وہی باتیں ،وہی رنگ، وہی ڈھنگ

جموں و کشمیر بالخصوص وادی ٔ کشمیرمیں بجلی کے بحران پر اطراف و اکناف کے صارفین بجلی میں جو ہا ہا کار مچی ہوئی ہے ،اُس پر اب محکمہ بجلی کے پرنسپل سیکریٹری کی طرف سے جو بیان سامنے آیا ہے ،اُس پر عوامی حلقوں نے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بالکل غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔کیونکہ پرنسپل سیکریٹری نے اپنےبیان میں جو دلائل پیش کئے ہیں، اُن سے تو یہ بات نمایاں ہوئی ہے کہ بجلی بحران کی جو کیفیت چلی آرہی ہے ،وہ برقرار رہے گی البتہ بجلی کٹوتی کا جو شیڈول جاری کیا جاچکاہے ،اُس پر سختی سے عملدرآمد ہونے کی کوشش کی جائے گی ۔انہوں نے واضح کردیا ہے کہ بجٹ کے اندر رہنے اور گرڈ ڈسپلن برقرار رکھنے کے لئے کسی بھی حالت میں اضافی بجلی کی خریداری نہیں کی جائے گی۔گویا وادی ٔ کشمیر کے اطراف و اکناف میں اندھیرے کی جو صورت حال چلی آرہی ہے،وہاں اُجالا کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوگی ۔کشمیر عظمیٰ نے موسم سرما کے آغاز پر ہی اپنے انہی سطور میںاس بات کا عندیہ دیا تھا کہ رواں سال میں گرمیوں کے دوران بجلی سپلائی میں کٹوتی کی جو صورت حال جاری رہی،سردیوں میں وہ پیچیدہ رُخ اختیار کرجائے گی اور اس کاسارا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا ہوگا۔ظاہر ہے کہ موجودہ یوٹی انتظامیہ کی طرف سے بھی گذشتہ چار برسوں کے دوران ایسا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی ایسی حکمت ِ عملی اپنائی گئی ،جس سے جموں و کشمیر میں عرصۂ دراز سے جاری بجلی بحران پر قابو پانے کا حل نکل آئے۔موجودہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ بھی یہاں کی سابق سیاسی حکومتوں کے نقش قدم پر چل کر وقت گذاری کررہی ہے ۔ جس کا یہ نتیجہ سامنے آیا کہ بجلی سپلائی جس بحرانی کیفیت کی شکار تھی ، موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی وہ بحرانی صورت حال ماضی سے بہت زیادہ شدت اختیار کرگئی ۔بجلی کی عدم دستیابی اور آنکھ مچولی کے خلاف وادی کے مختلف اطراف و اکناف میں موجودہ حکومت اور بجلی حکام کے خلاف عوام کی طرف سے ناراضگی کے اظہارکا جو سلسلہ مظاہروں اور احتجاجی بیانات کی شکل میں چلا آرہا ہے،اُس کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا جارہا ہے جو اس بات کا منہ بولتاثبوت ہےکہ ملک کی آزادی کے بعد جموں و کشمیر میں جتنی بھی حکومتیں برسراقتدار آئیں ،وہ محض وادی میںبجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے بڑے بڑے دعوے کرنے کے سوا کچھ نہ کرسکیں۔نتیجتاً آج تک وادی ٔ کشمیر کے لوگوں کو محض گھریلو ضروریات کے لئے بجلی مہیا نہیں ہورہی ہے۔ اگرچہ اس طویل عرصہ کے دوران جموں و کشمیر میں جو کئی بڑے بڑے بجلی پروجیکٹ قائم کئے گئےلیکن اُن سے پیدا ہونے والی بجلی کا آٹے میں نمک کے برابر حصہ بھی وادی کو نہیں دیا گیا۔ایسا کیوں ہورہا ہے ،تو اس سلسلے میں یہاں کی موجودہ انتظامیہ بھی وہی پرانی دلیلیں پیش کررہی ہیں جو ماضی کے حکمران کرتے چلے آرہے تھے۔