پروفیسر مخمورحسین بدخشی

 پروفیسر مخمور حسین بدخشی کے سانحۂ ارتحال کی خبر پر عالمی مرکز اقبال کی طرف سے تعزیت نامہ الیکٹرانک میڈیا پر وائرل ہوتے ہی لاتعداد لوگوں کا فیڈ بیک آیا جن میں کشمیر میں اس وقت کے مرکزی محکمہ انفارمیشن کے ایڈ یشنل ڈائریکٹر جناب عبید الرحمان کا پیغام فوراً موصول ہوا، جو دوران ملازمت کشمیر میں مختلف ادبی تقاریب میں مرحوم سے ملے تھے۔
   سال 1972-73میں،احقر اسلامیہ کالج حول سری نگر میں PUCکا طالب علم تھا اور احقر کا داخلہ کامرس سٹریم میں ہوا تھا، جس میں اُردو سبجکٹ بھی شامل تھا۔اسلامیہ کالج میں داخلہ لیتے ہی کئی ادبی اور علمی شخصیات سے تعارف ہوا جن میں بطورِ خاص اسلامیہ کالج کے دو پرنسپل محمد یوسف مرحوم اور ڈاکٹر شیخ محمداقبال بھی شامل ہیں ۔ مرحوم پروفیسر مخمور حسین بدخشی سے احقر کی ابتدائی جان پہچان بحیثیت اُستاد انہیں دنوں ہوئی تھی ۔دن گذرتے رہے پھر دوبارہ عرصہ بعد ،مختلف ادبی تقاریب میں شمولیت سے یہ سلسلہ دوبارہ جڑ گیا جو اب ایک استاد اور شاگرد کے تعلقات نہیں بلکہ دوستوں جیسے تعلقات تھے، ویسے بھی پروفیسر صاحب ہر ایک شخص کے ساتھ، اس کا رتبہ ،عمر یا پھر حیثیت کو بالائے طاق رکھکر گھل مل جاتے تھے اور کسی کو یہ محسوس ہی نہیں ہونے دیتے تھے کہ پروفیسر صاحب ان کے استاد ہیں یا احباب میں سے ،ان کا دل ہمیشہ سے ہی جوان تھا اس لئے ان سے ملکر نہ اجنبیت کا احساس ہوتا تھا اور نہ ہی اس بات کا کہ پروفیسر صاحب آپ کے استادِ محترم رہ چکے ہیں۔
ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے، بلکہ کرونا کی وباء پھیلنے سے قبل تک پروفیسر مخمور حسین بدخشی مرحوم کا روز کا معمول تھا، لال چوک آکر ’روزنامہ ہند سماچار‘’آجکل‘ اور دوسرے دستیاب اردو رسائل و جرائد خرید کر پڑھنے کا ،چونکہ احقر کا کلنک بھی قریب ہی تھا، اسلئے اکثر ملنے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی، ضرور آیا کرتے تھے اور مختلف ادبی موضوعات پر کھل کربات بھی ہوتی تھی ۔جن دنوں’’ کشمیرعظمیٰ‘‘ ابھی شروع ہی ہوا تھا اور چھوٹے سائز میں، ہفت رووزہ نکلتا تھا ۔ ہفت وار ادب نامہ ہر اتوار کو شائع ہوتا تھا ادب نامہ میں احقر کے متواتر مضامین مرحوم مظفر ایرجؔ،حسن ساہوؔ،نور شاہ،ہمدمؔ کاشمیری،شہہ زور کاشمیری وغیرہ پر شائع ہوتے رہے، ایک اتوار کو پروفیسر مخمور حسین بدخشی پر بھی ایک خاکہ شائع ہوا تھا،خاکہ شائع ہوتے ہی مرحوم نے اپنی بھر پور پسندیدگی سے نوازا ،جب مرحوم کا افسانوی مجموعہ دوبارہ شائع ہورہا تھا اور اس کی رسم ِ رونمائی کی تقریب انجام دی جانی تھی تو میرے مذکورہ خاکے کو مجھ سے وہاں پڑھوانے کے متمنی تھے اور مجھ سے کئی بار کہہ بھی چکے تھے، لیکن عین اسی دن میں کسی خاص مصروفیت کی وجہ سے اس تقریب میں شامل نہ ہوسکااور میں نے معذرت کرلی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے، میں نے اور ایک ادبی شخصیت پر خاکہ لکھا تھا اور حیدر آباد سے شائع ہونے والے، معروف رسالہ ماہنامہ ’’فنون‘‘ کے خاص شمارے میں شائع کروایا تھا۔خاکہ چھپتے ہی وہ حضرت آگ بگولہ ہوگئے اور مجھے کورٹ کچھری لیجانے کی دھمکیاں دینے لگے ،میں اس شخص کی اس’’ اعلیٰ ٰظرفی‘‘ پر ہنس رہا تھا ،بعد میں پروفیسر مخمور حسین بدخشی صاحب کی حقیقی اعلیٰ ظرفی اور وسیع القلبی سامنے آگئی اور مرحوم نے اسے سمجھا یااور پوچھا کہ اسے پتہ ہے کہ خاکہ کسے کہتے ہیں، اگر واقعی وہ جانتے ہیں تو اپھر اسے معروف طنز و مزاح نگار فکر ؔتونسوی کے شیخ عبداللہ پر لکھے گئے خاکے اور مجتبیٰ حسین کے خاکوں کو پڑھ لینا چاہئے۔
