پاکستانی درانداز کی گھرواپسی کی اپیل

اوڑی // اوڑی میں26ستمبرکو فوج کے ہاتھوں گرفتار 19سالہ جنگجو نے پاکستان میںانکے ہینڈلرس سے کہا ہے کہ وہ انہیں بھارت سے واپس اپنے ماں کے پاس اسی طرح لیجائے جس طرح انہوں نے اسے بھارت بھیجا ہے۔بدھ کو گرفتار جنگجو کی ایک ویڈیو فوج نے منظر عام پر لائی ہے، جس میں وہاوکاڑہ پنجاب پاکستان کے19سالہ نوجوان بابر علی پاترا نے کہا ’’ میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے، گھر میں والدہ ہے اور ایک بڑی بہن ہے ِ ضص کی شادی ہوگئی ہے‘‘۔مذکورہ نوجوان کا کہنا ہے ’’ وہ کپڑے کی ایک فیکٹری میںکام کرتا تھا، وہاں پر میرے ساتھ انیس نامی لڑکا بھی تھاجس کا رابطہ آئی ایس آئی کے ساتھ تھا‘‘۔انہوں نے ویڈیو پیغام میں کہا’’ میں لشکر طیبہ کے ائریا کمانڈر،آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی ماں کے پاس واپس لیجائے، اسی طرح جس طرح انہوں نے مجھے بھارت بھیجا‘‘۔انہوں نے کہا کہ انیس نے پیسے کا لالچ دیکر انہیں تنظیم سے وابستہ ہونے کی بات کہی،میں چونکہ غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، پیسے کے لالچ میں آکر میں تنظیم میں شامل ہوگیا۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں خصوصی ٹریننگ دی گئی، اس کے علاوہ مالی معاونت کے طور پر 20 ہزار روپے بھی دیئے گئے، اس کے بعد مذکورہ تنظیم کے ارکان نے کہا کہ ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد انہیں مزید 30 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے خیبر گڑھی حبیب اللہ کیمپ میں تربیت دی۔ٹریننگ کے مرحلے کی تکمیل کے بعد تنظیم کے ارکان نے ایک گائیڈ کے ساتھ ہمیں کشمیر بھیجنے کی بات کہی، ہم جب سرحد عبور کررہے تھے اسی وقت بھارتی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے ہمارے ایک ساتھی کو ہلاک کردیا اور بقیہ 4 ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے مگر میں خوفزدہ تھا، ڈر کے مارے وہیں بیٹھ گیا۔ اس کے بعد بھارتی فوج نے مجھے گرفتار کرلیا۔انہوں نے کہا’’ ہمیں پاکستان میں بتایا گیا کہ بھارتی فوج قتل کررہی ہے، لیکن یہاں سب کچھ پر امن ہے،میں اپنی ماں کو بتانا چاہتا ہوں کہ بھارتی فوج نے میری بہتر دیکھ بھال کی ہے‘‘۔انکا کہنا ہے’’ میں ہر روز پانچ وقت کی اذان لاوڈ اسپیکروں سے سن سکتا ہوں، بھارتی فوج کا رویہ پاکستانی فوج سے یکسر مختلف ہے، مجھے محسوس ہورہا ہے کہ کشمیر میں امن ہے، وہ ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہمیں یہاں بھیجتے ہیں‘‘۔