پلوامہ میںاضافی بجلی بلوں کیخلاف لوگ سراپا احتجاج فیس کم نہیں کیاگیاتوکنکشن منقطع کرنے کی صارفین کی دھمکی

D582K5 FINAL WINTER ELECTRICITY BILL RE ENERGY PRICES COSTS RISING FUEL HOUSE HEATING HOUSEHOLD BUDGETS HOMES COLD WARM HOUSE WINTER UK. Image shot 2013. Exact date unknown.

مشتاق الاسلام

پلوامہ//بجلی فیس میں مسلسل اضافہ کئے جانے پر پلوامہ کے متعدد دیہات کے لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر بجلی فیس میں کمی نہیں کی گئی تو وہ اپنابجلی کاکنکشن ہی کاٹ دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔ضلع پلوامہ میں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ہر گزرتے ماہ بجلی فیس میں 300 روپیوں کے اضافہ نے صارفین کو مصیبت میں ڈال دیا ہے۔بجلی کا ماہانہ فیس 1850 سو کے قریب پہنچ کر ضلع کے متعدد مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا شروع کردیا ہے۔لوگوں نے بجلی فیس میں واپس کمی نہ کرنے پر بجلی کے کھمبوں اور تاروں کو اکھاڑنے کی دھمکی دے دی ہے۔محکمہ بجلی کی طرف سے بغیر میٹر علاقوں میں یکم جنوری سے بجلی کی بلوں میں مسلسل 300 سے زائد روپیوں کا اضافہ کیا جارہا ہے اور محکمے کے اس فیصلے پر عوامی حلقے زبردست نالاں ہیں۔لوگوں نے بجلی بلوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف زوردار احتجاج کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔ادھر پلوامہ کے کئی علاقوں میں بجلی بلوں میں اضافے پر لوگوں نے محکمہ کے خلاف احتجاج کیا۔جڈورہ پلوامہ کے علاؤہ ملواری،نیوہ سنگو ناربل میں لوگوں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج درج کرتے ہوئے کہا کہ سرکار اس فیصلے پر نظر ثانی کریں بصورت دیگر لوگ اپنے کنکشن کاٹ ڈالیں گے۔لوگوں کا کہنا تھا کہ ان سے محکمہ فی ماہ تین سو روپے سے زائد فیس وصول کررہا ہے جو صارفین کے لئے ناقابل برداشت ہے۔اس دوران سنگرونی کے علاقوں میں بھی لوگوں نے اس فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا ہے۔لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ماہانہ 400 کے قریب بجلی فیس ادا کرتے تھے،تاہم جنوری کے مہینے میں انہیں 1000سے زائد بجلی فیس کی بلیں موصول ہوئی ہیں۔لوگوں نے محکمے کے خلاف زوردار احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکام نے بجلی کی اضافی بلوں پر نظرثانی نہیں کی تو وہ اپنے علاقوں میں قائم بجلی کے کھمبوں اور تاروں کو اکھاڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔اس پلوامہ کے ہی مندونہ،لاجورہ،پوچھل اور رتنی پورہ میں لوگوں نے کارپوریشن کے اس فیصلے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔دریں اثنا پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بلوں میں کسی طرح کی کمی کو سرے سے ہی انکارکیا ہے۔