کانگریس کی مدھیہ پردیش،راجستھان اور چھتیس گڑھ میں ہار قبول یواین آئی

نئی دہلی// کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارٹی کو اکثریت سے جیتانے پر تلنگانہ کے عوام کا شکریہ ادا کیا لیکن کہا کہ وہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں ملنے والے عوامی مینڈیٹ کو عاجزی سے قبول کرتے ہیں۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کی لڑائی نظریات کی ہے اور یہ لڑائی جاری رہے گی۔ قبل ازیں پارٹی صدر ملک ارجن کھڑگے نے تلنگانہ کے عوام سے اظہار تشکر کیا اور مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس کو ووٹ دینے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ گاندھی نے کہا،’’ہم عاجزی کے ساتھ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے مینڈیٹ کو قبول کرتے ہیں ۔ نظریات کی لڑائی جاری رہے گی۔‘‘انہوں نے کانگریس کو اکثریت دینے پر تلنگانہ کے رائے دہندوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں تلنگانہ کے عوام کا بہت شکر گزار ہوں۔ ہم عوام حامی تلنگانہ بنانے کے وعدے کو ضرور پورا کریں گے۔ تمام کارکنوں کا ان کی محنت اور حمایت کا تہہ دل سے شکریہ۔‘‘دریں اثنا، کانگریس کے کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے انچارج جئے رام رمیش نے کہا کہ پارٹی جلد ہی ان ریاستوں میں دوبارہ مضبوط ہو جائے گی جہاں اسے شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا،’’ٹھیک 20 سال پہلے، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس وقت، ہم صرف دہلی میں جیتے تھے، لیکن چند ماہ کے اندر زبردست واپسی کرتے ہوئے کانگریس لوک سبھا انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری اور مرکز میں حکومت بنائی۔ امید، اعتماد، صبر اور عزم کے ساتھ، انڈین نیشنل کانگریس آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لئے تیاری کرے گی۔‘‘