آج کل کے اس دورِ منافقت میں پروفیسر مخمور حسین بدخشی مرحوم واقعی اور بلا شک و شبہ ایک فرشتہ صفت انسان تھے کبھی کسی کی مٖخالفت یا کسی کی منافقت نہیں کرتے تھے۔عیب جوئی،چغل خوری،یا کسی کی برائی کرنے جیسے قبیح عادات بھی ابتدا سے ہی، ان کی فطرت میں نہ تھے۔اسطرح کی گفتگو میں اول تو وہ شامل ہی نہیں ہوتے تھے اور اگر کہیں پھنس بھی جاتے تھے، تو پھر مطلق خاموش رہتے تھے۔
کہہ رہا ہے شورِ دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہے وہ خاموش ہے 
پروفیسر مخمور حسین بدخشی مرحوم کا تکلم،تفکر،تعمل اور تصرف مومنانہ تھا اور خصائل و اوصافِ حمیدہ بھی فرشتوں جیسے ہی تھے۔ انسان خصلت سے اور فظرتاً کوئی دوسری مخلوق نہیں اور نہ ہی ہر اشرف المخلوقات پیغمبر ہوسکتا ہے کہ برائیوں اور گناہوں سے معصوم ہو اور کمیوں ، کوتاہیوں،خامیوں ،اور لغزشوں کا مرقع انسان ہی ہے، لیکن اگر اس میں تکبروغرور کی جگہ ہر لمحہ ،ہر پل اپنا احتساب کرنے کی خوبی موجودہو تو وہ فرشتہ صفت کہلاتا ہے اور اگر یہ خوبی اس میں نہیں ہے تو اس میں اور ایک چوپائی میں کوئی فرق نہیں ہے۔پروفیسر مخمور حسین بدخشی کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ مرحوم بہت دھیمی آواز اور نرم و ملائم انداز میں گفتگو کرتے تھے ۔وہ بھی بڑے ہی شائستہ اور مہذبانہ لب و لہجے میں۔کسی اجنبی کو بھی ان سے مل کر ان کے گفتاراور ملنساری سے، ان کے اندر ون کا فوراًہی پتہ چلتا تھا کہ حضرت نے زندگی بھر شاید ہی کبھی کسی کو ڈانٹا یا ٹوکا ہو یا پھر تیز و تند لب و لہجے میں بات کی ہو۔اخلاص و محبت اوراپنائیت و شیریں گفتاری مرحوم کا شیوہ تھی۔معروف صحافی وجیہہ احمد اندرابی، پروفیسر مرحوم کی پرانی رہائش میر محلہ ملارٹہ میں، ان کے قریبی ہمسایہ اور ہمعمر اور ہمعصر دوست رہ چکے ہیں ۔فرماتے ہیں کہ مرحوم کو نوجوانی کے ایام میں حقہ پینے کا بہت شوق تھا اور یہ شوق مرحوم کے والدِ محترم میں بھی ،بدرجہ اتم موجود تھا اسلئے دونوں باپ بیٹے اپنے اس شوق کی عمل آوری میں بڑے اہتمام کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے اور اسے آمنے سامنے ہی انجام بھی دیتے تھے۔
ناچیز کی کوئی تخلیق، خاص طور پر افسانہ جب،’ایوانِ اردو ‘یا’ آجکل‘ میں شائع ہوتی تھی، تو فوراً ہی فون پر یا پھر خود کلنک پر آکر اپنی بصیرت افروزاور غیر جانبدار رائے سے ضرور نوازتے تھے اور حو صلہ افزائی کرتے تھے۔جو واقعی ہم جیسے لکھنے والوں کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوتی تھی۔حالانکہ یہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ پروفیسر مخمور حسین بدخشی مرحوم نے اپنے ایک قریبی دوست کا پہلا افسانوی مجموعہ دیکھکر انہیں یہ صلاح دی تھی کہ وہ اسے منظر ِ عام پر نہ لائیں کیونکہFirst Impression Last Impressionہوتی ہے۔
پروفیسر مخمور حسین بدخشی مرحوم جب تک صحت مند تھے ادبی اور علمی تقاریب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ ذاتی نمائش و نمود اور خود نمائی سے مرحوم کو کافی چڑ تھی اردو زبان و ادب ہی اوڑھنا اور بچھونا تھا، انتہائی قابل،معاملہ فہم،اور حساس دماغ پایا تھا اور اچھے افسانے لکھے تھے۔