سرینگر// پولیس اہلکاروں سے ہتھیار اڑانے پر روک لگانے کیلئے محکمہ نے اہلکاروں کو دوران ڈیوٹی بلٹ پروف جیکٹ پہننے اور اپنی ہتھیاروں کو زنجیر سے کمر بند کے ساتھ باندھنے کے علاوہ سمارٹ فون استعمال نہ کرنے کاحکم جاری کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس آرمڈ اے چودھری کی طرف سے جاری حکم نامہ میں 7نکات پر مشتمل آرڈر میں کہا گیا ہے ’’ اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ حالیہ ایام میں ہتھیاروں کو چھیننے کے واقعات کے وجوہات یہ سامنے آئی ہیں کہ ڈیوٹی پر تعینات سنتری بیشتر اوقات کے دوران اپنے سمارٹ فونوں کے ساتھ مشغول رہے،اور اپنی ڈیوٹی کے ساتھ سمجھوتہ کیا۔ان کا کہنا ہے کہ اس رجحان میں کافی اضافہ ہوا ہے،جس کے نتیجے میں ریاست بالخصوص وادی میں ہتھیاروں کو اڑایا گیایا تو اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا۔اس حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس رجحان کی وجہ سے نہ صرف محکمہ پولیس کی شبیہ متاثر ہوئی ہے،بلکہ انفرادی ذاتی سلامتی سے بھی سمجھوتہ کیا گیا۔حکم نامے کے مطابق مخصوص علاقوں کے اندر اور گرد نواح میں مجموعی سلامتی صورتحال ماتحت عملے کی نگرانی اور حساسیت میں کمی کی عکاس ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آرمڈ پولیس کی طرف سے جاری فرمان کے مطابق اہلکار ڈیوٹی اوقات کے دوران بلٹ پروف پہننے اور معقول انداز میں بیلٹ کے ساتھ اپنے ہتھیاروں کو زنجیر سے باندھیں۔اہلکاروں سے تاکید کی گئی ہے کہ وہ تمام گارڑ اپنے گارڈ کمروں میں ہمہ وقت متحرک طور پر دستیاب رہیں،جبکہ دن کے دوران وردیوں میں ملبوس رہیں۔ آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ یونٹ کے ڈیوٹی افسران ہر گھنٹے تمام کمپنی کمانڈروں سے صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کریں۔ اہلکاروں کو مشق و ورزش کرنے کی تاکید کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے انہیں نزدیکی ضلع پولیس تنصیبات یا سیکورٹی فورسز کی چوکیوں سے رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آرمڈ پولیس اور آئی آر پی کے تمام کمانڈروں کو ان ہدایات کو سختی سے لاگو کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ زمینی سطح پر بہتر نتائج کیلئے متعلقہ یونٹوں کو معقول انداز میں اس کی وضاحت کریں۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی لاپراوہی کے معاملے میں متعلقہ نگرانوں اور کمانڈنٹوں کو بھی ذمہ دار بنایا جائے گا۔اس سے قبل گزشتہ برس فورسز اور پولیس اہلکاروں سے ہتھیاروں کے چھیننے میں اضافہ کے رجحان کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوںنے کئی طرح کی تجاویز پیش کی ہے،جس سے اس سلسلے کو روکا جاسکتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ہتھیاروں کو چلانے کیلئے’’ریڈیو فریکونسی ایڈنٹیفکیشن ڈسک‘‘ کے تحت کوڈکا استعمال کرنا اور انہیں چھوٹے’’چپ‘‘ نصب کرنا جنہیں ،جی پی آر ایس سے جوڑا جاسکتا ہو،بھی شامل ہے،تاکہ ہتھیاروں کو اڑا کر انہیں ذخیرہ کرنے کی اصل جگہ بھی معلوم ہو سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ3برسوں کے دوران سیکورٹی اہلکاروں سے251ہتھیارچھین لئے گئے ہیں۔