سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے لالچوک چلو کال کے پیش نظرمیرواعظ عمر فاروق نے اپنی رہائش گاہ سے باہر جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔ میرواعظ نے کہا کہ حکمرانوں نے روایتی حربہ استعمال کرکے شہر میں کرفیو، قدغنوں، اور بندشوں کا نفاذ کرکے پر امن احتجاجی دھرنے کے پروگرام کو ناکام بنانے کی مذموم کوشش کی ۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے دلوں کی دھڑکن اور من کی بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے ایک جائز جدوجہد میں مصروف عمل ہیں اور ان کی یہ جدوجہد سیاسی مراعات ، مفادات کیلئے نہیں ہے اور نہ ہی کشمیر کا مسئلہ کوئی امن و قانون یا بجلی ، پانی یا سڑک کا مسئلہ ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ اگر حکومت ہند یہ محسوس کرتی ہے کہ فوجی اپروچ سے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکتا ہے تو یہ اسکی شدید غلط فہمی ہے کیونکہ یہ سیاسی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی طور پر ہی کشمیری عوام کی مرضی اور امنگوں کے مطابق حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ واقعی اگر مودی سرکار سنجیدہ ہے اور وہ حقیقت سننا چاہتی ہے تو یہ واقعہ ہے کہ رواں تحریک میں کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوان شامل ہو رہے ہیں ۔