پونچھ//منی سیکریٹریٹ پونچھ جس کا کام قریب قریب مکمل ہو چکا ہے میں ابھی تک سرکاری دفاتر منتقل نہیں کئے گئے ہیں ۔ضلع پونچھ کے صدر مقام پر سرکاری دفاتر نجی عمارتوں میں قائم ہیں اور اگر کسی شخص کو مختلف دفاتر میں ایک ہی وقت میں کام پڑ جائے تو اسے دفاتر کی تلاش میں کئی طرح کی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس میں کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں اورمنٹوں میں ہونے والے کام میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں۔لوگوں کی دیرانہ مانگ کے بعد تقریبا ایک دہائی قبل پونچھ میں اس وقت کی ریاستی سرکار نے ایک اہم فیصلہ کر کے پرانی پونچھ میں جہاز گرونڈ کے قریب ایک جگہ منتخب کر کے وہاں منی سیکریٹریٹ کی عمارت کا کام شروع کیا تھا تاکہ سبھی دفاتر اس میں منتقل کئے جائیں لیکن ابھی تک وہاں دفاترمنتقل نہیں ہوئے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کو آج بھی کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بار ایسوسی ایشن پونچھ کے صدر اور پی ڈی پی کے ضلع صدر ایڈوکیٹ محمد معروف خان نے کہاکہ پونچھ منی سیکریٹریٹ زیر تعمیر تھا جب کچھ سال پہلے عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا اور اس آپریشن کے دوران کچھ عسکریت پسندوں نے اس عمارت میں پناہ لی اور طویل آپریشن کے بعد ہندو فوج اور دیگر حفاظتی عملوں نے ان کو موت کے گھاٹ اتارا ۔انھوں نے کہا کہ اس وجہ سے عمارت کے کچھ حصے کو بھی نقصان پہنچاتھا جس کے بعد اس عمارت کی مرمتی اور اس کے تعمیراتی کام کو مکمل کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا تھا ۔انھوں نے کہا کہ اس عمارت کی تعمیرات کا کام قریب قریب مکمل ہوچکا ہے اوروہ کروڑوں کی عمارت ہندفوج کے زیر استعمال ہے۔انھوں نے کہا کہ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پونچھ کے کونے کونے میں پھیلے دفاتر اور پرائیویٹ عمارتوں میں رہنے والے دفاتر کو تلاش کرنے میں لوگوں کو پریشانی کرنی پڑ رہی ہے جبکہ حکومت نے ان دفاتر کو ایک عمارت لانے کے لئے کڑوروں روپئے خرچ کئے ہیں۔انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو دفاتر تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس طرف کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے۔مقامی معززین و بار ایسوسی ایشن صدر نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ اس عمارت میں منی سیکریٹریٹ کے کام کاج کے معاملات کو دیکھے اور ضلع ترقیاتی کمیشنر پونچھ کو ہدایت کریں کہ وہ تمام سرکاری دفاتر کو فوری منی سیکریٹریٹ میں منتقل کریں۔