نظم
آؤ بیتے خواب میں
آؤ بیتے خواب میں
چوڑیاں اتار کر
ہم جو بانہیں کھولے ہیں
چاک پیرہن کئے
کروٹوں کی خاک پر
چادریں رلائیں گے
ہچکیاں جگائیں گے
نیند کو سلائیں گے
مل کے گیت گائیں گے
تتلیوں کے باغ میں
دھوپ کی بساط پر
ابرِ غم پکار کر
بارشیں بچھائیں گے
تتلیوں کے ساتھ ساتھ
ہم بھی بھیگ جائیں گے
آگ پھر جلائیں گے
ہجر کی یہ کپکپی
درد کی اذییتیں
آرزو کی عادتیں
وقت کی یہ بے بسی
پُر گمان کروٹیں
جتنی ساری فائلیں
ہجر ساعتوں کی ہیں
مل کے ہم جلائیں گے
خوب مسکرائیں گے
راکھ جب اڑائیں گے۔۔
آؤ بیتے خواب میں
خود کو بھول جائیں گے۔۔۔۔۔۔!!!!!!
علی شیدا ؔ
نجدون نیپورہ اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
ماں باپ
کیا کہوں کس کس طرح مجھ کو سنبھالا باپ نے
کیسے سینچا مجھ کو اور کیسےسنوارا باپ نے
ماں نے اپنی گود میں تعلیم دی، کی تربیت
راستہ اسکول و کالج کا دکھایا باپ نے
حوصلہ کانٹوں بھرے رستے پہ چلنے کا دیا
جب چبھا پائوں میں کانٹا تو نکالا باپ نے
ماں نے گھر آنگن میں رہنے کے سلیقے دے دیئے
آشنا باہر کی دنیا سے کرایا باپ نے
ماں نے چلنا اپنے آنگن میں سکھایا تھا مگر
گھر کے باہر کیسے چلنا ہے بتایا باپ نے
ماں نے رکھا دور کانٹوں سے مجھے ہر پل مگر
مشکلوں سے کھیلنا مجھ کوسکھایا باپ نے
تربیت میں میری مجھ پر توڑ دیں چھڑیاں مگر
شفقتوں کاپھر ترت دریا بہایا باپ نے
پیار، ہمدردی، وفا، ایثار کا پیکر بنوں
زیور اخلاق سے ایسا سنوارا باپ نے
بارہا توڑا ہے میں نے باپ کے دل کو مگر
معاف کرکے پھر مجھے دل میں بسایا باپ نے
کھیلنا لفظوں سے میں نے ماں سے سیکھا تھا مگر
بات جملے پر جو آئی تو سنبھالا باپ نے
ماں نے لفظوں کے مرے دامن میں موتی بھر دیئے
اور پرونا ان کوجملوں میں سکھایا باپ نے
میں شریر النفس بچّوںکے بھی سائے سے بچوں
ساتھ مجھ کو اس لئے اپنے کھلایا باپ نے
دے سکیں بچوں کو اپنے ایک دنیائے بہار
فرض اپنی پرورش کا یوں نبھایا باپ نے
کاش! میری ذات ہو اس خواب کی تعبیر اب
خواب جو آنکھوں میں اپنی ہے سجایا باپ نے
تربیت کی برسوں ٹھنڈی آگ میں جھونکا مجھے
مثلِ کندن اس طرح مجھ کو بنایا باپ نے
نام روشن کرنے کی روشن تھی جس میں آرزو
مجھ کو بچپن میں وہ نغمہ تھا سنایا باپ نے
مجھ کو روشن ایک دنیا دے سکیں بس اس لئے
مثل شمع خود کو پل پل ہے جلایا باپ نے
چھو سکوں، چھوتا چلاجائوں سبھی اونچائیاں
اس لئے بچپن میں کاندھے پر بٹھایا باپ نے
کیا چکا پائو گے قیمت اس پسینے کی ثناؔ
جو تمہاری پرورش میں ہے بہایا باپ نے
ثناءاللہ ثناؔ دوگھروی
اعتراف
حلقہ نشاطؔ میں جب سے مرا جان ہوا
ذہنِ کمتر میں سلیقۂ شعر پھر آنا ہوا
کس طرح سے شعر کی تشکیل ہونی چاہئے
یہ خزینۂ علم ممکن اُن سے ہی پانا ہوا
چھا گئی جب قلبِ ناداں میں فضائے اعتماد
بزمِ شعرأ میں مرا پھر آنا اور جانا ہوا
رفتہ رفتہ جہدِ کامل کو رکھا پھر برقرار
تب کہیں پھر مجھکو حاصل گوہر یک دانہ ہوا
گو ابھی پہنچا نہیں میں منزلِ مقصود تک
پھر بھی مجھک زعم ہے ہُوں قدرِ پہچانا ہوا
مُدتوں روئی ہے نرگسؔ اپنی بے نوری پہ دوست
سحر ہوتے ہی نصیبوں میں اُسے نُورانہ ہوا
صحبتِ نشاطؔ کا ہی ہے یہ کرم و التفات
پھر درِ آزادؔو منشاؔ تک میرا جانا ہوا
جب بطورِ اک سپاہی بھرتی ہوا میں فوج میں
پھر حدودِ ہندوستان میں جابجا جانا ہوا
کاملانِ سُخن کے یوں روبہ رو چہرے ہوئے
فیض اُن کی صحبتِ صالح کا پھر پانا ہوا
باوجود اس کے بھی اپنا قدومد بونا لگے
البتہ منزل کو اپنی ممکن مرا پانا ہوا
ہے مجھے اپنی جگہ پر عُشاقؔ کمتر اعتراف
شعر گوئی کے عمل میں اب میں کچھ سیانا ہوا
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
اُمید
وہ سرد راتیں ،ٹوٹا ہوا میں
خود سے کیوں تھا اتنا روٹھا ہوا میں
تھا میں روٹھا کہ ایک امید تھی،
امید تھی نااُمید نہ ہونے کی
امید تھی حسین لمحوں کے آنے کی
امید تھی کبھی غمگین نہ ہونے کی
امید تھی اپنوں کے ساتھ رہنے کی
پر یہ امید کیوں، یقین کیوں نہیں
یقین رکھ نہیں سکتے یہ تسلیم کیوں نہیں
پھر سے جو ساتھ تھے سب بچھڑ جائیں گے
مسکرائیں گے،پھر کہیں اور جی لگائیں گے
کس نے سوچا تھا دن ایسے اُبھر آئیں گے
یاد ہے گھر کی اور گھر سے نکل آئیں گے
آج وہ آشیانہ ہے، گھر نہیں کہلائے گا
کیا وقت اُس گھر کو پھر گھر بنائےگا؟
ناصر حسین
دراس، لداخ
موبائل نمبر؛7889386531