نیوز ڈیسک
جموں //جموں کشمیر وقف بورڈ چیئرمین ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے وقف اراضی اور قبرستانوں پر قبضہ کیا ہوا ہے، انکے خلاف عنقریب سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف وقف اراضی بلکہ قبرستانوں کی اراضی کو بھی فروخت کیا گیا ہے۔انکا کہنا تھا کہ وقف بورڈ کو ویشنو دیوی بورڈ کی طرز پر استوار کیا جائیگا۔ڈوڈہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وقف بورڈ چیئر مین نے کہا کہ وقف اراضی پر تجاوزات کھڑی کی گئی ہیں جن کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وقف جائیداد بچانا اولین ترجیحات میں شامل ہے، لوگوں نے مزارات اور قبرستانوں پر گھر بنائے ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ وقف اراضی حتیٰ کہ قبرستانوں کو بھی فروخت کیا گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ وقت اراضی اراضی سابقہ حکمرانوں نے فروخت کی ہے، لیکن ایک ایک پائی کا حساب لیا جائیگا۔بچوں کو دینی تعلیم دینے والے اداروں کو مالی معاونت پر بات کرتے ہوئے وقف بورڈ سربراہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں مدرسہ بورڈ بن جاتا تو اس سے ہمیں کافی فائدہ تھا اور اس سے ہم کھل کر ایسے ادروں کی مالی مدد کر پاتے ۔ پونچھ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے جموں وکشمیر میں ایک ہی ادارہ ہے جو فاطمہ الزہرہـؓ سے منسوب ہے جہاں پر 310بچیاںدینی تعلیم سے آراستہ ہو رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس ادارے کو کوئی بھی سرکاری معاونت نہیں مل رہی ہے بلکہ اس کے سربراہ نے اپنی زندگی کی پوری جمع پونجی خرچ کر کے یہاں بچیوں کو تعلیم دینے کی ایک کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس ادرے میں جموں وکشمیر ہی نہیں بلکہ ہماچل پردیس ، پنجاب ،اور دیگر علاقوں سے بھی بچیاںآئی ہیں ۔انہوں نے کہا ’’ ایسے ادارے ہر ایک ضلع میں ہونے چاہئیں اور ایسی بچیاں جو فیس نہیں دے پاتی ان کی معاونت اور کھانے پینے نیز رہائش کا انتظام ہونا چاہیے۔