ہر وہ چیز شراب ہے جو عقل پر چھا جائے اور اُسے متاثر کرے،چاہے وہ کسی مشروب،انجگشن یا کریک کی شکل میں ہو یا چرس ،افیون اور برائون شوگر جیسی خشک چیز کے روپ میں ۔کچھ انگور ،جَو ،گنّے اور بعض درختوں کے چھلکوں وغیرہ کے رَس سے بنائی ہوئی نشہ آور شراب ہی کو شراب سمجھتے ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیوکہ جن قوموں میں سیال شراب کا رواج عام ہے اُن کی حالت اُن قوموں سے بہتر ہے جن میں چرس ،گانجا ،افیون اور براون شوگر جیسی منشیات کا رواج ہے،پھر یہ خیال تو احمقانہ ہے کہ کم نقصان والی چیز کو استعمال کیا جائے اور زیادہ نقصان پہنچانے والی چیز پر پابندی لگائی جائے۔پُرانے وقتوں سے شراب کے بارے میں یہ جانا جاتا ہے کہ وہ ذہن کو معطل اور اُس کی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے اور انسان اپنی وہ بہترین ذہانت کھو دیتا ہے جس کی بدولت وہ دوسری مخلوقات پر امتیاز رکھتا ہے۔انسان اگر اپنی ذہن کی رَو بے لگام چھوڑ دے تو اُس کے جذبات بے قابو ہوجاتے ہیں ،اسی لئے بسا اوقات شرابی، جانوروں جیسے حرکات کرنے لگتا ہے ۔بہت سی قومیں اب منشیات کو اب حال و مستقبل کے لئے مضر سمجھنے لگی ہیں اور اسی لئے اُن کی روک تھام پر انتہائی زور لگارہی ہیں ،بعض ممالک نے تو منشیات کے استعمال کرنے اور اسے پھیلانے کی سزا پھانسی مقرر کردی ہے اور آج کے دور میں اب منشیات کے مُضر اثرات کے بارے میں ہر جگہ کافی شور و شرابا مچایا جارہا ہے۔
لوگوں کی حالت بھی عجیب ہے مثلاً وہ یقین رکھتے ہیں کہ تمباکو نوشی کا کوئی فائدہ نہیں اور صحت اور پیسے کی برُبادی کے علاوہ اس سے جان لیوا امراض پیدا ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اس احمقانہ عادت میں چھوٹے بڑے ہر طرح کے لوگ بُری طرح مبتلا ہوتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ بعض لوگ وقتی طور پر اپنے اعصاب و سکون دینے کے لئے منشیات کا استعمال کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس عارضی سکون کے بعد زیادہ تکلیف دہ حالت سامنے آجاتی ہے اور طرح طرح کے امراض پیدا ہوکر ایسے لوگ پھر نہ صرف اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے ایک بھاری بوجھ بن جاتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لئے ایک ناسور بن کر رہ جاتے ہیں۔آج سے کچھ ستَر اَسی سال پہلے حکومت امریکہ نے بھی شراب کے مُضر توں کا احساس کرکے اس پر پابندی عائد کرنی چاہی اور اس کے لئے ایک اچھا سا قانون بھی بنا دیا لیکن اُسے ناکامی کا سامنا صرف اس لئے کرنا پڑا کیونکہ اسلام کی طرح اُس نے تدریجی پابندی کا راستہ اختیار نہیں کیا تھا ۔اسلام منشیات کو حرام قرار دیتا ہے اور نشہ کرنے والے کو اَسی کوڑے کی سزادیتا ہے کیونکہ شرابی یا چرسی بکواس میں تہمت طرازی تک پہنچ جاتا ہے اور اسلام میں بے گناہ عورتوں پر تہمت طرازی کی سزا یہی ہے۔پھر اسلام شراب پینے ہی پر سزا دیتا ہے نشہ ہونے کی شرط عائد نہیں کرتا یعنی جو بھی شراب پی لے گا، چاہے اُسے نشہ ہُوا ہو یا نہ ہُوا ہو ،اُسے سزا دی جائے گی۔
شراب و منشیات کا چلن ہماری بستی میں بھی کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ عرصۂ دراز سے ان کا استعمال کھُلے عام پُرانے وقتوں میں بھی ہورہا تھا اور آج بھی بڑی شد و مد سے یہ شغل جاری ہے۔پچھلے کئی برسوں سے یہاں کے اکثر دوا فروش بہت سی نشیلی دوائیں من مانی قیمتوں پر بیچ کر مانا دولت کے انبار لگانے میں مصروف ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ یہاں کی اُٹھتی جوانی اور انمول زندگیوں سے کھِلواڑ کرکے وہ اگر اسدنیا میں نہ صحیح مگر آخرت کے لئے اپنے آپ کو نہ چھوٹنے والے مجرم بنا رہے ہیں۔
