وقت :لمحہ لمحہ ہے غنیمت ،ساعت ساعت قیمتی وقت کبھی واپس نہیں آتا اور نہ عمر دوبارہ مل سکتی ہے!

بشارت بشیر 
انسانی زندگی میںوقت سے بڑھ کر کوئی متاع نہیں، پیدائش سے لے کر دم واپسیں تک کا عرصہ ہی زندگی ہے اور یہی وقت کے نام سے موسوم ہے۔اہل ایمان کوئی شتربے مہار نہیں کہ اس زندگی میںوہ جی چاہی کریں، جو چاہے کھائیں پئیں، نہیں بالکل نہیں، اُنہیں زندگی کے بیش قیمت لمحات کو بتانے کے لئے ایک ضابطہ عمل دیا گیا ہے اور وقت کی اہمیت سے اُنہیںآگاہ کرتے ہوئے اس کے پل پل سے فائدہ اُٹھانے کی ترغیب بھی دی گئی ہے ۔اُنہیں باور کردیا گیا کہ وہ نیکیوں اور بھلائیوں کے امور خود بھی انجام دیتے رہیںاور اس کے داعی بھی بن کے دکھائیں۔ وقت کے اعتبارسے مسلمانوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہیں جن سے چشم پوشی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ وقت کے لمحہ لمحہ سے مستفید ہونے کا درس اسلام نے بطور خاص دیا ہے۔جہاں اہل ایمان کو عبادات وبندگی کی حقیقت اور اس کے احوال وضوابط سے آگاہ کرتے ہوئے بروقت ان کی ادائیگی کے احکام دئے گئے وہاں وہاں اُنہیں یہ بھی بتلایا گیا کہ انسانی زندگی میں اضمحلال پیدا نہ کرے اور انحطاط وزوال کے اصل اسباب میں جمود وتعطل کا خاصاکردار ہے۔ بے حس وحرکت انسان جوش عمل سے قاصر رہتا ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں کو مسلسل محنت ومشقت کرنے کا درس زریں دیتا ہے اور وقت کی ہر گھڑی کی اہمیت کو جان مان کر جفاکشی کو اپنا شعار بنانے کی انہیں تاکید کی گئی ہے۔آسمانوں سے تارے اُتر کر ہمارے گھروں میں آسکتے ہیں اور نہ وہاں سے غذاو اشیاء خوردونوش کا نزول ہوسکتا ہے بلکہ اس کے لئے وقت کے ہر لمحہ کی قدر کرتے ہوئے حصول روزگار کے لئے اپنی ذہنی وجسمانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا اور یہ رزق و روزی حلال ذرائع سے کمانے کی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ کا یہ بھی بے پناہ فضل وکرم ہے کہ ہمیں ایک صحت مند اور طاقت ور بدن میسر آیا ہے اور اچھی روزی بھی (حلال ذرائع سے کما کر) ہمیں میسر ہے ۔سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ کہ تم میںسے جس نے اس حال میں صبح کی کہ اُس کا جسم صحیح وسلامت ہے، اُس کی جان امن وامان میںہے اور اُس کے دن کا کھانا اُس کے پاس ہے تو گویا اُس کے لئے دنیا ایک ہوگئی ۔‘‘ یعنی مسلمان حصول دنیا کے لئے تکاثر کا شکار نہیںہوتا ،وہ بس معاشی مزدور بن کے بھی نہیں رہتااور نہ اُس کی حصول دنیا کی بھوک بے جا انداز میںبڑھتی رہتی ہے۔ وہ حرص وا ٓز کا شکار نہیں رہتا، اللہ کی جانب سے محنت ومشقت کے بعد اُسے جو کچھ ملتا ہے اُس پر قانع رہتا ہے،وہ ہمیشہ متحرک اور فعال رہتا ہے جمود سے بہت دور ۔ ہاں جمودیہ بھی تو ہے کہ آدمی کسب حلال سے فارغ ہو اور پھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہا ۔ اپنے باطن کو نہ سنوارے ، نفس کا تزکیہ کرنے کا بیڑہ نہ اُٹھائے، اپنی روح کی پاکیزگی اور اخلاق سنوارنے سنبھالنے کے کام سے جی چرائے، اپنے مولا کے قریب نہ جائے، انسانیت کی خدمت کو شعار نہ بنائے ۔یاد رکھئے بے کاری انسانی قوت فکر وعمل کوفناکے گھاٹ اُتاردیتی ہے ، عمر کتنی بھی طویل پالے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں سے مستفید نہیں ہوتا ۔
وقت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میںمختلف اوقات کی قسمیں کھائیں ہیں۔ سورہ فجر میںوقت ِفجر اور ذوالحجہ کی دس راتوں کی قسمیں کھائیں ہیں ۔ ایک اور مقام پر فرمایا : ’’رات کی قسم جب وہ چھاجائے ‘‘( اور ہر چیز کو تاریکی چھالے) ’’اور دن کی قسم جب وہ چمک اُٹھے ‘‘[سورۃ:الیل] ۔سورۃ:ضحی میں فرمایا : ’’قسم ہے چاشت کے وقت کی ‘‘(جب آفتاب بلند ہو کر اپنا نور پھیلاتا ہے)’’اور قسم رات کی جب وہ چھاجائے ‘‘پھر آگے سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھائی اور فرمایا :’’ بے شک انسان گھاٹے میں ہے اِلا وہ لوگ جو ایمان لائے ،نیک کام کئے اور تواصی بالحق وتواصی بالصبر کرتے رہے‘‘۔ امام رازی ؒ نے فرمایا:’’کہ عصر (زمانے) کا مطلب ایک برف فروش سے سمجھا جو بازار میںآوازیں لگا رہا تھا کہ رحم کرو اُس شخص پر، جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے، رحم کرو اس شخص پر جس کا سرمایہ گھلا جارہا ہے، یہ سن کر میں نے کہا کہ یہ ہے : إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِی خُسْر ٍکا اصل مطلب ۔ یعنی عمر کی جو مدت انسانوں کو دی گئی ہے وہ برف کے گھلنے کی طرح تیزی سے گذر رہی ہے ،اس کو اگر ضائع کیا جائے یا غلط کاموں میںصرف کردیا جائے تو انسان کا بس خسارہ ہی خسارہ ہے ۔‘‘
لازم ہے کہ انسان اپنی زندگی کو بامقصد بنائے، وقت سے فائدہ اُٹھائے، کوئی لمحہ ضائع نہ ہونے دے۔ اپنے لڑکپن میں بھی حساسیت کا مظاہرہ کرے اور جوانی وشباب کے نشے میں مخمور زندگی کو بے قید نہ گذارے بلکہ اس عمر میںکمال دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیکیوں اور بھلائیوں کے راستے پر گامزن ہو۔ اللہ سے لو لگائے اور انسانیت کے لئے شجر سایہ دار ثابت ہو۔کسی نے اس عمر کے حوالہ سے خوب کہا ہے  ؎
کھیتوں کو دے دو پانی گنگا یہ بہہ رہی ہے
کچھ کرلو نوجوانو، اُٹھتی جوانیاں ہیں
