٫بھارت کا بنگلہ دیش کے ساتھ 10معاہدوں پر دستخط جامع اقتصادی اشتراک کے معاہدے پر بات چیت شروع

یو این آئی

نئی دہلی// ہندوستان اور بنگلہ دیش نے ہفتہ کو کنیکٹیویٹی، تجارت اور ساجھیداری کی بنیاد پر اپنے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے ، سرحد پار نقل و حمل کی سہولیات کو بڑھانے اور جامع اقتصادی اشتراک کے معاہدے (سی آئی پی اے) پر بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہاں حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ساتھ وفود کی سطح کی میٹنگ میں یہ فیصلے لئے گئے۔ ملاقات کے بعد باہمی تعاون کے 10 معاہدوں اور دستاویزات پر دستخط اور تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے ساتھ 13 اعلانات بھی کیے گئے۔ مودی نے اعلان کیا کہ طبی علاج کے لیے ہندوستان آنے والے بنگلہ دیشی لوگوں کے لیے ای میڈیکل ویزا کی سہولت شروع کی جائے گی۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بنگلہ دیش ہمارے پڑوسی فرسٹ، ایکٹ ایسٹ پالیسی، ویژن ساگر اور انڈو پیسیفک ویژن کے سنگم پر مبنی ہے۔ صرف پچھلے ایک سال میں ہم نے مل کر بہت سے اہم عوامی فلاحی منصوبے مکمل کیے ہیں۔ ہند -بنگلہ دیش کا چھٹا سرحد پار ریل رابطہ اکھاوڑہ-اگرتلہ کے درمیان شروع ہو گیا ہے۔ کھلنا-منگلا پورٹ نے ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں کے لیے کارگو کی سہولت شروع کر دی ہے۔ منگلا بندرگاہ کو پہلی بار ریل کے ذریعے جوڑا گیا ہے۔ 1320 میگاواٹ کے میتری تھرمل پاور پلانٹ کے دونوں یونٹس نے بجلی کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہندوستانی روپوں میں تجارت شروع ہو گئی ہے۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دریائے گنگا پر دنیا کا سب سے طویل فاصلہ دریائی کروز کامیابی سے چلایا گیا ہے۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پہلی سرحد پار میتری پائپ لائن مکمل ہو گئی ہے۔ ہندوستانی گرڈ کے ذریعے نیپال سے بنگلہ دیش کو بجلی کی برآمد، توانائی کے شعبے میں ذیلی علاقائی تعاون کی پہلی مثال ہے۔ ایک ہی سال میں اتنے سارے شعبوں میں اتنے بڑے فیصلے کرنا ہمارے تعلقات کی رفتار اور وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ مودی نے کہا ’’آج ہم نے نئے شعبوں میں تعاون کے لیے مستقبل پر مبنی ویژن تیار کیا ہے۔ گرین پارٹنرشپ، ڈیجیٹل پارٹنرشپ، بلیو اکانومی، اسپیس وغیرہ جیسے کئی شعبوں میں تعاون پر طے پانے والے اتفاق رائے سے دونوں ممالک کے نوجوانوں کو فائدہ ہوگا۔ انڈیا ، بنگلہ دیش “فرینڈشپ سیٹلائٹ” ہمارے تعلقات کو نئی بلندیاں دے گا۔ ہم نے رابطے، تجارت اور مشغولیت کو اپنی ترجیح پر رکھا ہے۔ “گزشتہ 10 برسوں میں ہم نے 1965 سے پہلے کے رابطے کو بحال کیا ہے‘‘۔