تقریباً ساٹھ ستَر سال پہلے یہاں چرس کا استعمال اس قدر آزادانہ ہوتا تھا کہ پینے والوں نے یہ کام انجام دینے کے لئے باضابطہ ٹھکانے بنا لئے تھے جو ’’تکیہ‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے اور چرس پینے والوں کو ’’شودہ‘‘ کے لقب سے پُکارا جاتا تھا ۔یہاں کی توہم پرست قوم اُس وقت بھی خیر و شَر کے موقعوں پر اُن ’شودہ تکیوں‘ کے لئے وازہ وان روانہ کرتے تھے کیونکہ چرسیوں کو مَلنگوں اور قلندروں کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا اور اُن کی کہی ہوئی ہر بات پتھر کی لکیر سمجھی جات ی تھی ۔اگر چہ اُس زمانے میں اکثریت چرسیوں اور افیونیوں ہی کی تھی لیکن پھر بھی کبھی کبھار کوئی عادی شرابی شہر کے چوراہوں پر یا تفریح گاہوں میں ہڑبونگ مچا کے اپنی موجودگی کا برملا اظہار بھی کرتے تھے یا کبھی کوئی زیادہ شراب پی کر سڑک کی کسی گندی نالی میں اوندھے مُنہ گِرا ہوا بھی دیکھا جاتا ۔چرسیوں کے تعلق سے اگرچہ کئی کہانیاں اور قصے اُن دنوں بہت مشہور تھے لیکن چرسیوں سے منسوب کچھ حقیقتیں بھی تھیں ،مثلاً ایک چرسی سڑک کی عام بہتی ہوئی نالی کودریا سمجھ کر اُسے پار نہیں کرتا تھا یا کسی لمبی چھڑی کو چنار کا درخت سمجھ کر اُس کے نیچے ایسے بیٹھ جاتا جیسے کہ سایہ کررہا ہو ۔
آج کے دور میں اگرچہ ایسے واقعات بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن انسانی جانوں کا ضِیاع اور سماجی ماحول کی تباہی اور بُربادی اُس زمانے کے مقابلے میں آج کئی گنا زیادہ ہے۔علمی روشنی کی بدولت اگرچہ ذہنی بیداری کچھ حد تک بڑھ گئی ہے لیکن مال و زَر کی ہوس نے اب تعلیمی اداروں کو ہی نشانہ بنا لیا ہے ۔روز اخبارات کی وساطت سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ ہر ذی ہوش انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ،ایسا لگتا ہے کہ حصول دولت کے علاوہ بھی کچھ ایسی ایجنسیاں کام کررہی ہیں جو زہریلی منشیات اور نشیلی ادویات کی بیوپاری بن کر یہاں کی نوجوان نسل کو یا تو پوری طرح ناکارہ اور بے کارا یا بالکل ہی نیست و نابود کرنے پر تُلی ہوئی ہیں ۔ہمارے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا بدبختی ہوسکتی ہے کہ لڑکوں کو چھوڑ کر جوان اور تعلیم یافتہ لڑکیوں کو بھی اب نشے کے اس زہریلے دَلدَل میں دُھنسا یا جارہا ہے۔اکثر دوا فروش دکانوں سے نشیلی ادویات والی بوتلوں کی خرید و فروخت سَرِ عام جاری ہے۔ہزاروں لاکھوں شراب کی بوتلیں روز بستی میں لائی جارہی ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہر شاہراہ ،ہر نکڑ ،ہر چوراہے اور ہر بھرے بازار میں موجود قانون کے رکھوالوں کی موجودگی میں ہورہا ہے۔عوام دوستی اور خیر خواہی کے لمبے چوڑے دعویٰ کرنے والے پولیس کے اعلیٰ افسران شائد یہ بات بھول رہے ہیں کہ اُن کی غفلت شعاری اور اپنے فرائض سے چشم پوشی کا ہی نتیجہ ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان دوریاں اور فاصلے بڑھتے جارہے ہیں اور اِس بستی کا ایک عام انسان اس محکمے سے پورا بدظن ہوچکا ہے۔
دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں ،یاتو ہماری پولیس اس لئے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے کہ دھیرے دھیرے بستی میں نسل کُشی جاری رکھ کر اور اپنے آقائوں کی پالیسی آگے بڑھا کر اُن کی خوشنودی حاصل کی جائے یا اُن پر لالچ اور طمع کا بھوت اس قدر سوار ہوچکا ہے کہ آئے روز رونما ہونے والی اخلاق سوز حرکتیں اور یہاں کے دم توڑتے جوانوں کو دیکھ کر بھی وہ اپنی آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔بہر حال ! معاملہ چاہے کچھ بھی ہو اب بستی کے عالموں،اصلاح کاروں اور سماج کے ذی عزت شخصیات کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ میدان ِ عمل میں کود پڑیں اور اس بستی کو مزید معاشرتی تباہی سے بچا نے کے لئے آگے آئیں ورنہ آنے والی نسل ہمیشہ کوستی رہے گی ۔
رابطہ:احمد نگر سرینگر
فون نمبر 9697334305