نوعمر مرکزی کابینہ وزیر سے کم عمر وزیر اعلیٰ تک عمرکا سیاسی سفر کامیابی سے عبارت، شمالی کشمیر میں پہلی براہ راست انٹری

 بلال فرقانی

سرینگر//عمر عبداللہ کوجموں کشمیر میں گزشتہ ایک صدی سے سیاسی افق پر چھائے شیخ خانوادے کا چشم و چراغ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ عمر عبداللہ کے دادا جموں کشمیر کے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بھی رہے ہیں جبکہ ان کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی3بار وزیر اعلیٰ رہے ہیں۔عمر عبداللہ جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے علاوہ وزیرمملکت برائے امورخارجہ بھی رہے ہیں جبکہ انہوں نے3بار سرینگر پارلیمانی نشست سے کامیابی بھی درج کی ہے اور اب پہلی دفعہ شمالی کشمیر کی پارلیمانی نشست سے قسمت آزمائی کررہے ہیں۔
سیاسی خانداں
عمر عبداللہ10مارچ1970کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے گھر میں پیدا ہوئے،تاہم انکی پیدائش ایسکس برطانیہ میں ہوئی۔عمر عبداللہ نے ابتدائی تعلیم برن ہال سکول سونہ وار سرینگر میں حاصل کی،جس کے بعد وہ لارنس سکول میں داخل ہوئے۔ انہوں نےسائیڈینہم کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس ممبئی سے1992میں بی کام کی ڈگری حاصل کی۔عمر عبداللہ نے یونیورسٹی آف سٹریتھ کلائیڈگلاسگو سکاٹ لینڈ برطانیہ سے ایم بی اور کامرس کا کورس بھی شروع کیا تھا،تاہم لوک سبھا کیلئے انکے انتخابات کی وجہ سے وہ کورس سے باہر ہوگئے۔ سیاست میں آنے سے قبل عمر عبداللہ نے آئی ٹی سی لمیٹیڈ اور اوبرائے گروپ آف ہوٹلز میں بھی کام کیا۔عمر عبداللہ کے دادا اور نیشنل کانفرنس کے بانی مرحوم شیخ محمد عبداللہ جموں کشمیر کے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بھی رہے ہیں،جبکہ عمر عبداللہ کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی نیشنل کانفرنس کے صدر رہنے کے علاوہ3بار جموں کشمیر کے وزیر اعلی کی کرسی پر برجمان رہے ہیں۔ عمر عبداللہ کے خاندان کی جموں وکشمیر میں ایک صدی پر محیط سیاسی نشیب و فراز کی داستان ہے،جس میں یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے دور اقتدار سے لیکر تا ایں دم جموں کشمیر کے سیاسی افق پر چھایا رہا ہے۔ عمر عبداللہ کی دادی بیگم اکبر جہاں بھی پارلیمنٹ ممبر رہ چکی ہیںجبکہ انکے پھوپھا مرحوم غلام محمد شاہ نے وزارت اعلیٰ کامنصب سنبھالا ہے۔عمر عبداللہ کے چاچا ڈاکٹر مصطفی کمال جہاں جموں کشمیر کے وزیر رہے ہیں،وہیں ان کے برادر نسبتی سچن پائلٹ مرکز میں وزیر رہ چکے ہیں۔عمر عبداللہ جہاں ایک شعلہ بیان مقرر ہیں،وہی ’ایکس‘(ٹیوٹر) پر لوگوں تک کم الفاظ میں اپنی بات پہنچانے کا فن بھی رکھتے ہیں۔عمر کی اپنے ارادوں کے پکے اور فیصلوں کو لینے و عملانے میں ایک سخت گیر سیاست دان ہونے کی چھاپ ہے۔انہیں مطالعہ کا شوقین اور وقت کا پابند سیاست دان سمجھا جاتا ہے،جو اگرچہ خاموش طبیعت کے مالک ہیںتاہم ایک سلجھے ہوئے سیاست داں اور بروقت فیصلہ لینے کیلئے بھی اپنے ہمنوائوں میں مشہور ہیں۔
سیاسی میدان میں
