جموں//جموں وکشمیر کی وحدت، انفرادیت ، اجتماعیت اور مذہبی ہم آہنگی کا راز نیشنل کانفرنس کی مضبوطی میں ہی مضمر ہے۔ ہماری جماعت نے ماضی میں بھی چٹان جیسے چیلنجوں کا سامنا کیا اور بہت سارے نشیب و فراز دیکھے ہیں اور ہمیشہ سرخ رو ہوکر اُبھری ہے، یہ سب اس لئے ممکن ہوپایا کیونکہ اس جماعت کو عوامی حمایت حاصل رہی ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے شیر کشمیر بھون جموں میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس آج بھی تینوں خطوں کے عوام کے دلوں میں راج کرتی ہے اور یہی ایک واحد عوامی نمائندہ جماعت ہے جو تینوں خطوں کے عوام کو درپیش چیلنجوں، مسائل و مشکلات سے نجات دلا سکتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کا بھارت کیساتھ مشروط الحاق ہوا تھا اور اس مشروط الحاق کے تحت ہی ملک کے آئین میں ہماری اس تاریخی ریاست کو خصوصی پوزیشن حاصل ہوئی تھی۔ یہ ایک دوطرفہ معاہدہ تھا جس پر آئینی اور جمہوری طریقے سے ملک کی آئین ساز اسمبلی اور پارلیمنٹ نے مہر لگائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اور جمہوری طور پر جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو کسی بھی صورت میں ختم نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن نئی دلی نے 5اگست2019کو غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقہ اپنا کر یکطرفہ طور پر ہمیں حاصل خصوصی مراعات سے محروم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے ہر سطح پر برسرجہد ہے اور ساتھ قانونی لڑائی بھی لڑ رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس ہی جموںوکشمیر کے عوام کو موجودہ دلدل سے نکال سکتی ہے اور اس لحاظ سے ہم پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے پارٹی عہدیداروں کو زمینی سطح پر تنظیم کی مضبوطی کیلئے کام پر زور دیتے ہوئے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ لوگوں کے ساتھ قریبی رابطہ ہی ایک تنظیم کی حقیقی روح ہوتی ہے اور نیشنل کانفرنس کو ہمیشہ یہ طرہ امتیاز حاصل رہاہے کہ یہ جماعت لوگوں کیساتھ زمینی سطح پر جڑی رہی ہے اور اسے لوگوں کی بے پناہ محبت اور پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیاکہ وہ ثابت قدم رہے اور دشمنوں کے مذموم منصوبوںکو ناکام بنائیں۔یو این آئی