آج کل بھارتی انتخابات اور نئی مر کزی حکومت کی ممکنہ شکل وصورت ہر ذہن پہ چھائی ہوئی ہے ۔یہ ایک قدرتی امر ہے کہ یہ انتخابات اگلے پانچ سال تک سیاسی روش کا تعین کریں گے۔ گذشتہ زمانے کے انتخابات اور دور حاضر کے انتخابات میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ انفارمیشن ٹیکنالوجی یعنی اطلاعات کی وسیع تشہیر کا ساز وسامان ہے۔آج کے سائنسی دور نے جہاں بنی نوع انساں کو بہت سی آسائشوں سے نوازا ہے، وہیں عالمی خبروں کو بلا تاخیر ہر گھر میں پہنچانا ایک معمول سا بن گیا ہے۔انفارمیشن کی اس وسعت کے کئی مثبت پہلو ہیں کہ جن سے فنی ترقی نے منفی رحجانات کی وسیع تشہر کو ممکن بنا دیا ہے۔ ایک وسیع پیرائے میں جانچا جائے تو انفارمیشن کی موجودہ وسعت سے کسی بھی ملک میں جہاں الیکشن کا عمل جاری ہو مثبت رحجانات کے فروغ کے ساتھ ساتھ منفی رحجانات کی وسیع تشہیر سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ جتلانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اس کی وضاحت میں عالمی تاریخ پہ نظر ڈالی جائے تو ایک نام نمایاں نظر آتا ہے ۔یہ نمایاں نام نازی جرمنی کے وزیر پروپگنڈا گوبلز کا ہے۔ ہٹلر کے اِس وزیر کا ماننا تھا کہ جھوٹ کو اونچی آواز میں اور بار بار بولنے سے وہ سچ بن سکتا ہے۔یہی شیوہ نازی جرمنی نے دوسری جنگ عظیم میں اپنایا تھا ۔یہ بہت حد تک موثر رہا۔انجام کار یہ حقیقت بھی ثابت ہو گئی کی جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے دیر یا سویر جھوٹ اپنی تمام تر غلاظت کے ساتھ ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔ جھوٹ کی قلعی کھل گئی اور نازی جرمنی کو ہر کمال را زوال کے مصداق جنگ میں شکست فاش ہوئی۔
جنگ عظیم میں پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ صرف ریڈیو خبر کی تشہیر کا ذریعہ تھا ۔ ریڈیو حس سماع پہ چھا جانے تک محدود تھا ۔آج کا انفارمیشن دور حس سماع کو ہی نہیں بلکہ حس بصری پہ بھی چھایا ہوا ہے۔ ٹیلی ویژن نے انفارمیشن کوکہیں سے کہیں پہنچا دیا ہے اور انتخابات کی نوعیت کو بھی بدل دیا ہے۔ الیکٹرونیک میڈیا نے خبر و نظر کا تصور بدل دیا ہے اور انتخابی عمل بھی ٹیلی ویژن کے گو ناگوں اثرات سے مبرا نہیں۔ اِس کے علاوہ سوشل نیٹ ورکنگ سے بھی انتخابی عمل متاثر ہوتا ہے ۔سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس چاہے وہ فس بک ہو یا ٹو یٹر دور حاضر کی انتخابی عملیات کا حصہ ہیں اِس حد تک کہ الیکشن عمل میں شریک ہر حزب چاہے وہ کسی بھی ملک کی ہو سوشل نیٹ ورکنگ سے انتخابی عمل پہ حاوی ہونا چاہتی ہے۔بھارت میں بھی آج کل جہاں ٹیلی ویژن الیکشن عملیات کا ایک اہم پہلو ہے وہی مختلف احزاب نے اپنے حامی اصحاب کو اپنے حزبی پروپگنڈا کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ دور حاضر میں یہ عمل اتنا پھیلاہوا کہ روس پہ امریکی ایجنسیوں نے یہ الزام لگایا کہ پچھلے صدارتی انتخاب میں کو اِس خارجی ملک نے ڈونالڈ ٹرمپ کے حق میں متاثر کیا۔انتخابات کے بعد اِس کی وسیع تحقیق ہوئی ۔تحقیق کا نتیجہ جو بھی ہو یہ حقیقت واضح ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ کا انتخابی پروپگنڈا کا موثر طریقہ مانا گیا ہے۔آج کل سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پہ بھارتی انتخابی عمل چھایا ہوا ہے۔ٹویٹر پر نریندرا مودی سے لے راہول گاندھی تک نے اپنے اکاونٹ کھول رکھے ہیں اور انتخاب کے تئیں اپنے سیاسی خیالات کا خوب پرچار کر رہے ہیں۔ بڑے نیتاؤں کے ساتھ ساتھ کئی اور چھوٹے بڑے امیدواروں نے بھی اپنے اکاونٹ کھولے ہیں تاکہ اپنے حق میں جس حد تک ہو سکے راہ ہموار کر لیں۔
