غلام قادر جیلانی
قدرت نے ایک خاص اور متوازن نظام کے تحت موسموں کی ترتیب دی ہے، جہاں ہر موسم اپنے مقررہ وقت پر نمودار ہوتا ہے اور اپنی جداگانہ اہمیت رکھتا ہے ہر رخصت ہوتا ہوا موسم اپنے پیچھے ایک نئے موسم کی نوید اور تبدیلی کا پیغام لاتا ہے۔
کشمیر، جسے زمین پر جنت کہا جاتا ہے، چار واضح موسموں موسمِ بہار، موسم گرما، موسم خزاں، اور موسم سرما کا گھر ہے۔ تاہم، سال کے آخری مہینے دسمبر سے شروع ہو کر فروری تک رہنے والا موسمِ سرما اپنی سخت ترین کڑواہٹ اور شدید سردی کی وجہ سے خاص پہچان رکھتا ہے۔موسمِ سرما بلا شبہ سال کا سرد ترین موسم ہوتا ہے، جس میں سردی کی شدت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ اس دوران سورج کی حرارت کم ہو جاتی ہے، گہری دُھند چھا جاتی ہے اور درجہ حرارت کا پارہ تیزی سے گر کر منفی ہو جاتا ہے۔ شدید سردی کے ساتھ ساتھ، دن کا دورانیہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ وادی پوری طرح برف کی سفید چادر میں ڈھک جاتی ہے، پانی کے ذخائر اور نل جم جاتے ہیں اور ہر طرف یخ بستگی کا عالم ہوتا ہے۔
اس موسم کا سب سے انتہائی سرد اور سخت ترین دورانیہ چالیس دن پر مشتمل ہوتا ہے، جسے مقامی طور پر ’’چِلّے کلاں‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دورانیہ ہر سال ۲۱ دسمبر سے شروع ہو کر ۲۹جنوری تک جاری رہتا ہے۔ چِلّے کلاں میں سردی کی شدت ناقابلِ برداشت ہوتی ہے، جس سے زندگی کی معمول کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے ہر گھر اور ادارے میں گرمی کا معقول اور مؤثر انتظام کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔سردی کی شدت کی وجہ سے کاروبار کی سرگرمیوں میں خاصی کمی آ جاتی ہے۔ کبھی کبھار برف کے تودے اور پتھر کھسکنے سے وادی کے زمینی رابطے کٹ جاتے ہیں۔ اس تعطل کے نتیجے میں غذائی اور اہم ضروریات کی شدید قلت پیدا ہوتی ہے، جس سے گراںفروشی بڑھ جاتی ہے اور مقامی لوگ شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
موسمِ سرما کی آمد سے قبل ہی لوگ سردی سے بچنے کے لیے گرم ملبوسات کی خریداری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ عام دنوں میں کپڑوں کی دکانوں پر اور خاص طور پر اتوار کے روز سنڈے مارکیٹ میں خریداروں کی چَہل پہل رہتی ہے، جہاں لوگ مناسب قیمت پر گرم ملبوسات خریدتے ہیں۔ فرن جو کہ کشمیریوں کا روایتی لباس ہے، کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہ سردی سے بچنے کے ساتھ ساتھ کانگڑی کو سنبھالنے اور اس کی حرارت برقرار رکھنے کا بھی مؤثر ذریعہ ہے۔ چرارشریف اور بانڈی پورہ میں تیار ہونے والی مضبوط اور معیاری کانگڑیوں کی خریداری بھی زوروں پر ہوتی ہے۔
جب میں نے وادی کے معروف قلمکار، شاعر ،سماجی اور ماحولیاتی کارکن ظریف احمد ظریف کے ساتھ آج اور ماضی کے موسم سرما کے موازنے پر گفتگو کی تو انہوں نے موسمِ سرما میں نمایاں تبدیلیوں کی نشاندہی کی۔ ظریف صاحب کے مطابق ماضی میں سری نگر میں بھی چار سے پانچ فٹ تک برف جمع ہو جاتی تھی، مگر آج جنگلات کے بے تحاشا کٹاؤ، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔آج کم برف باری کے باعث برف زمین پر دیر تک نہیں ٹھہرتی، جس سے پانی کا بہاؤ اور زیر زمین پانی کے ذخائر بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
