ابوجا//نائجیریا میں کسانوں اور مویشی پالنے والوں میں خوں ریز جھڑپ کے نتیجے میں 86 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق ہنگامہ کے دوران 50گھر، 15موٹر سائیکلیں اور 2 گاڑیاں بھی نذر آتش کر دی گئیں، خوںریز تصادم کے بعد پلیٹیو ریاست کے مختلف علاقوں میں کرفیونافذکر دیاگیا۔ دوسری جانب صدر محمد بوہاری نے متحارب قبائل سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے ۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جھگڑا جمعرات کوشروع ہوا تھا جب نسلی نیروم کسانوں نے نسلی فیلومی مویشی پالنے والوں پر حملہ کرکے ان کے 5 افرادکو ہلاک کردیا جبکہ جوابی حملوں میں مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ علاقہ زمینوں پر دہائیوں پرانے قبائلی تصادم کی تاریخ رکھتاہے ۔ریاست میں یہ بدامنی کی فضا بیروم کسانوں پر ہفتہ کے روز بظاہر انتقامی حملے میں 86 افراد کی ہلاکت کے بعد قائم ہوئی، جس کا الزام خانہ بدوش فْلانی چرواہوں پر لگایا گیا تھا۔نائیجیریا کی حکومت نے پہلے اس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کو دبانے کی کوشش کی، لیکن پیر کے روز سوشل میڈیا میں کئی مقامی بیروم گروپس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔پلیٹو کے دارالحکومت جوز کے ایک مسیحی خیراتی گروپ ’اسٹیفانَس فاؤنڈیشن‘ نے چھ دیہاتوں میں حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 169 بتائی۔تاہم ہلاک والوں کی تعداد کے حوالے سے آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔یو این آئی