عظمیٰ نیوزسروس
نئی دہلی// عوامی امتحانات میں پرچہ لیک اور نقل کی روک تھام سے متعلق قانون کو مزید سخت بنانے کے لیے مرکزی حکومت پیر کے روز پارلیمنٹ میں ’دی پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف اَن فیئر مینز) ایکٹ،‘2024 میں ترمیمی بل پیش کر سکتی ہے۔پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اراکین میں تقسیم کیے گئے بل کے مسودے کے مطابق، پرچہ لیک یا امتحانات میں ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے جرم میں ملوث افراد کے لیے کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے مجرموں پر 50 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔بل میں منظم جرائم، خصوصاً منظم انداز میں پرچہ لیک کے ریکیٹ چلانے والوں کے لیےکم از کم سات سال قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانہ کی تجویز رکھی گئی ہے۔مجوزہ ترمیم کے مطابق، پرچہ لیک سے متعلق تمام مقدمات کی تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوگا۔بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یوٹیز) کوفاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت دی جائے گی تاکہ ایسے مقدمات کی فوری سماعت ہو سکے اور چارج شیٹ داخل ہونے کے تین ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کیا جا سکے۔