ڈاکخانوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی: وشنو

یواین آئی

نئی دہلی// مواصلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر اشونی وشنو نے کہا ہے کہ ڈاک خانوں کی نجکاری نہیں کی جائے گی اور حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔پیر کو راجیہ سبھا میں پوسٹ آفس بل 2023 پر بحث کا جواب دیتے ہوئے ویشنو نے کہا کہ کچھ ارکان نے ڈاک خانوں کی نجکاری کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ ڈاکخانوں کی نجکاری نہیں کی جارہی ہے اور حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے ذریعے پوسٹ آفس کو وسعت دینے اور کئی طرح کی خدمات شروع کرنے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوسٹ آفس اب بینک بن چکے ہیں۔ پوسٹ آفس کے بچت کھاتوں میں 17 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ جمع ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سوکنیا اسمردھی یوجنا میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھی جمع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی مختلف سرکاری اسکیموں کے فائدے بھی پوسٹ آفس کے ذریعے ہر گھر تک پہنچائے جارہے ہیں۔ کانگریس کے شکتی سنگھ گوہل کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ویشنو نے کہا کہ اب تک کانگریس صرف استعمار کی ذہنیت کے ساتھ کام کرتی رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کانگریس اب سکڑ رہی ہے۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نتائج کانگریس کے زوال کی واضح علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انگریز دور سے پہلے بھی ملک میں پوسٹل سروس کا نظام موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے محکمہ ڈاک میں 1 لاکھ 28 ہزار لوگوں کو روزگار دیا ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں 600 سے زیادہ ڈاکخانے بند ہو گئے تھے، وہیں مودی حکومت کے دور میں پانچ ہزار سے زیادہ نئے پوسٹ آفس کھولے گئے ہیں اور پانچ ہزار سے زیادہ ڈاکخانے شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