عمر عبداللہ نے1998میں28برس کی عمر میں سیاسی میدان میں قدم رکھا اور 1998میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں سرینگر کی پارلیمانی نشست سے الیکشن میں شرکت کی اورنیشنل کانفرنس کو سرخرو کیا۔ انہوںنے کانگریس کے امیدوار آغا سعید مہدی کو تقریبا 70ہزار ووٹوں سے شکست فاش کیا اور سب سے کم عمر پارلیمنٹ ممبر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔جیت کے بعد وہ1999تک پارلیمنٹ کی وزارت ٹرانسپورٹ اور سیاحت سے متعلق مشاورتی کمیٹیوں کے کے ممبر رہے۔ عمر عبداللہ نے 1999کے انتخابات میں دوسری مرتبہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی اور آزاد امیدوار کے طور پر اس انتخاب میں شرکت کرنے والی محبوبہ مفتی کو 37ہزار ووٹوں سے شکست دے دی ۔اکتوبر1999میں مرکز میں واجپائی حکومت میں عمر عبداللہ کو وزارت صنعت و تجارت کے وزیر مملکت کا قلمدان سونپا گیا جبکہ جولائی2001میں عمر عبداللہ تب نوجوان مرکزی وزیر بنے جب انہیں مرکزی وزیر مملکت برائے امور خارجہ بنایا گیاتاہم انہوں نے دسمبر2002میں اس وزارت سے استعفیٰ دیا۔عمر عبداللہ کو جون2002میں انکے والد کی جگہ نیشنل کانفرنس کا صدر منتخب کیاگیا۔2002کے اسمبلی الیکشن میں تاہم توقعات کے برعکس عمر عبداللہ کو حلقہ انتخاب گاندربل میں پی ڈی پی امیدوار قاضی محمد افضل کے ہاتھوں 2870وٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔قاضی محمد افضل نے11ہزار622جبکہ عمر عبداللہ نے8752ووٹ حاصل کئے۔2004کے انتخابات میں عمر عبداللہ نے ہیٹرک مارتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سرینگر پارلیمانی نشست سے کامیابی حاصل کرکے اپنے نزدیکی مد مقابل پی ڈی پی امیدوار ایڈوکیٹ غلام نبی لون ہانجورہ کو 23ہزار ووٹوں سے شکست دی۔عمر عبداللہ نے98ہزار422ووٹ حاصل کئے جبکہ انکے نزدیکی مد مقابل پی ڈی پی کے غلام نبی لون ہانجورہ75ہزار263ووٹ لینے میں کامیاب رہے۔ 2006میں عمر عبداللہ کو ایک بار پھر نیشنل کانفرنس کا صدر منتخب کیا گیا۔2008کے اسمبلی انتخابات کے نیشنل کانفرنس نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے مخلوط سرکار کا قیام عمل میں لایا اور عمر عبداللہ کو5جنوری2009کو جموں کشمیر کے11ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف دلایا گیا۔اس سے قبل عمر عبداللہ نے اس انتخاب میں پی ڈی پی کے امیدوار قاضی محمد افضل کو8215ووٹوں سے شکست دی تھی۔عمر عبداللہ نے16ہزار519جبکہ انکے نزدیکی مد مقابل قاضی افضل نے8304ووٹ حاصل کئے تھے۔2014کے انتخابات میں عمر عبداللہ نے حلقہ انتخاب بیرو سے جیت درج کرکے اپنے مد مقابل کانگریس کے امیدوار نذیر احمد خان کو910ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ عمر عبداللہ نے23ہزار717ووٹ حاصل کیں جبکہ خان 22ہزار807ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔4اور 5 اگست 2019 کی درمیانی رات عمر عبداللہ کو احتیاطی حراست میں رکھا گیا۔ یہ گرفتاری آئین ہند کے دفعہ370 کو ختم کرنے کے فیصلے کے پس منظر کے طور پر عمل میںآئی۔ چھ ماہ کی نظربندی کی میعاد ختم ہونے کے بعدعمر عبداللہ پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت تازہ فرد جرم عائد کی گئی ہے اور انہیں حراست میں لیا گیا ہے جسے 24 مارچ 2020 کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔24 مارچ 2020 کو عمر عبداللہ کو نظر بندی سے رہا کر دیا گیا۔
اثاثہ جات
عمر عبداللہ کے پاس95ہزار روپے در دست ہیں جبکہ انکے بنک خاتوں میں23لاکھ50ہزار 48روپے جمع ہونے کے علاوہ30لاکھ روپے مالیت کے زیورات بھی ہیں۔عمر عبداللہ نے اپنے بیان حلفی میں ظاہر کیا ہے کہ انکے پاس کسی بھی قسم کی زرعی اورغیر زرعی اراضی کے علاوہ تجارتی و رہائشی مکان نہیں ہے،جبکہ وہ کسی بھی مالی ادارے کے مقروض بھی نہیں ہیں۔