  یاد رکھئے! منٹوں کی قدر نہ کرنے سے گھنٹوں کا اور گھنٹوں کی قدر نہ جاننے سے ہفتوں کا، ہفتوں کی ناقدری کرنے سے مہینوں کا اور مہینوں کوفضولیات میںصرف کرنے سے برسوں اور عمروں کا زیاں ہوتا ہے۔کچھ لوگ آخر میں پچھتاتے تو ضرور ہیں لیکن بے سود، یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب رونا دھونا پھر کسی کام کا نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرہ میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو تن آسانی میںبھی ریکارڑ قائم کئے ہوئے ہیں اور محض خیالی محلات کی سجاوٹ میںاپنا شب وروز بتا رہے ہیں۔ نہیں جانتے کہ وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے۔ آفتاب زندگی جلد لب ِ بام آنے کو ہے۔ قبل اس کے کہ حیات مستعار کے دن پورے ہوں، کوچ کا اعلان ہو، ہم وقت کی ندا وصدا کو سن کر ہوش کے ناخن لیں۔ جمود سے نکل کر تحرک کی دنیا میںآئیں ،خود کھائیں اوروں کو بھی کھلانے کے سامان کریں۔ زمین میں بیج ڈالے بغیر فصل کی توقع کرنا دیوانگی سے کچھ کم نہیں، اس لئے مسلسل محنت کرتے رہے، زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ جب یہ چراغ بجھ جائے۔ایک عمر رسیدہ شخص کو کسی نوجوان نے اس حال میںجب کہ وہ بہت کمزور ہوچکا تھا ،بدن میںریشہ تھا ، چلنے پھرنے کی سکت بھی زیادہ نہیں تھی، دیکھا کہ وہ ایک جگہ ایک درخت لگا رہا ہے۔ من چلے نوجوان نے پوچھا بابا تمہاری زندگی کے یہ آخری ایام ہیں، یہ درخت جب برگ و بار دے گا تو آپ اُس وقت اس دنیا میں ہوں گے نہیں۔ کس کے لئے لگا رہے ہو؟ تو بزرگ نے ایک بوڑھے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : کہ وہ بھی کسی بوڑھے ہی نے لگایا تھااور ہم اُس کی چھائوں میں اس کی ہوائوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔جانتا ہوں کہ لگائے جارہے درخت کی بہار دیکھنا میرے نصیب میںنہیں ہوگا۔ لیکن کوئی تو ہوگا میرے بعد ضرورجو اس سے نفع اندوز بھی ہوگا اور دعائیں بھی دے گا۔
   بہر حال وقت ایک عظیم نعمت ہے اس سے فائدہ بٹورئیے اور اللہ کی بندگی کے ساتھ ساتھ اس زندگی کو صحیح ڈگر پرڈالنے کی سعی وعمل میںمصروف رہیے۔ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ قیامت میں بندہ اُس وقت تک (اللہ کی بارگاہ میں) کھڑا رہے گا جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہیں ہوگا:
۱۔اس نے اپنی زندگی کن کاموں میںگذاری،۲۔اپنی جوانی کن امور میں صرف کردی ،۳۔مال کہاں سے کمایا ،۴۔ کہا ں خرچ کیااور۵۔ اپنے علم پر کتنا عمل کیا۔ سبق یہی ہے کہ فانی زندگی کے اوقات کو سنجیدگی سے گذارا جائے۔ ہر چیز کے بارے میںباز پرس ہوگی ،اور سر حشر فرد اعمال برملا پیش کیا جائے گااور اس اعمال نامہ کو خوبصورت بنانے کے لئے وقت کی اہمیت سے آگاہ ہو نا ضروری ہی نہیںلابدی امر ہے۔اس لئے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر قیامت قائم ہوجائے اور تمہارے ہاتھ میںکھجور کا ایک چھوٹا سا پودا ہو، تو اگر وہ اس بات کی استطاعت رکھتا ہے کہ حساب کے لئے کھڑا ہونے سے پہلے اسے لگاسکے تو اُسے ضرور لگانا چاہیے ۔‘‘[مسند أحمد بن حنبل ]یہ ارشاد گرامی کس قدر وقت کی اہمیت کا حامل ہے :غور فرمائیے:
