سید امجد شاہ
جموں//جموں جمعہ کو پونچھ میں فوج کے ایک ٹرک پر حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کئی مظاہروں کااہتمام کیا گیا ۔احتجاج میں سے ایک میں، بی جے پی کے اراکین نے کچی چھائونی چوک میں ایک احتجاجی مارچ نکالا اور جموں و کشمیر میں خاص طور پر پونچھ دہشت گردانہ حملے کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں کی پشت پناہی کرنے پر پاکستان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ایسا ہی احتجاج راشٹریہ بجرنگ دل نے بھی کیا تھا۔ مظاہرین نے پاکستان کا پتلا نذر آتش کیا اور دہشت گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ پاکستان راجوری اور پونچھ میں دہشت گردی کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے احتجاج کے دوران نعرے لگاتے ہوئے پاکستان سے بدلہ لینے کا مطالبہ کیا۔پونچھ دہشت گردانہ حملے کے خلاف جموں کے پرانے شہر میں اشوک گپتا کی قیادت میں شیوسینا اور ڈوگرہ فرنٹ کی طرف سے ایک اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے جموں میں ایک احتجاجی مارچ نکالا، جس میں پونچھ ضلع میں فوج کی گاڑی پر حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔جموں و کشمیر بی جے پی کے سربراہ رویندر رینا نے عسکریت پسندوں کے حملے کی مذمت کی اور کہا کہ فوجیوں کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا۔وی ایچ پی کے ریاستی ایگزیکٹو صدر راجیش گپتا کی قیادت میں، تنظیم اور بجرنگ دل کے سینکڑوں کارکنان شہر کے توی پل پر جمع ہوئے اور حملے کے خلاف احتجاج کیا۔انہوں نے فوج کی حمایت میں نعرے لگائے، اور عسکریت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔گپتا نے کہا کہ عسکریت پسندوں اور ان لوگوں کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہئے جنہوں نے عسکریت پسندوں کو پناہ دے کر ایسے گھناؤنے واقعات کو انجام دیا ہے۔انہوں نے حملے میں ہلاک ہونے والے پانچ فوجیوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔رائنا نے کہاکہ عسکریت پسندوں نے آرمی کی گاڑی پر دستی بم سے حملہ کیا اور پانچ فوجی ہلاک ہو گئے۔ جنگجویانہ کارروائی میں ملوث تمام افراد کو ختم کر دیا جائے گا۔ ادھر کانگریس نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور اسے پاکستان اور اس کے سپانسر شدہ عسکریت پسندوں کی طرف سے شدید اشتعال انگیزی قرار دیا۔ادھرچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جموں کے جنرل سکریٹری گورو گپتا نے اس حملے کو ’’بزدلانہ اور غیر انسانی‘‘ قرار دیا۔