سرینگر//فوجی سربراہ کی جانب سے مجرم ثابت ہونے پر میجر گگوئی کو عبرتناک سزا دینے کے بیان کے فوراً بعد فوج نے اس واقعہ کی کورٹ آف انکوائری کرنے کا حکم دیا ہے۔واضح رہے خانیار پولیس نے میجر گگوئی، انکے ایک کم عمر دوشیزہ اور ایک مقامی فوجی اہلکار کو گرفتار کیا تھا۔ایک سنیئر آفیسر کا کہنا ہے ’’ آگے کی کارروائی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے ثبوتوں کی بنا پر کی جائیگی‘‘۔اس اعلان کے فوراً بعد میجر گگوئی کے خلاف کورٹ آف انکوائری کا حکم صادر کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ بدھ کو سرینگر کے کہنہ کھن ڈلگیٹ میں واقع ایک ہوٹل میں گگوئی نے آن لائن بکنگ کرکے ہوٹل کی دوسری منزل پردو کمرے بھی بک کرائے تھے۔جب وہ ایک کم عمر لڑکی کیساتھ وہاں پہنچا تو ہوٹل عملہ کو اپنا آدھار دکھایا اور انڑی کرنے کی کوشش کی، لیکن کشمیری لڑکی دیکھ کر ہوٹل عملے کو اس پر شبہ ہوا اور انہوں نے کمرہ دینے سے انکار کیا۔ہوٹل کے باہر وسیم ملہ نامی ایک اور فوجی اہلکار انتظار کررہا تھا،اس دوران وہ بھی ہوٹل میں داخل ہوا۔اس موقعہ پر ہوٹل عملے اور میجر و اسکے ساتھی کے درمیان زبردست تلخ کلامی ہوئی، اور فوراً ہی پولیس کو مطلع کیا گیا۔ پولیس نے میجر کا بیان لینے کے بعد انہیں یونٹ میں لوٹنے کی اجازت دیدی۔ گگوئی یہ صاف نہیں کرپائے کہ انہوں نے ہوٹل روم کیوں بک کیا تھا ۔اس دوران گگوئی کے ہمراہ ہوٹل میں مشکوک حالت میں حراست میں لی گئی دوشیزہ کی والدہ نے کہا کہ ایک رات میجر گگوئی ان کے ٹین شیڈ میں سادہ کپڑوں میں داخل ہوئے تو وہ بے ہوش ہوگئی تھی چک کاوسہ سے تعلق رکھنے والی دوشیزہ ایک ٹین شیڈ میں رہائش پذیر ہے۔2014کے تباہ کن سیلاب نے انکے مکان کو بہایا تھا۔دوشیزہ کے والد پیشہ سے مزدور ہیں،اور انکے4بچے ہیں،جبکہ گزشتہ روز جس دوشیزہ کو فوجی میجر کے ساتھ مختصر وقت کیلئے حراست میں لیا گیا،وہ انکی بڑی بیٹی ہے۔ دوشیزہ کی والدہ(نام مخفی) کا کہنا ہے ’’ میرے3بچے چھوٹے ہیں،اور ایک بیٹی17 برس کی ہے۔یہ مارچ کا مہینہ تھا جب ایک رات اچانک میجر گگوئی ایک مقامی نوجوان سمیر ملہ،جوکہ ایک فوجی ہے،کے ساتھ انکے ٹین کے شیڈ میں داخل ہوئے،میں خوف کے مارے بے ہوش ہوگئی،جبکہ فوجی میجر نے ہمارا حال پوچھا اور واپس چلے گئے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ میجر گگوئی اور سمیر ملہ اکثر رات کے دوران ہمارے مکان میں داخل ہوتے،جبکہ میجر گگوئی کی موجودگی سے میں،خوف و ہراس میں مبتلا ہوتی۔انہوں نے بتایا کہ سمیر میرے بیٹی کے ساتھ باتیں کرتا،جس سے مجھے شک ہوا،تاہم یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کو فوجی میجر کے ساتھ ہوٹل میں حراست میں لیا جائے گا۔ خاتون نے سمیر ملہ کو اس سارے واقعے کیلئے ذمہ دار قرار دیا۔ان کا کہنا تھا’’ یہ سمیر ہی تھا،جس نے فوجی میجر کو میرے گھر میں لایا اور میری بیٹی کو لالچ دی۔انہوں نے بتایا کہ میری دختر نے مجھے بتایا کہ میں جموں کشمیر بنک نارہ بل برانچ جا رہی ہوں،تاہم یہ میرے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا،جب مقامی سرپنچ کو خانیار تھانے سے فون کال موصول ہوئی،کہ اس کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے۔