نہر ِزبیدہ۔مکہ مکرمہ کی تاریخی نہر معلومات

مولاناغیاث الدین
اسلامی تاریخ میںایک خاتو ن نے حجاج کرام کی خدمت کی جومثال قائم کی ہے، اس کی مثال تاقیامت ملنامشکل ہے۔اس عظیم خاتون کوتاریخ میں ’’ملکہ زبیدہ کے نام سے یادکیاجاتاہے۔مکہ مکرمہ کی سرزمین چونکہ صحرااورخشک پہاڑوں پرمشتمل ہے۔اس لئے یہاںحجاج کرام کوقلت آب کامسئلہ روز اول سے درپیش رہاہے۔اپنے شوہرخلیفہ ہارون رشید کے انتقال کے بعد ملکہ زبیدہ جب حج کے لئے آئیںتومکہ مکرمہ میںپانی کی قلت کانوٹس لیااورحجاج کرام اوراہل مکہ کو درپیش آبی مشکلات اوردشواریوںکااپنی آنکھو ں سے مشاہدہ کیاتوانہوںے مکہ میں ایک نہربنانے کاارادہ کیا۔جب نہرکی کھدائی کامنصوبہ سامنے آیاتو بغداد واپسی پرمختلف علاقوںسے ماہرانجیئنراورآرکیٹک بلوائے گئے اورمکہ مکرمہ میںپانی کامسئلہ حل کرنے کاحکم دیا۔ماہرین نے ملکہ کوسروے کے بعد رپورٹ دی کہ نہرکی منصوبہ بندی انتہائی مشکل کام ہے’’تاریخ کے حوالوں میں ملکہ زبیدہ کایہ جملہ مشہورہے کہ’’ہرقیمت پرنہرتعمیرکی جائے ،خواہ ہرکدال کی ضر ب پرایک دینارہی کیوںنہ دیناپڑے ؟سترہ لاکھ دینارسے تیارشدہ اس پروجیکٹ نے مکہ میں قلت آب کامسئلہ حل کردیا۔800ء سے 1950،تک مسلسل 1200،برس تک حجاج کرام اورمکہ مکرمہ کے باشندے اس نہرسے پانی پینے کے ساتھ دیگرضروریات بھی پوری کرتے رہے۔حاجیوں کیلئے پانی کی فراہمی کے لئے مکہ مکرمہ کے قریب وادی نعمان سے جونہرنکالی گئی وہ ’’نہرزبیدہ ‘‘کہلاتی ہے۔نہرزبیدہ کووادی نعمان سے پہلے میدان عرفات ،مزدلفہ اورپھرمکہ تک ایک ڈھلوان کی صورت میں لایاگیا۔عرفات سے 10،کلومیٹردورطائف کی طرف جبل کراکے کے دامن میں وادی نعمان واقع ہے۔یہاںزمین میں پانی کی سطح خاصی بلند ہے،اس علاقے میں بارش کاسلسلہ بھی جاری رہتاہے۔مصری ماہرین کی رپورٹ کے مطابق وادی نعمان سے پانی پہلے عرفات لے جایاگیا،اس لئے کہ ڈھلوان کی شکل میں پختہ انڈرگرائونڈ چینل بنایاگیاتاکہ پانی خو دبخود بہتاہواجائے۔پانی کالیول یکسا ںرکھنے کے لئے کہیںیہ چینل نہرزمین سے اوپرہے اورکہیں زمین سے نیچے ،چینل کوپتھراورچونے کی مدد سے پختہ کیاگیاتاکہ زمین سے حاصل شدہ پانی دوبارہ جذب نہ ہوجائے ۔یعنی پوری نہرزبیدہ کوخواہ وہ زمین سے اوپرہے یااندر،پتھروں کوچونے سے جوڑکرپلاسٹرکیاگیا۔یہ نہرمکہ مکرمہ کے علاقے عزیزیہ تک جاتی تھی،پھروہاں سے مسجد نمرہ تک لے جائی گئی،نہرزبیدہ1200،برس تک مشاعرہ مقدسہ اورمکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کابڑاذریعہ رہی،۔