واشنگٹن//امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی ہے اور دونوں رہنما مئی میں ملاقات کریں گے۔مہینوں کی تند و تیز بیان بازی کے بعد اسے ایک حیرت انگیز پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔اس ملاقات کی خبر سب سے پہلے جنوبی کوریا کے حکام نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دی۔انھوں نے صدر ٹرمپ کو شمالی کوریا کے رہنما کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ کِم 'ایٹمی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے پرعزم ہیں۔'جنوبی کوریا کے صدر مون جائے نے کہا کہ یہ خبر 'معجزے کی طرح ہے۔' انھوں نے کہا: 'اگر صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم کی ملاقات ہو تو کوریائی جزیرہ نما کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔' اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ ’زبردست پیش رفت ہے‘ لیکن شمالی کوریا پر اس وقت تک پابندیاں برقرار رہیں گی جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ اس سے پہلے امریکہ کہتا رہا ہے کہ شمالی کوریا سے بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب اس کا موقف ہے کہ یہ پیش رفت ایک بڑی کامیابی ہے۔ جنوبی کوریا کے سلامتی کے مشیر چنگ ایوینگ نے وائٹ ہاؤس کے باہر کہا کہ ’میں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ ہماری ملاقات میں کیا ہوا اور انھوں نے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے۔‘ ’کِم نے وعدہ کیا کہ اب شمالی کوریا مزید کوئی میزائل نہیں بنائے گا۔‘ انھوں نے مزید بتایا کہ ’صدر ٹرمپ نے اس بریفنگ پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مئی کے مہینے تک کم جونگ اْن سے ملیں گے اور ایک مستقل معاہدہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘ شمالی کوریا انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ اپنے جوہری عزائم کے باعث دہائیوں سے تنہا ہے۔ اب تک امریکہ کے کسی صدر شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے اس سے یہ ملاقات نہایت اہم ہو گی۔