میونسپل کونسل کی صدارت سے راجیہ سبھا تک میر کا سیاسی سفر اتار چڑھاؤ سے عبارت، اسمبلی جانا ہنوز ایک خواب

 بلال فرقانی

سرینگر//پارلیمان کے ایوان بالایعنی راجیہ سبھا کے سابق رکن میر محمد فیاض کاروباری گھر کے فرزند ہیں،جن کا تعلق شمالی ضلع کپوارہ کے ضلع صدر مقام قصبہ کپوارہ کے کے گالی زو علاقے سے ہے۔ ریاستی اسمبلی میں حلقہ انتخاب کپوارہ سے دو بار الیکشن میں ناکامی کے بعد انہیں 2019 اسمبلی الیکشن میں قلیل ووٹوں سے ہارنے پر راجیہ سبھاممبری سے نوازا گیااوراس دفعہ وہ پی ڈی پی کی ٹکٹ پر انتہائی اہم شمالی کشمیر کی پارلیمانی نشست سے چنائو لڑ رہے ہیں۔
گھر سے سیاست تک
میر محمد فیاض کی پیدایش ایک زمیندار گھرانے میں47برس قبل محمد شبیر میر کے گھر میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے 12ویں جماعت کا امتحان پاس کیا اور ذاتی روزگار کی تلاش میں جٹ گئے۔ میر محمد فیاض نے ٹرانسپورٹ شعبے میں قسمت آزمائی کی اور ایک کامیاب ٹرانسپوٹر کی حیثیت سے قصبے میں معروف ہوئے۔ میر محمد فیاض قصبے میں ایک نوجوان لیڈر کی حیثیت سے ابھرے اور اپنے حلقے میں مشہور ہوئے۔انتہائی سادہ طبیعت کے مالک میر محمد فیاض ان سیاست دانوں میں شامل ہیںجو بہت قلیل سیاسی سفر میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا تک پہنچ گئے۔
سیاسی سفر
میر محمد فیاض نے سال2005میں کپوارہ سے سیاسی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے میونسپل انتخابات میں کپوارہ کے وارڈ نمبر11سے شرکت کی اور کامیابی بھی حاصل کی۔انہیں بعد میں میونسپل کمیٹی کپوارہ کا صدر منتخب کیا گیا۔ سال2007میں انہوں نے پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی،جس کے بعد2008کے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی کی جانب سے انہیں کپوارہ سے امیدوار نامزد کیا گیا۔ میر محمد فیاض تاہم الیکشن میں اپنے مد مقابل نیشنل کانفرنس کے میر سیف اللہ سے5182ووٹوں سے الیکشن ہار گئے۔میر سیف اللہ نے16ہزار696جبکہ میر محمد فیاض نے11ہزار514ووٹ حاصل کئے۔ میر محمد فیاض سال2014کے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی کی جانب سے پھر امیدوار نامزد ہوئے تاہم ان انتخابات میں انہوں نے ماضی کے مقابلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے نزدیکی مد مقابل اور پیپلز کانفرنس امیدوار بشیر احمد ڈار سے محض151ووٹوں کے فرق سے شکست کھائی۔ بشیر احمد ڈار نے24ہزار754جبکہ میر محمد فیاض24ہزار603ووٹ اپنی جھولی میں ڈالنے میں کامیاب ہوئے۔بہت کم و قلیل ووٹوں سے ہارنے اور انکی کارکردگی پر اس وقت جموں کشمیر میں پی ڈی پی اور بھاجپا کی مخلوط سرکار کے دوران میر کو فروری2015میںپارلیمنٹ کے ایوان بالایعنی راجیہ سبھا کیلئے ممبر نامزد کیا گیا،جہاں پر وہ فروری2021تک رکن رہے۔ میر محمد فیاض نے فروری2021میں پی ڈی پی سے علیحدگی اختیار کی اور اگست2021میں پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی۔ پیپلز کانفرنس میں قریب2برسوں تک رہنے کے بعدستمبر2023میں پیپلز کانفرنس کو بھی الوداع کرتے ہوئے کہا ’’ کچھ گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے میں نے خود کو متحرک سیاسی مصروفیات سے دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ میر محمد فیاض نے’’پہنچی وہیں یہ خاک جہاں کاخمیر تھا‘‘ کے مصداق24 مارچ2024 کو ایک مرتبہ پھر پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے فوراً بعد پی ڈی پی نے میر محمد فیاض کو شمالی کشمیر کے پارلیمانی انتخابات میں بارہمولہ حلقے سے اپنا امیدوار نامزد کیا۔
جائیداد
میر محمد فیاض کے پاس15لاکھ11ہزار روپے کی جائیداد ہے جس میں10ہزار روپے انکے پاس دردست ہیں جبکہ13لاکھ70ہزار روپے کی مہندرا ایکس یو وی۔500کے علاوہ مختلف بنکوں میں41ہزار روپے جمع ہیں۔انکی شریک حیات کا بنک کھاتہ خالی ہے جبکہ انکے پاس12لاکھ15ہزار روپے کے سونے کے زیورات ہیں۔میر محمد فیاض پر منحصر کنبے کے دیگر ولوگوں کے پاس18ہزار روپے ہیں جو انکے بنک خاتوں میں جمع ہیں۔میر محمد فیاض کے پاس گلی زو کپوارہ میں8لاکھ56ہزار روپے مالیت کی آبائی زرعی اراضی بھی ہے جبکہ گلی زو کپوارہ میں50لاکھ روپے مالیت کا ایک موروثی رہائشی مکان معہ اراضی بھی ہے۔ انکی مجموعی جائیداد 86لاکھ 78ہزار 920روپے کی ہے جبکہ وہ کسی بھی مالی ادارے یا بنک کے مقروض نہیں ہیں۔