جموں //سابق نائب وزیراعلیٰ اور بھاجپا رہنما کو جموں کشمیر سپیشل ٹریبونل نے اُس وقت بڑی راحت دی جب اُس نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اُس حکم کو التوا میں رکھا،جس میں جموں کے مضافات میں پروفیسر نرمل سنگھ کی طرف سے تعمیر کئے گئے مکان کو پانچ روز کے اندر منہدم کرنے کاحکم دیا گیا تھا۔راجیش سیکری کی قیادت میں عدالتی بنچ نے حکم دیا کہ 5نومبر کو جاری کیاگیا آرڈر التوامیں رکھاجائے اورفریقین کو 7دسمبر تک جوں کی توں پوزیشن برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی۔سپیشل ٹریبونل نے سنگھ کو یہ راحت اُن کی اہلیہ ممتاسنگھ کی اپنے وکلاء کی طرف سے پیش کی گئی درخواست پردی،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ چار کنال اراضی جو20مئی2014کوخریدی گئی تھی،کی مالکہ ہیں اوریہ اراضی جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حدود سے باہر ہے ۔ان کے وکیل نے کہا کہ مکان کی تعمیرکی جو2017کے اوئل میں مکمل بھی ہوئی۔ انہوںنے مزیدکہا کہ کچھ اندرونی زیبائش کے کام کے بعد درخواست دہندہ کنبے کے ہمراہ مکان میں منتقل ہوئی اور وہ تب سے اسی مکان میں رہ رہے ہیں ۔مکان کی تعمیر کے دوران اور اس کے بعدڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کوئی شکایت نہیں آئی اور یہ سب جموں ماسٹر پلان کے نافذ ہونے سے پہلے ہواتھا۔