چابہاربندرگاہ | امریکہ، ہندوستان اور ایران کے معاہدے سے ناخوش

یواین آئی

واشنگٹن// امریکہ نے ہندوستان اور ایران کے درمیان چابہار بندرگاہ سے متعلق معاہدے پر ناخوشی کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے پر ہندوستان سمیت کسی کو بھی جوابی کارروائی کی رعایت نہیں ہے۔پرنسپل نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے یہ انتباہ گزشتہ روز یہاں امریکی محکمہ خارجہ کی باقاعدہ بریفنگ میں دیا۔ بریفنگ میں پوچھا گیا تھاکہ ہندوستان نے ایران میں چابہار بندرگاہ کی ترقی کے لیے دس سالہ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ہندوستان اسے چین کی طرف سے پاکستان میں تعمیر کی گئی بندرگاہ کے مقابلہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس سوال پر کہ خاص طور پر ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے امریکہ کا کیا موقف ہے، پٹیل نے کہا کہ امریکہ ان رپورٹس سے واقف ہے کہ ایران اور ہندوستان نے چابہار بندرگاہ کے حوالے سے معاہدہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں ہندوستانی حکومت کو چابہار بندرگاہ کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی کے اہداف کے بارے میں بات کرنے دوں گا۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، ایران پر امریکی پابندیاں برقرار رہیں گی اور ہم انہیں برقرار رکھیں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پابندیوں کے تحت ہندوستانی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے ۔