کیا پتہ کس موڑ پہ اب ڈگمگائے زندگی!
گامِ آخر پہ ہے پہنچی اب یہ پائے زندگی
دیکھنا ہے ساتھ کتنا اور نبھائے زندگی
عظم میں اسکے تھا شامل دستِ قدرت کا کمال
پار کرتے ہم گئے سب گام ہائے زندگی
زندگی کو گو نہیں عالم میں ہے حاصل دوام
رقم اسکے زائچے میں ہے شام ہائے زندگی
خیر و شر جو کچھ کیا ہو آخرش آئیگا کام
وقتِ محشر اپنے سب جوہر دکھائے زندگی
بے بسی میں ہم نے اب تک ہیں گذارے شب وروز
کب تلک یہ بارِ غم کوئی اٹھائے زندگی
جیتے جی لب پہ نہیں لایا کبھی حرفِ سوال
ہم نے سوچا ہے یہی آخر مدعائے زندگی
دیکھتا آیا ہوں اب تک یہ فضائے ماہ وسال
چشم نم ہوتے ہوئے بھی مسکرائے زندگی
واسطہ ایسے بھی لوگوں سے پڑا دوران زیست
بغض و کینہ اُن کی عداوت کب تک بُھلائے زندگی
اے غسالو! کس لئے کرتے ہوئے مجھکو برہنہ
وقتِ آخر رہنے دو تن پہ رِدائے زندگی
چھوڑ عُشاقؔ للہ اب یہ فکرِ نا تمام
کیا پتہ کس موڑ پر اب ڈگمگائے زندگی
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
زندگی
مسکراتی رہی کھلکھلاتی رہی
اور سیٹی وہ میری بجاتی رہی
میں نے اس کے لئے کیا نہیں کچھ کیا
غم وہ دیتی رہی دل دُکھاتی رہی
جیسے جیسے مری عمر ڈھلتی رہی
ویسے ویسے مجھے منہ چڑاتی رہی
دل کے ارمان دل میں مرے رہ گئے
آرزو خواب میں کسمساتی رہی
اس کی زلفوں کو میں نے سنوارا بہت
وہ جھڑکتی رہی منہ بناتی رہی
رشتے ناطے سبھی مطلبی ہوگئے
در بدر وہ یہی گنگناتی رہی
چاند سورج کی دنیا میں تنہا ہوں میں
یہ حقیقت وہ ہر دم بتاتی رہی
اپنی رعنائیاں اپنی زیبائیاں
ندویؔ صاحب کو ہر دم دکھاتی رہی
عبد السبحان ندوی
پمنتلا سٹریٹ کولکتہ
موبائل نمبر؛9831452849
رضا
مجھے کیا خبر تھی کہ یہ جذبہ رضا
کا عبادت کا درجہ پا جائے گا۔
مجھے کیا خبر تھی کہ اپنی
روح کا ایک حصہ
مجھ سے جدا ہو جائے گا۔
مجھے کیا خبر تھی کہ اپنی
سب سے عزیز امانت کو
تقدیر کے سپرد کرنا
پڑ جائے گا۔
دل نے بہت چاہا
کہ اسے ہمیشہ تھامے رکھوں،
مگر تقدیر کے فیصلوں کے آگے
سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑا۔
تب جا کر یہ حقیقت سمجھ آئی:
جو اللہ کو راضی کرے،
وہی میری رضا ہے،
وہی میرے دل کا سکون،
اور وہی میری نجات ہے۔
دانش بشیر
خوشی پورہ،ایچ ایم ٹی،سرینگر