آج کے دورمیں ماہرآرکیٹک اورانجینیرحیران ہیں کہ صدیوںپہلے فراہمی آ ب کے اس عظیم الشان منصوبے کوکیسے تکمیل تک پہونچایاگیا۔نہرزبیدہ کامنصوبہ اس وقت کے ماہرین نے 10،سال کے عرصے میں مکمل کیا۔اس کی کل لمبائی 38،کلومیٹرہے۔ایک اندازے کیمطابق اس منصوبے پر170،ملین ڈالردینارلاگت آئی تھی۔آج اس کاحساب لگایاجائے توایک دینار10،گرام سونے کے برابرہوگاجوبہت بڑی رقم بنتی ہے،نہرزبیدہ1950،تک چلتی رہی،بعد ازاں پمپوں کے ذریعے پانی کھینچے جانے کے باعث خشک ہوکربند ہوگئی،آج بھی اس کاایک حصہ محفوظ حالت میں ہے۔سروے کے بغیراتنادرست حساب کیسے لگایاگیا؟یہ نہراونچے اونچے راستوںسے گھومتی ہے لیکن اس کالیول برقراررہتاہے۔اسی نہرکے ساتھ جبل رحمت پرایک سبیل بنائی گئی ،انجینئرنگ کی یہ خوبصورتی تھی کہ اتنے درست لیول پرتھی کہ سبیل میں خودبخود پانی بھرتاتھا،مزدلفہ میںیہ نہرزبیدہ مسجد مشعرحرام کے قریب کنویں کی شکل میں تھی تووہاںسے لوگ پانی نکالتے تھے،منیٰ کوبھی یہاںسے پانی فراہم کیاجاتاتھا،بعد میں نہرپرپمپ لگاکرپانی منی تک پہنچانے کابندوبست کیاگیا۔منی میں بھی حوض بنائےگئے۔ایک اندازے کے مطابق نہرزبیدہ سے 600،کیوبک میٹرپانی روزانہ مکہ مکرمہ آتاتھا۔1950،تک یہ نہرچلتی رہی۔آبادی بڑھی تولوگوں کوپانی کی ضرورت بھی بڑھیں،انہوںنے پمپ لگاکرزمیںسے پانی نکلالناشروع کیا،کئی مقامات پرچینل پمپ لگاکرپانی کھینچاگیااس کے نتیجے میں زمین میںپانی کالیول گرگیااوریوںنہرخشک ہوگئی ۔واضح ہوکہ ام جعفرزبیدہ بنت جعفربن ابوجعفرمنصورہاشمی خاندان کی چشم وچراغ تھی،یہ ہارون رشید کی چچازاد بہن اوربیوی تھی۔ان کانام’’امۃ العزیز ‘‘تھا ان کے داداان کو’’محبت سے زبیدہ ‘‘(دودھ بلونے والی متھانی )کہ کرپکارتے تھے۔چنانچہ سب اسی نام سے پکارنے لگے اوراصلی نام بھول گئے ۔یہ نہات خوبصوت اورذہین وفطین اوردیندار خاتون تھیں ۔جب جوان ہوئی توخلیفہ ہارون رشید سے ان کی شادی ہوگئی ،یہ شادی بڑی دھوم دھام سے 165ھ مطابق جولائی 782میں ہوئی۔ہارون رشید نے اس شادی میں غریبوںکواسقدرمال تقسیم کیاکہ جس کی مثال تاریخ میںمفقود ہے۔اس شادی میں خاص بیت المال سے پانچ کروڑ ددرہم خرچ کئے۔ملکہ زبیدہ کی وفات بروز سوموار26 ،جمادی الاول 216،ھ مطابق 10جولائی 831،کوبغداد میں ہوئی اورمقبرہ خیزان مین دفن ہوئیں ۔