ریاستی درجہ کوئی احسان نہیں بلکہ عوام سے کیا گیا ایک سنجیدہ وعدہ جو وفا ہونا چاہئے:سریندر چودھری
عظمیٰ نیوزسروس
جموں //جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئررہنما اورنائب وزیراعلیٰ وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے کہا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کا سب سے اہم مطالبہ بن چکا ہے اور پارٹی کی جانب سے 20جولائی کو مجوزہ’’دہلی چلو‘‘ احتجاج مرکز کی جانب سے اپنے وعدے کی تکمیل میں مسلسل تاخیر کے خلاف ایک فیصلہ کن اقدام ہوگا۔بدھ کے روز ادھم پور میں ضلع صدر اربن سنیل ورما کی صدارت اور کٹرہ میں ضلع صدر ریاسی راج کمار شرما کی صدارت میں منعقدہ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئےسریندر چودھری نے کہا کہ یقین دہانیوں کا وقت گزر چکا ہے اور اب عملی اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کی بحالی کی تحریک میں بھرپور شرکت کریں۔انہوں نے کہا، “مرکزی حکومت مسلسل ‘مناسب وقت کی مبہم اصطلاح کے پیچھے چھپ رہی ہے، لیکن آخر یہ مناسب وقت کب آئے گا؟ حد بندی (ڈیلیمیٹیشن) مکمل ہو چکی ہے، 2024 میں اسمبلی انتخابات بھی منعقد ہو چکے ہیں، حکومت ہند کی جانب سے پیش کی گئی تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں، سوائے اس وعدے کے جو ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق کیا گیا تھا‘‘۔انہوں نے ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر کو “غیر منصفانہ اور غیر جمہوری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اپنی منفرد جغرافیائی، تاریخی اور انتظامی خصوصیات کے باعث ایسے مرکز کے زیر انتظام خطے کے ماڈل کے تحت مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا جہاں منتخب حکومت کے اختیارات محدود ہوں۔انہوں نے کہا، “ایک ہی طرز کا نظام جموں و کشمیر پر لاگو نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک تاریخی ریاست ہے، کوئی انتظامی تجربہ گاہ نہیں۔ یہاں کے عوام ایسی حکومت کے مستحق ہیں جس کے پاس حقیقی اختیارات ہوں، نہ کہ صرف عہدے پر فائز ہونے کا اختیار‘‘۔سریندر چودھری نے کہا کہ ریاستی درجے سے مسلسل محرومی نے وفاقی تعاون (Cooperative Federalism) کے جذبے کو کمزور کیا ہے اور عوام کو درپیش انتظامی مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہا، “جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کو ہمیشہ کے لیے سرد خانے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ریاستی درجہ کوئی احسان نہیں بلکہ عوام سے کیا گیا ایک سنجیدہ وعدہ ہے، اور وعدے پورے کیے جانے چاہئیں‘‘۔اس موقع پر نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر جموں رتن لال گپتا نے بھی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 12 جولائی کو جموں میں منعقد ہونے والی عظیم الشان ریلی کو تاریخی کامیابی سے ہمکنار کریں، جو 20جولائی کو جنتر منتر، نئی دہلی میں ہونے والے “دہلی چلو‘‘ احتجاج کی تیاری کا حصہ ہوگی۔انہوں نے کہا، “اسمبلی انتخابات کے بعد ہم تقریباً 18ماہ تک صبر سے انتظار کرتے رہے، لیکن ہمارے صبر کو ہماری رضا مندی نہ سمجھا جائے۔ جموں و کشمیر کے عوام اب اپنے آئینی حقوق کے لیے پُرامن اور جمہوری انداز میں آواز بلند کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔رتن لال گپتا نے کہا کہ جموں و کشمیر کی وسیع ترقیاتی ضروریات اور سابق ریاست ہونے کے باوجود اسے اب بھی ایسے انتظامی نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے جو عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔انہوں نے مزید کہا’’12جولائی کی ریلی جموں سے ایک واضح اور دوٹوک پیغام دے گی کہ ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کسی بھی صورت قابلِ سمجھوتہ نہیں۔ یہ ریلی پارٹی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کو 20 جولائی کے دہلی مارچ کے لیے متحرک کرے گی، جہاں جموں و کشمیر کی آواز پوری قوت کے ساتھ بلند کی جائے گی‘‘۔