اپنے اکابرین ومشاہیر کو دیکھ لیں کہ وہ وقت کے کس قدر قدر دان تھے:’’ عظیم صحابی عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں ـ: کہ جب تو صبح کرے تو شام کا انتظار نہ کر اور جب شام کرے تو صبح کا خیال دل میں نہ لا۔بیماری سے پہلے اپنی صحت میں سے حصہ لے لے اور موت سے پہلے زندگی سے فائدہ اُٹھالے۔ کیونکہ تو نہیں جاتا کہ کل تیرا نام کیا ہوگا مردہ یا زندہ۔ عامر بن مینسؒ ایک بڑے تابعی تھے ایک شخص نے دعوت دی آئو بیٹھ کر کچھ دنیا کی باتیں کریں۔ جواب دیا،بھئی پھر سورج کو بھی ٹھہرا دو۔ فتح بن خاقان مشہور عباسی خلیفہ المتوکل کے وزیر تھے۔ اپنے ساتھ ضرور کوئی نہ کوئی کتاب رکھتے تھے، سرکاری امور سے کچھ فراغت ملی تو کتاب کا مطالعہ شروع کرتے۔ اسماعیل بن اسحاق القاضی کے ہاں جب بھی کوئی جاتا تو اُنہیں مطالعہ میں مصروف پاتا۔ البیرونی کے ذوق علم وشوق مطالعہ کی حالت یہ تھی کہ : حالت مرض میںمرنے سے چند لمحات پہلے ایک فقیہ سے (جو عیادت کو آیا تھا) میراث کا ایک مسئلہ پوچھ رہے تھے ۔ علامہ ابن قیمؒ جوزی کی کتب کی تعداد ایک ہزار ہے، اپنے قلم کے تراشوں تک کو بھی سنبھال کے رکھتے تھے ۔چنانچہ یہ بھی بیان کیا گیا کہ جب اُن کاانتقال ہوا تو ان قلموں کے تراشوں سے اُن کے غسل کا پانی گرم کیا گیا ۔ اُن کے روزنامچہ ’’الخاطر‘‘ کو پڑھئے تو آپ پائیں گے کہ اُن لوگوں پربہت افسوس کرتے ہیں جو کھیل تماشوں میںمصروف نظر آتے ہیں اور کوئی درست کام دھندہ نہیں کرتے۔ اِدھر اُدھر بلا مقصد گھومتے رہتے ہیں۔ بازاروں میں آنے جانے والوں کو گھورتے ہیں اور قیمتوں کے اُتار چڑائو پر تبادلہ ٔ خیال کرتے رہتے ہیں۔ فخر الدین رازیؒ کی چھوٹی بڑی کتابوں کا شمار کیجئے تو ایک سو سے کم نہیں ہوگیں۔
قارئین محترم یہ اقوال اور مثالیں اس لئے دیں کہ ہم وقت کی دولت کی قدر کریں ۔ یہ بڑی تیزی سے ہاتھوں سے پھسل کے جارہا ہے ۔بازاروںمیں مٹر گشتی کرنے ،فضول قسم کی محافل سجانے ، بے ہودہ گفتگو کرنے سے احتراز کریں ۔گپ شپ کے نام پر دوست واحباب کی مجالس کا انعقاد کرنے سے باز رہیں۔ ہنسی مذاق اور دل لگی کی باتیں کرنے پر وقت کا زیاں نہ کریں۔موبائل وسماٹ فونوں کی دنیا میں گم ہوکر فکر دنیا کسب ِمعاش اور تصور ِآخرت سے غافل مت ہوجائیے۔ وقت کے پل پل کو غنیمت جانیں۔ رزق حلال کے حصول کے کام میںجٹ جائیے۔ خود کھائیے دوسروں کو بھی کھلائیے ، باطن کو سنوارنے کا کام کیجئے ۔ فرائض وسنن کی ادائیگی اور نوافل کا اہتمام کیجئے ۔ تب جاکر زندگی فائز المرام بن سکتی ہے۔ اللہ خیر فرمائے۔لمحہ لمحہ گذرتا جارہا ہے۔ اور صدا آرہی ہے ؎
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹادی
)رابطہ۔7006055300)