سینئر افسانہ نگار اور ناقد تھے گوکہ کتابی صورت میں صرف ایک افسانوی مجموعہ ہی منظرِ عام پر آیا ہے اپنی قابلیت یا رتبے پر ذرا بھی غرور و تکبر نہ تھا نامنہاد ارد کے خیر خواہوں کی طرح ،اپنی ناقابلیت اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے نہ جھوٹ کا ہی سہارا لیتے تھے اور نہ ہی بیساکھیوں کے سہارے دوڑنے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ ایک من موجی انسان تھے،صاف باطن اور سلیم الطبع، اچھے سوبھائو والے ،جو بات دل میں ہوتی تھی وہی زبان پر بھی ہوتی تھی، زندگی اطمنان و سکون کے ساتھ گزارتے رہے۔ کسی خودساختہ خلفشار یا پھر بے اطمنانی کے بالکل شکار نہ ہوئے،ایسے ہی لوگ، اپنے پرائیوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہتے ہیں،گھر کر لیتے ہیں اور انسانی معاشرے میںعزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
جن دنوں نورشاہ اور ناچیز کی ذاتی کوششوں اور کاوشوں سے اردو اکادمی کا رسالہ ’’اردو اکادمی‘‘ متواتر اور بلا ناغہ نکلتا تھا ان دنوں ہم نے ایک عرصہ بعد پروفیسر مخمور حسین بدخشی مرحوم کو دوبارہ لکھنے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی تھی اور مرحوم نے کچھ لکھا بھی تھا، جسے چھاپا بھی گیا تھا ،مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ مرحوم نے اردو اکادمی کے سہ ماہی رسالے کا نامناسب نام ’’اردو اکادمی ‘‘رکھنے پر بھی بہت اعتراض کیا تھا اور میرے پسندیدہ نام ’’شب تاب‘‘ کی حمایت بھی کی تھی لیکن کچھ ممبران کی فہم و فراست میں یہ نام نہیں آرہا تھا، اس لئے انہوں نے اس کی مخالفت کی ،پھر احقر نے اس نام سے عالمی مرکز اقبال کی جانب سے کئی شمارے شائع کئے ،جو اب حالات مزید ٹھیک ہونے پر انشاء اللہ، دوبارہ کئی نئی تبدیلیوں کے ساتھ شائع ہونے جارہا ہے ۔
پروفیسر مخمور حسین بدخشی مرحوم واقعی ایک شجر سائیہ دار تھے جن کے جانے سے ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا جسے پر کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، ان کی خوشگوار یادیں آتی رہینگیں اور ماحول کومہکاتی رہیں گی، اور ان کا خوشی اور غم میں مسکراتا ہوا چہرہ ،خاص طور پر ان کے عزیز و اقارب کی نگاہوں کے سامنے ہمیشہ رہیگا اور ان کی یاد دلاتا رہیگا۔ مرحوم سے مل کر ان کے کسی شاگرد کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اپنے استاد یاکسی بزرگ شخص سے مل رہا ہے یا بات کر رہا ہے ،بلکہ اپنے کسی خاص احباب  یا ہم عمر دوست سے مل رہا ہے
انسان کی قابلیت اور شرافت اس کی وفات کے بعد ہی جانچی اور پرکھی جاتی ہے۔زندگی میں خاطر یا لحاظ سے اگر اسے ہمیشہ چاپلوسوں کی جماعت گھیرے رہتی ہو اور اس کی کمیوں،خامیوں اور کوتاہیوں، یہاں تک کہ نازیبا حرکات پر بھی واہ واہ کرتی ہوئی  اور داد دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہو ،تو عقل مند لوگ اس سے ہرگز گمراہ نہیں ہوتے۔ ان کے سامنے ہی ایسے لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں جوتجسس اور حیرانی کے عالم میں ان کے بارے میں کانا پھونسی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اوراصل حقائق تک پہنچنے کی تگ و دو میں رہتے ہیں لیکن سچائی ،سچائی ہی ہوتی ہے جو بناوٹ کے اصولوں سے نہیں چھپتی ۔پروفیسر حامدی کاشمیری، پروفیسر مرغوب بانہالی ،مظفر ایرجؔ اور اب پروفیسر مخمور حسین بدخشی مرحومین واقعی ایسے لوگوں میں شامل ہی نہیں بلکہ سرِ فہرست تھے جنہیں ان کی قابلیت اور شرافت کے بل بوتے پر ہمیشہ یاد کیا جائے گا، یہی بہت بڑی کامیابی بھی ہے، اللہ رب العزت ان سب کی مغفرت فرمائے کیا خوب انسان تھے۔   
(صدرہ بل حضرتبل،سرینگر)
فون نمبر۔9419017246 [email protected]