عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //جموں و کشمیر کی سیاست میں آئندہ چند روز کے دوران دو اہم پیش رفت متوقع ہیں۔ ایک جانب نیشنل کانفرنس ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے پر نئی دہلی کے جنتر منتر میں احتجاج کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ دہلی احتجاج سے قبل کابینہ میں توسیع اور رد و بدل کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔گلستان نیوز سے خصوصی گفتگو میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا ایک اہم اجلاس پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی صدارت میں سری نگر میں منعقد ہوگا، جس میں جنتر منتر احتجاج کی حکمت عملی اور پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز احتجاج میں شرکت کرنے والے پارٹی رہنماؤں کے ناموں کو حتمی شکل دی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کابینہ میں توسیع اور رد و بدل کا فیصلہ حالیہ داچھی گام اجلاس میں کیا گیا، جہاں حکومت کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزارتی کی کونسل میں تبدیلی کو ضروری قرار دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عمل دہلی احتجاج سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔واضح رہے کہ عمر عبداللہ حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد یہ پہلی بڑی کابینہ توسیع اور رد و بدل ہوگا، جسے موجودہ حکومت کی انتظامی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ داچھی گام میٹنگ میں، حکمراں این سی اور پارٹی کی حمایت کرنے والے آزاد اراکین نے فنڈ مختص کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے رویے پر وزرا، خاص طور پر نائب وزیر اعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔نائب وزیراعلیٰ کے علاوہ پی ایچ ای، آبپاشی اور فلڈ کنٹرول، جنگلات کے وزیر جاوید رانا اور سی اے پی ڈی کے وزیر ستیش شرما کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔عمر عبداللہ حکومت مزید تین وزرا کو شامل کر سکتی ہے کیونکہ جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 نو وزرا تک کی اجازت دیتا ہے۔ وزارتی کونسل کی موجودہ تعداد چھ ہے۔ کابینہ میں موجودہ وزرا بھی توسیع کے بعد اہم محکموں سے محروم ہو سکتے ہیں جب وزیر اعلیٰ قلمدان مختص یادوبارہ تقسیم کرتے ہیں۔