پونچھ//جموں کشمیر بالخصوص پہاڑی علاقوں میں آئی موسمی تبدیلی کے بعد ڈھوکوں میں گئے ہوئے خانہ بدوش طبقہ کی میدانی علاقوں میں ہجرت شروع ہو گئی ہے ۔خانہ بدوش جو گرمیوں میں سینکڑوں بھیڑ بکریوں کو ہانکتے میلوں پیدل سفر کر کے کشمیر اور دیگر ٹھنڈے علاقوں میں گئے ہوئے تھے اب جب موسم میں تبدیلی آئی ہے تو گرم میدانی علاقوں کی جانب واپس لوٹ رہے ہیں۔خانہ بدوش قبیلے کے لوگوں کا زیادہ تر انحصار انہی مال مویشیوں پر ہوتا ہے اور ان کی کوچے کوچے نگر نگر ہجرت کی وجہ بھی یہی ہیں۔گرمیوں کے موسم میں کشمیر اور خطہ پیر پنچال کے سبزہ زار ان خانہ بدوشوں کے مویشیوں کی چراہ گاہیں بن جاتے ہیں۔ اس دوران مختصر مال و اسباب سمیت خمیے گاڑے یہ خاندان نہایت پر سکون زندگی گزارتے ہیں ۔سردیوں کی آمد پر ریوڑ ہانکتے، گھوڑوں پر ساز و سامان لادے، بیوی بچوں کے ہمراہ ان خانہ بدوشوں میں شامل بزرگ شخص حسن دین نے بتایا کہ سردیوں کے موسم میں ہم میدانی علاقوں میں اپنے گھروں کی جانب واپس آجاتے ہیں انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ جن کے گھر نہیں وہ مختلف میدانوں میںخیمے لگا لیتے ہیں اور وہاں لگا سبزہ مویشیوں کا چارہ بن جاتا ہے۔ چھ ماہ بعد جب پھول کھلنے لگیں گے ہم واپس پہاڑی علاقوں کو لوٹ آئیں گے۔انھوں نے کہا کہ ان کے بیوی بچے بھی اس زندگی کے عادی ہو چکے ہیں،انھیں یہی زندگی اچھی لگتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کے کچھ افراد گھوڑوں پر آگے نکل چکے ہیں شام ڈھلنے پر جہاں ان کو پڑاؤ ڈالنا ہے وہ وہاں پہلے پہنچ کر رات کا کھانا بنائیں گے کچھ دیر وہاں آرام کے بعد وہ اگلی منزل کی جانب نکل پڑیں گے ۔انھوں نے بتایا کہ ہمیں اس کام میں مزہ آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کے بعض بچے سکول بھی جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے قبیلے کے کچھ لوگ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور وہ مختلف سرکاری عہدوں پر فائذ ہیں اس کے باوجود انھیں اس زندگی میں زیادہ مزہ آتا ہے۔پونچھ کیساتھ ساتھ راجوری ضلع کے کئی میدانی علاقوں سے خانہ بدوش طبقہ کی ایک بڑی تعداد والی اور پیر پنچال پہاڑی سلسلے میں اپنے ما ل مویشیوں کے ہمراہ جاتے ہیں ۔