سرینگر// جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد فورسز اور نوجوانوں کے درمیان قہر انگیز سنگبازی اور پیلٹ فائرنگ میں قریب30افراد زخمی ہوئے۔ جامع مسجد علاقے اور گردو نواح میں جمعہ کو ٹیر گیس گولوں،پیلٹ فائرنگ اور شدید سنگباری ہوئی،جس کے دوران افراتفری کے عالم میں دکاندار بھی دکانیں کھلی چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگے۔ نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں نے جلوس برآمد کرتے ہوئے نعرہ بازی کی اور نوہٹہ چوک کی طرف پیش قدمی کی۔تاہم فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے بعد پولیس نے مظاہرین کو جامع میں واپس دھکیلا اور اندھا دھند ٹیر گیس شلنگ شروع کی،جس کے ساتھ ہی طرفین میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ نوجوانوں نے پولیس اور فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے سنگ اندازی کی،جبکہ پولیس نے ٹیر گیس کے گولوں کے علاوہ مرچی گولے بھی داغے،جس کی وجہ سے پوری فضا دھواں،دھواں ہی ہوگئی۔ پولیس نے جامع مسجد کے صحن میں بھی ٹیر گیس گولے داغے،جبکہ پیلٹ سے فائرنگ کی،جس کی وجہ سے بیشتر لوگ زخمی ہوئے۔ ادھر نوجوان چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں جمع ہوئے اور پولیس اہلکاروں کو گھیرے میں لیتے ہوئے پتھرائو کیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرکاری فورسز اور پولیس نے بے حساب پیلٹ داغے،جس کی وجہ سے راہ گیر اور دکاندار بھی نشانہ بنے۔ پیلٹ کی بارش کی وجہ سے قریب30افراد زخمی ہوئے۔ کچھ دیر تک کیلئے نوہٹہ اور جامع مسجد کے گر دونواح کی سڑکیں میدان جنگ میں تبدیل ہوئیں،جس دوران نقاب پوش سنگبازوں نے کھل کر سنگبازی کی۔نوجوانوں نے حزب المجاہدین اور انصار غزوۃ الہند کے بینر اٹھائے تھے۔ وقفہ وقفہ سے سہ پہر تک نوجوانوں اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