کارٹ روڈ سے قومی شاہراہ تک

 جموں وکشمیر نیشنل ہائی وے کم و بیش تین سو کلو میٹر لمبا ئی پر محیط ہے۔ یہ سرمائی راجدھانی جموں اورگرمائی راجدھانی کشمیر کو آپس میں مِلاتی ہے۔ یہ سڑک1922میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے زمانے میں عوام کے لئے کھولی گئی تھی جو تب تک صرف اور صرف مہاراجہ اور اسکے غیر ملکی مہمانوں کے لئے مختص ہوا کرتی تھی۔یہ سڑک مہاراجہ پرتاب سنگھ کے زمانے میں اُس وقت کے مشہور انجینئر پنڈت لکشمن جُو،جوا یک کشمیری انجینئر تھے،نے نے پچاس لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر کی تھی۔1889میںاسکی تعمیرشروع ہو کر1915 میں مکمل ہوئی تھی۔یہ سڑک جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے 1922میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے  ایک آرڈیننس کے تحت عوام کیلئے کھول دی تھی۔
1915میں مکمل ہو کر مہاراجہ نے اس سڑک کو اپنے لئے استعمال کرنا شر وع کیا تھا۔ اس سڑک پر رفتہ رفتہ کام ہوتا رہا اور ایک اہم سڑک ہونے کے باوجود اس پر اتنی توجہ نہ دی گئی جتنی اس کے لئے درکار تھی ۔
 مہاراجہ کے کئے ہوئے سروے کے مطابق ہی اس پر کام ہوتا رہا اور کشادہ ہوتی گئی مگر کوئی اہم متبادل سروے اور کام نہ ہوا ۔ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے زمانے میں ہی اسکو بانہال کارٹ روڈ کا نام دیا گیا۔
اس سے پہلے ایک اور سڑک جہلم ویلی روڈ کے نام سے کوہالہ سے بارمولہ تک بنائی گئی تھی۔ اس سڑک کو1889سے لیکر1897تک کے عرصے میں مکمل کیا گیا تھا جسکو بعد میں سرینگر تک ملایا گیا۔جموں سرینگر بی سی روڈ ہمیشہ حکومت کے لئے بھی درد سر کا باعث رہی۔ اکثر حصوں پر سڑک بارشوں اور برف کی وجہ سے خراب ہوتی رہی اور تعمیر ہوتی رہی۔ ناشری ایک اہم پڑائو تھا جو ہمیشہ انجینئروں کے لئے چیلنج بنارہا جسکے لئے ایک متبادل ناشری بائی پاس بنایا گیا مگر تب بھی مسئلہ حل نہ ہوا ۔رام بن سے بانہال تک کی سڑک ہمیشہ سے حکومت کے لئے ایک چیلنج بنی رہی جسکی وجہ سے ٹریفک کا نظام ہمیشہ سے درہم بر ہم رہتا رہا ۔جموں اور کشمیر کو علاحدہ کرنے والے عظیم اور اونچے پیر پنچال پہاڑ کے آخری سرے پر اسکا ایک چھوٹا سا ٹنل بنا دیا گیا تھا جو آدھے کلو میٹر سے بھی کم ہے ۔ یہ ساری سڑک دشوار گزار اور تنگ تھی جس پر لوگوں کا چلنا مشکل تھا اور سردیوں میں لوگ برف کی زد میں آکر یہاں پھسلن کی وجہ سے دب کر مر جاتے تھے اور پھر کہیں جون جولائی میں انکو برف کے نیچے سے نکالا جاتا تھاجس سے بہت قیمتی جانوں کا نقصان ہوا کرتا تھا ۔ 