بھارتی انتخابات میں لوک سبھا کی نشستوں کی کل تعداد 543ہیں۔ جس حزب کو 272سیٹوں پہ سبقت حاصل ہو گی وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ جائیگی ۔پچھلی لوک سبھا میں بھاجپا کو 282سیٹیں حاصل ہوا جس سے یہ حزب بلا شرکت غیرے رولنگ پارٹی یعنی حزب اقتدار تشکیل دینے کی پوزیشن میں آ گئی البتہ کئی اور احزاب کی حمایت حاصل کرنے کے بعد بھاجپا نے ایک کولیشن سرکار کو بر سر کار لا کے اپنی پوزیشن محکم بنا لی ۔ اِس کولیشن کا نام ماضی کی مانند نیشنل ڈیموکراٹیک الائنس(National Democratic Alliance: NDA) قرار دیا گیا جب کہ کانگریس کی سر کردگی میں بننے والی کولیشن کو یونائٹیڈ پروگریسیو الائنس((United Progressive Alliance: UPA)کہا جاتا ہے۔ بھارت کے حالیہ الیکشن کے تجزیے سے پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ وہ سیاسی اعتدال جو کہ 1947ء سے کئی دَہائیوں تک کانگریس نے بھارت کو بخشا تھا وہ کیسے اُس عدم توازن میں تبدیل ہوا جو آج کی سیاسی فضا کا خاصہ ہے ۔
کانگریس کے عروج کے زمانے میں یہ حزب بھارت کے سب ہی صوبوں کو اپنے وجود میں سموئے ہوئی تھی جبکہ آجکل بھارت کی وسطی ریاستوں کو چھوڑ کر علاقائی احزاب پُر اثر ہوتی جا رہی ہیں۔کانگریس کی واحد حزبی حکمرانی کا دور ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے اور یہ حزب اپنی سیاسی سپیس کھوتی جا رہی ہے بلکہ اِس سپیس کے ایک بڑے حصہ بھاجپا کی جولی میں پڑا ہوا نظر آتا ہے۔ بھارت کے سیاسی نقشے میں کولیشن سرکاروں کے وجود کو بھی نظر میں رکھنا ہو گا کیونکہ 1996ء کے انتخابات کے بعد یہ ریت چل پڑی ہے۔اُس سے پہلے کانگریس بھارتی سیاست پہ چھائی ہوئی تھی بجز جنتا دور کے جو 1977ء سے 1980ء تک جاری رہا۔اِس دور میں پہلے مرار جی ڈیسائی کی حکومت بنی اور پھر چودھری چرن سنگھ کی جس کے بعد کانگریس ایک بار پھر اندرا گاندھی کی سر براہی میں بر سر اقتدار آئی ۔اندرا گاندھی کے قتل کے بعد اُن کے فرزند راجیو گاندھی1984 ء میں وزیر اعظم بنے ۔ اُنہوں نے 1984ء کا انتخاب ریکارڑ اکثریت سے جیتا۔کانگریس کو 410نشستیں حاصل ہوئیں جو پنڈت نہرو کی سر براہی میں بھی ممکن نہیں ہو سکا حالانکہ وہ کانگریس کے لیڈروں میں سب سے محبوب تھے بلکہ موہن داس کرم چند گاندھی کے بعد کسی بھی بھارتی رہبر کو اُنکے درجے کی محبوبیت حاصل نہیں ہو سکی۔
1989ء کے الیکشن میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی کے طور پہ اُبھری لیکن راجیو گاندھی نے حکومت تشکیل دینے سے انکار کیا ۔ وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے ۔اُن کی سر براہی میں بننے والی سرکار کی انوکھی بات یہ رہی کہ اُسے دائیں بازو کی بھاجپا اور بائیں بازو کی کمیونسٹ اور سوشلسٹ جماعتوں کی حمایت حاصل رہی۔ یہ حکومت 11مہینے چلی۔اِس سرکار کو راجیو گاندھی کی سر براہی میں کانگریس نے چندر شیکھر کا ساتھ دے کر گرا لیا۔چندر شیکھر ایک قلیل عرصے پہ محیط چند ہی مہینے وزیر اعظم رہے۔