اب جبکہ ریاست ِجموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری بنائے جانے کے بعد جموں و کشمیر کی ترقی و خوشحالی اور یہاں کے لوگوں کی فلاح و بہبودی کے لئے جو نعرے بلند کئے گئے ،اُن سے یہ تاثر ضرور ملا تھا کہ وادیٔ کشمیر میں بجلی کی سپلائی میں بھی بہتری آئے گی اور صارفین بجلی کوپاور سپلائی کی نایابی اور آنکھ مچولی کا سلسلہ نہیں دیکھنا پڑے گا۔ لوگوں کو اُمید تھی کہ مرکزی سرکار جموں و کشمیر میںچلے آرہے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے یہاں کی یو ٹی انتظامیہ کو مزید بجلی فراہم کرے گی،لیکن موجودہ صورت حال کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اب محکمہ بجلی کے پرنسپل سیکریٹری کے بیان کو سُن کر لوگوں کی یہ اُمید بھی ٹوٹ گئی۔تاجر برادری کا کاروبار بجلی کی نایابی سے متاثر ہورہا ہے جبکہ بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں پینے کے پانی کی سپلائی میں بھی خلل پڑرہا ہے۔اب آنے والے چلہ کلاں کی یخ بستہ سردیوں میں لوگوں کو درپیش بنیادی مسائل میں اور کتنا اضافہ ہوگا،اُس کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ظاہر ہے کہ پاور سپلائی کی مسلسل نایابی ،بڑے پیمانے پر کٹوتی یا آنکھ مچولی سے زندگی کے تقریباً تمام شعبے متاثر ہورہے ہیں ۔ محکمہ بجلی کی طرف سے کٹوتی کے جو شیڈول مشتہر کئے جاتے ہیں ،اُن پر بھی عملدرآمد نہیں ہوتا اور جب شیڈول کے بغیر بھی پاور سپلائی بند رکھی جاتی ہے تو محکمہ کے افسر اور اہلکار اپنی روایتی بہانہ بازی سے کام چلاکراپنی تنخواہیں وصول کررہے ہیں۔رواں ماہ کے دوران یہ بتایا گیا کہ جموں و کشمیر سرکار،ناردرن گرڈ ،جس سے ہمیں بجلی فراہم ہوتی ہے کی مقروض ہے اور قرض کی عدم ادائیگی کی وجہ سے مطلوبہ بجلی حاصل نہیں کرپاتی ہے۔ اب بتایا جارہا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے تمام بقایا جات کو چکایا جاچکا ہے،تاہم نقصانات کو کم کرنے کے لئے بجلی کٹوتی کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔تعجب کا مقام ہے کہ ہر بات کا نزلہ جموں و کشمیر کے صارفین بجلی پر کیوں گرایا جارہا ہے ؟ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جموں و کشمیر کی موجودہ انتظامیہ کوئی ایسی کوشش بھی نہیں کرنا چاہتی ہے،جس سے صارفین بجلی کو مناسب بجلی مہیا ہوسکے۔نہ سسٹم میں کوئی واضح تبدیلی لاتی ہے ،نہ نظام میں بدلائو کیا جاتا ہے۔ بَس ناقص حکمتِ عملی اور بوسیدہ پروگراموں کے تحت عام لوگوں کو ٹرخایا جارہا ہےجبکہ صورت حال وہی ہے جو عرصۂ دراز سے چلی آرہی ہے۔صارفین بجلی ،پہلے سے بہت زیادہ فیس بھی ادا کررہے ہیں،شہروں،قصبوں اور دیہات کے بیشتر علاقوں میں میٹر بھی نصب کئے جاچکے ہیں، کٹوتی شیڈول بھی مرتب کئے گئے ہیں،پھر بھی بجلی سپلائی میں تواتر سے جاری عدم دستیابی اور آنکھ مچولی ایک حیران کُن بات ہے۔ضرورت اس بات کی جموں وکشمیر کی انتظامیہ کو بجلی کی فراہمی کے مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ،پاور سپلائی کی بہتری لا نے کے لئے صدق دلی دکھائےاور صارفین بجلی کو راحت دلانے کی ہر ممکن کوشش کرے ۔آخر کب تک وہی پرانی باتیں دہرائی جائیں ،جن کا نہ کوئی رنگ ہے اور نہ کوئی ڈھنگ۔ کب تک بجلی سپلائی کی اس ناقص صورت حال کا خمیاز ہ جموں و کشمیر کے بے بس عوام کو بھگتنا پڑے گا؟