اُسوقت کی حکومت نے جرمن انجینئروں سے ایک ٹنل بنانے کا معاہدہ کیا جسکی تعمیر1954سے شروع ہوئی اور22دسمبر1956میں مکمل ہوئی۔ اس ٹنل کی دوسرنگیں تعمیر ہو ئیںجوایکدوسرے کے متوازی بنائی گئیں۔ اس ٹنل کو اس وقت کے وزیر اعظم کے نام پر جواہر ٹنل کا نام دیا گیا ۔یہ ٹنل سطح سمندر سے7200فٹ کی اونچائی پر تعمیر کیا گیا۔ اس ٹنل کے تعمیر ہونے سے عوام کو بڑی راحت ملی اور کشمیر کا فاصلہ بانہال سے بہت کم ہوا،اور دشوار گذار اور منحنی سڑک پر چلنے سے لوگ بری ہوے ٔ۔
 اسکے بعد ریلوے پروجیکٹ کشمیر کے لئے منظور ہوا جو مراحل سے گذرتا ہوا تکمیل کی طرف گامزن ہے۔بانہال میں پیر پنچال کو کاٹ کر انجینئروں نے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا اور پہاڑ کو چیر کر ایک سرنگ بنائی جو ریلوے پروجیکٹ کا ایک اہم ترین حصہ ہے ۔ یہ سرنگ 11.215کلو میٹر لمبائی پر مشتمل ہے اور ریلوے تاریخ میں اسکو اہم درجہ حاصل ہے جو کہ ہندوستان کی سب سے لمبی ریلوے سرنگوں میں مانی جاتی ہے۔ ریلوے ٹنل جواہر ٹنل سے1440فٹ نیچے تعمیر ہوا ہے اور سطح سمندر سے5770فٹ(1760میٹر)کی بلندی پر واقع ہے ۔ یہ سرنگ انجینئرنگ کا ایک شاہکارنمونہ ہے اور اسکو جدید طرزِ تعمیر سے بنایا گیا ہے۔ ( اسکے لئے الگ سے میرا ایک مضمون ’ چھُک چھُک ریل آئی‘کے نام سے موجودہے )۔ اس ریلوے ٹنل کی تعمیر اور ریل کے آنے سے زندگی تبدیل ہو گئی اور آسانیاں میسر ہوئیں۔
سڑک کی بد حالی اور تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت وقت نے ( واجپائی جی کے دور حکومت میں) ایک تفصیلی سروے ہوا،اور بانہال کارٹ روڈ، جو اب نیشنل ہائی وے کے طور پر جانا جاتا ہے ،کو چار لین روڈ بنانے کا فیصلہ لیا گیا ۔ اس کام کو ہا تھ میں لیکر اسکو نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انِڈیا NHAI کے تحت کردیا گیاجو سڑک جو اس سے پہلے بیکنBECON کے تحت کردی گئی تھی اور وہی اسکی دیکھ ریکھ کرتی تھی۔اس سڑک کو نیشنل پروجیکٹ کے طور پر اپنایا گیا اور2011سے کام شروع کیاگیا ۔اس سڑک کے پروجیکٹ کو مکمل کرنے کیلئے اسکو چھ حصوں میںتقسیم کیا گیا جو درج ذیل ہیں؛
۱۔جموں سے ادھمپور65 کلو میٹر کا حصہ۲۔ چنینی ناشری ٹنل ۳۔رام بن تا چنینی ٹنل۴۔ بانہال تا رامبن۵۔بانہال تا قاضی گنڈ۶۔ سرینگر تا قاضی گنڈ۔اس تمام پروجیکٹ کو پانچ برسوں میں مکمل کرنے کا ہدف بنایا گیا تھا ۔ کام چلتا رہااور ایک ایک کرکے اسکے مختلف حصے تیار ہوتے گئے۔
اسی پروجیکٹ کا اہم حصہ بانہال قاضی گنڈ سڑک ٹنل ہے جس کو2011میں در دست لیاگیاتھا۔ بانہال قاضی گنڈ ٹنل ساڑھے آٹھ کلو میٹر لمبا ہے۔ اسکو پیر پنچال کے دامن میں اس عظیم پہاڑ کے سینے کو گنڈ نامی جگہ سے شروع کیا گیا ہے اور قاضی گنڈ سے پہلے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر نکالاگیاہے ۔ یہ ٹنل سطح سمندر سے5870 فٹ کی اونچائی پر تعمیر ہوا ہے ۔ اسکی دو سرنگیں ہیں اور دونوں متوازی بنائی گئی ہیں۔ بیچ میں ان دونوں کو ملانے کے لئے پانچ سو فٹ کے وقفے پر ایک اندرونی راستہ بنایا گیا ہے جو ان دو سرنگوں کو باہم جوڑتاہے ۔ دونوں سرنگیں سات میٹر چوڑی بنائی گئی ہیں۔یہ ٹنل قاضی گنڈ سے بانہال تک 16کلو میٹر کا فاصلہ کم کرے گا اور جس سے ایک دشوار گذار علاقہ سر کرنے کی زحمت اُٹھانی نہیں پڑے گی ۔2018میں اس ٹنل کو آر پار کر دیا گیا تھا مگر باقی کام مکمل کرنے میں اب تک کا وقت صرف ہوتا رہا۔ یہ ٹنل33.4859شمال اور33.5646جنوب کے طول بلد اور عرض بلد پر واقع ہے۔ اس ٹنل کو مکمل کرنے کے لئے2100کروڑ روپے کا تخمینہ کیا گیا تھا مگر ابھی تک اس پروجیکٹ پر1850 کر و ڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں ۔ اس ٹنل کو عوام کے لئے وقف کرنے کا ہدف بھی2018سے وقتاًفوقتاً بدلتا رہا  اور آخر میں2020 مارچ مقرر کیا گیا مگر نا مساعد حالات کی وجہ سے پھر ایسا نہ ہو سکا مگرکام آہستہ آہستہ جاری رہا اور اب اسی ماہ کے آخر تک یہ ٹنل ٹریفک کیلئے کھولے جانے کی امید ہے۔ اس ٹنل کو آسٹریلین ٹنلِنگ میتھڈ’’Australian Tunneling Method‘‘ کے طریقے سے بنایا گیا ہے۔ اس ٹنل میں126جٹ پنکھے لگا ئے گئے ہیں،جو ہر وقت تازہ ہوا میسّر کرتے رہتے ہیں اور خراب ہوا کو باہر نکالتے رہیںگے۔234سی سی ٹی وی کیمرہ لگائے گئے ہیں جو ہر طرح کی سرگرمی پر نظر رکھیں گے ۔آگ سے بچنے کیلئے فا ئر فائٹنگ سسٹم لگایا گیا ہے جو آگ سے بچانے کا کام کرے گا۔
اس ٹنل کوبنائو،چلائو اور منتقل کرویعنی’’  Built,operate and transfer‘‘ کے اصول پر تعمیر کیا گیا ہے۔ جسکے لئے دونوں طرف سے گاڑیوں کو ٹول دینا پڑے گا ۔ اس پروجیکٹ پر ہزاروں انجینئروں، ورکروں ،مزدوروں ٹھیکیداروں نے رات دِن کام کیا اور ایک بہترین نمونہ قوم کے لییٔ تعمیر کیا جسکے لییٔ سب ورکر ،جو اس پروجیکٹ سے عملی یا غیر عملی طور پر جڑے رہے، واقعی طور مبارک باد کے مستحق ہیں اور ہم جموںوکشمیرکے تمام باشندگاں اور خاص کربانہال کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے اُن تمام ورکروں کو سلام پیش کرتے ہیںجنہوں نے اپنا گھر بار چھُوڑکراور جنکی انتھک کوششوں اور محنت سے یہ عظیم پروجیکٹ پایہ تکمیل کو پہنچا۔
وزیراعظم نریندرمودی مبارک کے مستحق ہیں جو اس ٹنل کو عوام کے نام کسی بھی وقت اب وقف کرنے والے ہیں ۔ ہماری آیندہ نسلیں ان پروجیکٹوں سے فائدہ اُٹھاتی رہیں ،یہی خراج تحسین ہم اُن ورکروں کے نام کرتے ہیں ۔ اس طرح سے ان پروجیکٹوں کی وجہ سے بانہال ایک اہم قصبے کے طور سے نام پا رہا ہے جسکو تاریخ اچھے لفظوں میں لکھے گی اور بانہال کے لوگ ہمیشہ ان کو یاد کریں گے ۔
رابطہ۔پیر پنچال ادبی فورم بانہال
فون نمبر۔7889527398
ای میل۔[email protected]
������������