اسلام آباد//پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اور موسلادھار بارشوں کے دوران 1033 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں دریاؤں اور ندیوں کے کنارے آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ پاکستان میں سیلاب سے تین کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہیںاور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیںتاہم سیلاب متاثرین کی جانب سے امداد کے حوالے سے شکایتیں بھی سامنے آرہی ہیں۔دریا سوات کے سیلابی پانی سے لکڑیاں جمع کرتے ہوئے 65 افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے جبکہ پاکستانی فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 22 افراد کو ریسکیو کرلیا۔ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ میں 43 افراد دریائے سوات کے بیچ پھنس گئے ہیں اور کئی گھنٹوں سے ریسکیو کے منتظر ہیں۔گاشکوڑ کے مقام پر 40 سے زائد افراد اس وقت بھی دریا کے بیچ جزیرہ نما جگہ پر موجود ہیں۔ ’دریائے سوات میں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ کیوسک سے زیادہ ہے، اگر ان افراد کو ریسکیو نہ کیا گیا تو کوئی ناخوش گوار واقعہ بھی پیش آسکتا ہے۔‘جمعے سے اب تک ہم نے 212 افراد کو دفعہ 188 کے تحت گرفتار کیا ہے کیونکہ منع کرنے کے باوجود یہ لوگ لکڑیاں نکالنے کے لیے دریا کے قریب چلے جاتے ہیں۔‘ خیال رہے کہ ضلع چترال کے علاقے شیشیکوہ میں بھی سیلابی ریلے سے لکڑیاں نکالتے ہوئے پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 15 سے زائد افراد کو ریسکیو کرلیا گیا تھا۔اس دوران