ظریف احمد ظریف کے مطابق موسمِ سرما میں کی جانے والی گھریلو دستکاریوں (قالین سازی، کڑھائی، سوت کی کتائی وغیرہ) میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جس سے نہ صرف کشمیر کی ثقافت متاثر ہوئی ہے بلکہ موسم سرما کے دوران لوگوں کی متبادل کمائی کا ذریعہ بھی ختم ہو رہا ہے۔ ظریف صاحب نے فن تعمیر میں بدلاؤ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے مکانات مٹی اور لکڑی کے بنے ہوتے تھے جو قدرتی طور گرمی کوبرقرار رکھنے میں مدد دیتے تھے، جبکہ آج کے سیمنٹ اور لوہے کے مکانات میں سردی کا احساس زیادہ شدت سے ہوتا ہے۔ موسم سرما کے دوران کھانے پینے کے عادات میں بھی نمایاں بدلاؤ آیا ہے۔ ماضی میں لوگ بہت سی سبزیوں جیسے کدو،ٹماٹر شلغم کو سُوکھا کر موسم سرما میں استعمال کرتے تھے تاکہ قلت کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ جبکہ آج ہر موسم کی سبزیاں اور میوے سردیوں میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ خوراک کی یہ تبدیلی اور غیر موسمی اجناس کا استعمال انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کر سکتا ہے ۔
مطلوبہ سطح سے کم برف باری کی وجہ سے وادی میں سرمائی کھیل اور سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ سیاحوں کی آمد میں کمی سے ہوٹل مالکان اور ہوٹلوں میں کام کرنے والے عملے کے ساتھ ساتھ ٹور آپریٹرز، ٹرانسپورٹرز اور دکاندار براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی واضح مثال پچھلے سال دیکھی گئی، جب گلمرگ میں منعقد ہونے والی اہم سرمائی کھیل ’’کھیلو انڈیا‘‘ کو کم برف باری کی وجہ سے مؤخر کرنا پڑا، جس سے چالیس فیصد تک سیاحوں کی آمد میں کمی آئی۔ لہٰذامناسب اور بروقت برف باری معیشت کے ساتھ ساتھ سیاحت کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
زندگی گزارنے کے روایتی مزاج میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔ ماضی میں لوگ روایتی دان (چولہے) پر کھانا پکاتے تھے، جس کے لئے جلانے کی لکڑی ،ایندھن اور سوکھے گوبر کا استعمال ہوتا تھا لیکن آج گیس اسٹووز اور بجلی کے ہیٹروں کا استعمال عام ہو گیا ہے۔
آج کل تفریح اور معلومات کے ذرائع میں بھی گہری تبدیلی رونما ہوئی ہے آج برف باری ہوتے ہی بہت سارے لوگ سوشل میڈیا پر برف میں کھینچی گئی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے میں مشغول ہوجاتے ہیں، جبکہ پہلے سردیوں کی طویل راتیں بزرگوں خاص کر دادا دادی کی دلچسپ لوک کہانیوں کے نام ہوتی تھیں ۔ان کہانیوں سے نہ صرف اخلاقی درس ملتا تھا بلکہ ان کے ذریعے بچوں کو بزرگوں کا بے لوث پیار اور شفقت نصیب ہوتی تھی۔ مجھے اپنی مرحوم چاچی خورشی بیگم، جو میری ماسی بھی تھیں اور جنھوں نے مجھے اپنی ماں سے زیادہ پیار دیا، کی کئی دلچسپ کہانیاں آج بھی یاد ہیں۔
موسم سرما کا یہ بدلتا مزاج اور لوگوں کے رہن سہن میں تبدیلیاں اگرچہ کشمیری معاشرت کا اٹوٹ اور تسلیم شدہ حصہ بن چکی ہیں مگر،اگر ہم بحیثیت ایک ذمہ دار قوم کے، ماحولیاتی اور معاشرتی ذمہ داری کے تئیں اپنے اندر ٹھوس اور مثبت تبدیلیاں لے آئیں تو بدلتے موسم کے منفی اثرات سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے ۔یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں اور اپنے رہن سہن کے انداز میں ضروری اصلاحات کو شامل کریں ۔اس کے ساتھ ساتھ موسمِ سرما کو بہتر طریقے سے گزارنے کے لیے انتطامیہ اور عوامی حلقوں کو بروقت، مکمل اور ضروری تیاریوں کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ شدید برف اور سردی کے اس موسم میں عام لوگوں کو کسی مشکل اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