غیر مستحکم حکومتیں 1991ء میں ایک بار پھر الیکشن کا سبب بنیں ۔انتخابی مہم کے دوراں راجیو گاندھی قتل ہوئے۔کانگریس انتخاب جیت گئی اور نرسمہا راؤ وزیر اعظم بنے۔ اُن کی وزارت عظمی کا دور پورے پانچ سال پہ محیط رہا۔ اِس دور کی خاص بات 1992ء میں بابری مسجد کا شہید ہونا تھاجو رام مندر کے بنائے جانے کی مانگ کے سلسلے کا ایک دلدوز واقع تھا۔ رام مندر کی ساخت سنگھ پریوار کی ایک دیرینہ مانگ ہے جس نے 1990ء کی دَھائی میں شدت اختیار کی اور سنگھ پریوار کے سیاسی فرنٹ کی حثیت سے بھاجپا اِس مانگ کو لیڈ کرتی رہی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بابری مسجد گرا لی گئی اور نرسمہا راؤ نے اِس مذموم عمل کو ہونے دیا۔اِس کا یہ مطلب ہے کہ بھارت کی مرکزی حکومت نے ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جو اُس کو اِس دلدوز واقع کو روکنے کیلئے کرنا چاہیے تھا ۔سنگھ پریوار کیلئے میدان کھلا چھوڑنے سے کانگریس نے اپنی وہ اہمیت وہ افادیت کھو دی جس نے اِس حزب کو بھارت کی سیاست میں ایک اعتدال قائم رکھنے کے قابل بنایا تھا ۔
بھارتی سیاست میں بھاجپا کا گراف0 199ء کے دَہے میں رُو بہ بالا رہنا شروع ہوا حتیٰ کہ 1996ء کے انتخابات میں اٹل بہاری واجپائی کی سربراہی میںبھاجپا کی سرکار بنی گر چہ یہ دیر پا ثابت نہیں ہوئی۔ 1996ء سے 1998ء تک اندر کمار گجرال اور دیوا گوڑا کی غیر مستحکم سرکاروں کا دور دورہ رہا اور پھر 1998ء سے 2004ء تک واجپائی کی لیڈرشپ میں بھاجپا کی سرکار بر سر اقتدار رہی۔1984ء کے انتخابات میں اِس پارٹی کی صرف و صرف 2نشستیں تھیں لیکن صرف 14سال کے عرصے میں اِس پارٹی کا NDAکی سر براہی میں بر سر اقتدار آنا ایک عمیق تاریخی مطالعے کا مستحق ہے ۔ ایک سر سری جائزے میں کہا جا سکتا ہے کہ سنگھ پریوار نے بھارتی اکثریت کے بد ترین خدشات کو ہوا دی ۔بھاجپا ،سنگھ پریوار کے سیاسی فرنٹ کی حیثیت سے اِس تحریک میں پیش پیش رہی۔بھارت میں مسلمانوں کے 800 سالہ دور اقتدار کو خارجی تسلط کا نام دیا گیا حالانکہ ایبک،لودھی و مغل باہر سے ضرور آئے لیکن یہی کے ہو لئے بالکل آریائی نسل کے لوگوں کی مانند جو اِن حکمران خاندانوں کی مانند ایشیائی مرکزی سے یہاں آئے اور پھر ہندوستان میں مستقل سکونت اختیار کی ۔آریائی نسل کے لوگوں اور مسلمانوں کی ہجرت میں کم و بیش دو ہزار سال کا فرق رہالیکن ایک تاریخی مطالعے میں دونوں ہی مہاجر تھے ۔جنوبی ہندوستان کے دراوڑ بھی مہاجر ہیں۔جمنا کنارے کی کچھ بستیوں اور ادواسی قبیلوں کے بغیر بر صغیر کے کسی بھی فرد کو اصلی ہندوستانی نہیں کہا جا سکتا ۔اِس کے باوجود پرانے مہاجر بعد میں آنے والے مہاجرین کو خارجی کہنے پہ بضد نظر آتے ہیں۔ اِسے تاریخ کی الٹی گنتی کہا جا سکتا ہے لیکن یہ الٹی گنتی بار بار دہرائی جا رہی ہے۔
ہندوستانی تاریخ کی الٹی گنتی کو سال رواں کے الیکشن میں مرکزی حثیت حاصل ہے جہاں اقلیتیوں کے بارے میں بد گمانیاں پیدا کرنا الیکشن لڑنے کا معمول بن گیا ہے۔دیکھا جائے تو اِس رویے کو نہ صرف اقتدار کی مسند پہ بیٹھی ہوئی حزب کا شیوہ کہا جا سکتا ہے بلکہ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس بھی سیکولر کہلانے سے خائف نظر آ تی ہے یہاں تک کہ بھارتی مبصرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ کانگریس نرم رو ہندتوا پہ گامزن ہے جبکہ ماضی میں کانگریس سیکولرازم کو اپنی شناخت مانتی تھی۔ ماضی کے بارے میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیکولرازم کانگریس کیلئے ایک خوشنما نعرہ تھا جو عملی نہ ہو سکا۔اِس کا ثبوت میں اُن فرقہ وارانہ فسادوں کو حوالہ دیا جا سکتا ہے جو کانگریس کے دور اقتدار میں ہوتے رہے۔جہاں تک مساوی سلوک کا تعلق ہے تو اُس کی نفی میں راجندر سچر کی وہ رپورٹ کافی ہے جس میں اُنہوں نے بھارت کی سب سے بڑی اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک کو منعکس کیا۔سنگھ پریوار سیکولرازم کو اقلیتوں کا ووٹ بٹورنے کا ذریعہ مانتا ہے یہاں تک کہ اُسے سیڈو سیکولرازم (Pseudo-secularism ) یعنی نقلی سیکولرازم کا عنواں دیا گیا ہے۔ماضی کے انتخابات میں اقلیتوں کے ووٹ کو کئی حلقوں میں کامیابی کا ضامن مانا جاتا ہے لیکن بھاجپا نے اکثریت کے ووٹ کو اپنے حق میں کرنے کیلئے نت نئے نعرے ایجاد کئے ہیں جن کی تشہیر سے اکثریتی ووٹ بنک کی تشکیل ممکن بنا دی گئی ہے جبکہ کانگریس پہ یہ الزام تھا کہ اِس جماعت نے اقلیتی ووٹ بنک کو فروغ دیا گیا ہے۔ اکثریتی ووٹ بنک کی تشکیل سے بھاجپا نے کئی بار الیکشن میں کامیابی حاصل کی ہے۔اکثریت کی بد گمانیوں کو ہوا دینا دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کا شیوہ بن چکا ہے اور یہ بھارت تک محدود نہیں۔امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ نے یہی نسخہ آزمایا اور وہ میدان مار گئے۔اسرائیل کے حالیہ الیکشن میں بن یامین نیتن یاہو نے یہودیوں کے بد ترین خدشات کو ہوا دے کے انتخابی میدان کو اپنے لئے ہموار کر لیا۔ تاریخ عالم کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو بیسویں صدی کے تیسرے دَہے میں جرمنی کے اڈلف ہٹلر آریائی خدشات کو ہوا دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آریا ئی بالا دستی کو یقینی بنانے کیلئے ہٹلر جرمنی کو جنگ کی آگ میں جھونکنے سے باز نہیں آئے اور انجام کار یہ اقدام جرمنی کی تباہی پہ منتج ہوا۔
فرقہ وارانہ کشیدگی سے نہ صرف ملکوں کی داخلی سلامتی متاثر ہوتی ہے بلکہ یہ علاقائی اور عالمی امنیت پہ بھی اثر انداز ہوتی ہے جبکہ فرقہ وارانہ میل و ملاث امنیت کا ضامن ہوتا ہے۔ اقتدار کے حصول کیلئے ملکی امنیت اور سلامتی کو داؤ پہ لگانا دانشمندانہ اقدام نہیں ہو سکتا بلکہ نقص امنیت سے انجام کار وہ احزاب بھی بچ نہیں سکتیں جو فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیتی ہیں۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور بلا شبہہ ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت ہے۔ بھارت ایک ایٹمی طاقت بھی ہے جس نے دفاع کو مستحکم بنایا ہے۔ جنوبی ایشا ئی خطے کا سب سے بڑا ملک ہونے کے ناطے بھارت پہ علاقائی اور عالمی زمہ واریاں بھی ہیں۔ اِن سب ذمہ واریوں کو بھارت تب ہی پورا کر سکتا ہے جب ملک میں فرقہ وارانہ امنیت ہو اور جہاں بھارت کی ہمسائیگی میں بھی حالات ساز گار ہوں۔بھارتی لیڈرشپ کو اپنی علاقائی اور عالمی حثیت کو بنائے رکھنے کیلئے کو انتخابات کی گہما گہمی سے ہٹ کے سوچنا ہو گا۔ ملک کے اعلی ترین مفاد کو الیکشن جیتنے کیلئے داؤ پہ نہیں لگایا جا سکتا ثانیاََ ملکوں کی عظمت مسائل حل کرنے میں پوشیدہ ہے مسائل کو بڑھانے اور لٹکائے رکھنے میں نہیں!
…………………………
Feedback on: [email protected]