگی یا لڑکا؟ اگر یہ تحفہ کے طور پر دئے گئے تو نکاح نامہ میں تھان کے خانے میں لکھ دیا جائے کہ یہ سب بطور تحفہ کے ہیںتاکہ آئندہ لڑکی سے یہ تحائف واپس لینے یا نہ لینے کا نزاع پیدا نہ ہو پائے۔ اگر یہ زیورات عاریتاً استعمال کئے جائیں تو یہ بات لڑکی والوں پر اچھی طرح واضح کر دی جائے کہ اب تک اور آج جو زیورات دئے گئے ہیں ان کو لڑکے والے امانت قرار دے رہے ہیں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ لڑکا جب چاہے یہ زیورات واپس لے سکتاہے ۔ یہ صورتحال جب لڑکی والوں کے سامنے پوری طرح واضح ہوگئی تو وہ اس پراپنی رضا یا عدم رضا کا اظہار کریں گے اور ممکن ہے کہ وہ مہر میں ہی اضافہ کرنے کی تجویز پیش کریں۔بہرحال تھان کے متعلق اچھی طرح سے یہ بات طے کرائی جائے کہ یہ کیا ہے ؟ تحفہ یا امانت !!یہ اس لئے ضروری ہے تاکہ آئندہ زوجین کے درمیان کوئی ابہام یا نزاع نہ ہونے پائے اور دونوں اس پر کاربند رہیں ۔ ورنہ خاندانوں کے نزاعات کا ایک سبب یہ بھی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب:۴- مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کرانے کا طریقہ ایک یہ ہے کہ لڑکی کے وکیل سے ایجاب کرایا جائے اور لڑکے کے وکیل سے قبول کرایا جائے ۔اس کے برعکس بھی کرانا درست ہے ۔ ایجاب وقبول کے الفاظ نکاح خواں کہلوائے یہ بھی درست ہے اور وہ الفاظ خود کہہ کر اُن سے صرف اقرار کرایا جائے یہ بھی درست ہے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب:۵- لڑکی سے اجازت لینے والا وکیل کون ہو۔اس کے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ لڑکی کا باپ خود وکیل بنے جیسے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حضرت فاطمہؓ کی طرف سے وکیل بنے تھے ۔ اگر باپ حیاء کی وجہ سے آمادہ نہ ہو تو لڑکی کا بھائی ، دادا ، چاچا ، ماموں وغیرہ ایسے حضرات وکیل بنیں جو لڑکی کے محرم ہوں ۔ کسی نامحرم کو وکیل یا گواہ بنانا گناہ ہے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب:۶- نکاح خوانی ایک دینی کام ہے اُس کی اُجرت طے کرنا ، اُجرت لینے کا مطالبہ کرنا یا اُس پر بحث وتمحیص اور ردوکد کرنا ہرگز درست نہیں ہے اور پھر اجرت پر تکرار واصرار بھی شرعاً غلط ہے ۔ 

ہاں اگر لڑکے والے یا لڑکی والے اپنی رضامندی کے بغیر مطالبہ کے بطور تحفہ دیں اور اصرار کے ساتھ اسے قبول کرنے کی التماس کریں تو یہ ہدیہ لینا دُرست ہے ۔ تفصیل کے لئے امداد دارالفتاویٰ اجرت نکاح کا بیان دیکھئے جس کا عنوان الصراح فی اجرۃ النکاح ہے ۔

کشمیر کے عرف میں نکاح خواں کا انتظام لڑکی والے کرتے ہیں۔ تاہم لڑکے والوں کوبھی یہ حق ہے کہ وہ خود اس کاانتظام کریں اور یہاں کے عرف میں ہی یہ بھی ہے کہ عموماً نکاح خواں کو ہدیہ لڑکے والے دیتے ہیں ۔اس میں بھی مضائقہ نہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ اُجرت نہ ہو بلکہ ہدیہ ہو ۔ اُجرت اور ہدیہ میں بہت فرق ہے ۔اُجرت کا مطالبہ ہواکرتاہے ۔ ہدیہ کا مطالبہ نہیں بلکہ محبت واصرار سے پیش کی جاتی ہے ۔ اُجرت کی بنیادمحنت ہے ہدیہ کی بنیاد محبت ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوال:۱- کچھ گھرانوں میں یہ رسم بھی عام ہے کہ لڑکے لڑکی کی شادی دوعیدین یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی کے درمیان کرنا ناجائز سمجھا جاتاہے ۔

سوال:۲-کچھ لوگ اسلامی کلینڈر کے حساب  سے چھ تاریخیں یعنی 28،18،8،23،13،3 کو منحوس سمجھتے ہیں اور اکثر وبیشتر شادی بیاہ کی تاریخ مقرر کرتے وقت مذکورہ تاریخوں کا دھیان رکھاجاتاہے ۔ 

الیاس احمد  …کشمیر

عیدین کے درمیان نکاح ورخصتی درست 

جواب:۱- دوعیدوں کے درمیان نکاح بھی درست ہے اور رخصتی بھی درست ہے ۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مبارک نکاح جو حضرت عائشہؓ کے ساتھ ہوا تھا ، وہ نکاح بھی شوال یعنی دوعیدوں کے درمیان ہوا تھا اور رخصتی بھی دوعیدوں کے درمیان ہی ہوئی تھی ۔ اس لئے اس باطل تصور کو سختی سے ردّ بھی کرنا ضروری ہے اور سماج میں اس کی بار بار یاددہانی کرانا بھی ضروری ہے تاکہ یہ باطل خیال مٹ جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی مخصوص تاریخ کو منحوس سمجھنا مشرکانہ 

جواب:۲- حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام میں طیرہ کی کوئی جگہ نہیں ۔(بخاری ومسلم)طیرہ کے معنی کسی تاریخ ،یا دن ،یا جگہ ،یا چیز کو منحوس سمجھنا ۔جب صحیح حدیث رسولؐ میں سے اس کی نفی ثابت ہے تو اس کے بعد کسی تاریخ کو منحوس سمجھنا سرار غیر شرعی ہے ۔ لہٰذا ۳، ۱۳،۲۳… یا ۸،۱۸،۲۸ کو منحوس سمجھنے اور پھر ان تاریخوں میں کسی کام مثلاً نکاح ، رخصتی یا آپریشن یا کسی خریداری سے اجتناب کرنا یہ سراسر مشرکانہ تصور ہے ۔