نوجوانوں پر پی ایس اےکے بجائے یو اے پی اے کا اطلاق ضمانت سے محروم رکھنے کا حربہ

بلال فرقانی
سرینگر// پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کو کہا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی جموں و کشمیر کے ان نوجوانوں کے ’’مستقبل‘‘ کے بارے میں بات کر رہے ہیں جنہیں اب غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون(یو اے پی اے) کے تحت جیل میں ڈالا جا رہا ہے تاکہ ان کی ضمانت کے امکانات کو روکا جا سکے۔محبوبہ مفتی نے سری نگر میں پی ڈی پی دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم ان نوجوانوں کے مستقبل کی بات کر رہے ہیں جن پر’ یو اے پی اے ‘ عائد کیاجا رہا ہے تاکہ انہیں ضمانت نہ ملے جبکہ پی ایس اے کے تحت اس کا امکان تھا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جب ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیتی برادری ،مسلمانوں کو بلڈوز کیا جا رہا ہے تو وزیر اعظم کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، جموں کشمیر نے ایک سیکولر ہندوستان کی طرف اس امید پر ہاتھ بڑھایا تھا کہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی ایک ساتھ رہیں گے، لیکن ابھی ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔‘‘ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کے دورہ جموں و کشمیر کے بارے میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ اقلیتی برادری کو بلڈوز کرنے کے پس منظر میں وزیر اعظم جموں و کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں،جس کو تباہ کرنے میں انہوں نے کوئی موقع نہیں چھوڑا۔ محبوبہ مفتی نے کہا’’جموں و کشمیر ریاست کو مرکزی زیر انتظام خطے میں تبدیل کردیا گیا ہے، ملازمین کو برطرف کیا جا رہا ہے، مقامی لوگوں کو نظر انداز کر کے باہر کے لوگوں کویہاں روزگار دیاجارہاہے اورجموں و کشمیر کے لوگوں کا مستقبل تباہ کر دیا گیا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکز کی طرف سے بلڈوزنگ کا عمل جموں و کشمیر میں سب سے پہلے شروع کیا گیا تھا، سابق ریاست جموں و کشمیر  کے آئین اورجمہوریت کو بلڈوز کیا گیا تھا۔جموں و کشمیر میں انتخابات کے انعقاد کے بارے میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے تاثرات کے بارے میں پوچھے جانے پر، انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی تک انتخابات کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ، “جموں و کشمیر میں ہر چیز کو فروخت کرنے کے بیچ ، انتخابات کے بارے میں خبریں ہم نے نہیں سنی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی نے اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کو روک دیا ہے اور سیاسی عمل کو ختم کر دیا ہے۔